سُلگتی راکھ کا منظر ہے روشنی کی صبُوح اندھیرا خوف کا پھوٹا ہے کس جہان سے یہ؟ کہ جس نے حَلق سے آواز تک چُرا لی ہے مگر یہ کون کہ معنیٰ اِسی سکوت سے لے کوئی غلام ہی ہو گا کہ چپ سمجھتا ہے صدا اُٹھائو کہ ہم سانس بھر تو جِی پائیں جو گروی رکھ دی ہے اک حبس کی تجوری میں عوض میں جس کے یہ کچھ بے وقار سانسیں لیں صدا کے کعبے کو مسمار اَبرہَہ نے کیا صدا بچانے ابابیل تک نہیں اُتری صدا اُٹھائو…
Read MoreCategory: آج کی نظم
ایک لڑکی ۔۔۔ امجد اسلام امجد
ایک لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گلاب چہرے پہ مسکراہٹ چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے وہ جب بھی کالج کی سیڑھیوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سہیلیوں کو لیے اُترتی تو ایسا لگتا تھا جیسے دل میں اُتر رہی ہو، کچھ اس تیقن سے بات کرتی تھی جیسے دنیا، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی کی آنکھوں سے دیکھتی ہو، وہ اپنے راستے میں دل بچھاتی ہوئی نگاہوں سے ہنس کے کہتی، ’’تمہارے جیسے بہت سے لڑکوں سے میں یہ باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت سے برسوں سے سن رہی ہوں، میں ساحلوں کی ہوا ہوں، نیلے سمندروں کے لئے بنی ہوں وہ ساحلوں کی…
Read Moreسید ضیا حسین ۔۔۔ ایک لڑکی
بین الاقوامی تعلقات میں گریجویشن کرتی ہوئی لڑکییہ تو جانتی ہو گیکہ اکثر دوستیاں دائمی نہیں ہوتیںیہ بنتی ہیں، بگڑتی ہیںبس مفادات کی خاطریہ دوستی تب تک ہی رہتی ہےجب تک کسی کو حاجت رہتی ہے کسی کیورنہ کچھ نہیںدوستی کے یہ بندھنپل میں ٹوٹ جاتے ہیںدوست بن جاتے ہیں دشمناور دشمن دوست بنتے ہیں یہ لڑکییہ بھی جانتی ہو گیکہ چھوٹوں کی تو کوئی مرضی نہیں ہوتیانھیں توچاہنا ہے بس وہ ہیجو چاہتے ہیں بڑے اُن کےانھیں تو کرنا ہے بس وہ ہیجو کہتے ہیں بڑے ان کےانھیں تو…
Read Moreفرحت عباس ۔۔۔ چراغ تعبیرِ معتبر
ابھی فضاؤں میں خواہشوں کے مسرتوں کے حسین بادل لطیف فردا کی کوکھ میں تھے ابھی بہاروں کے رنگ سارے چمن میں پنہاں نئی رُتوں کے پیامبر تھے ابھی پرندے سفرکی جانب اُڑے نہیں تھے ابھی سمندر محبتّوں کے بھی پُر سکوں تھے ابھی خیالوں کی دلکشی میں وہ خواب تعبیر بن رہے تھے کہ جن کی تعبیر مُعتبرتھی نئے ستاروں کی رہگذر تھی ابھی وفاؤں کے گلستاں میں خزاں کا کوئی نشاں نہیں تھا تو پھر یہ کس نے سکوں کے آنگن میں تیرگی کا غُبار چھوڑا اُداسیوں کا…
Read Moreخالق آرزو ۔۔۔ ’’مگر پھر لوٹ جاتے ہیں‘‘
کتنے انمول ہیں وہ آنسو جو آنکھوں سے نہیں بہتے دکھائی جو نہیں دیتے وہ آنسو جھیل کی سی گہری آنکھوں سے باہر نکلنے کو جب بہت بے چین ہوتے ہیں تو کوئی احساس ماضی کا انھیں آنکھوں کی سرحد پر یہ کہہ کر روک لیتا ہے ابھی تم نے نہیں بہنا وہ کہہ گیا تھا پہاڑوں پر برف پگھلنے تک میرا انتظار کر لینا بہت ہی خوبصورت ہیں وہ آنسو جو پانی کے کٹوروں کی طرح سے جھلملاتے ہیں وہ آنکھوں تک تو آتے ہیں مگر پھر لوٹ جاتے…
Read Moreنائیلہ راٹھور ۔۔۔ ماسک
مجھے بچپن میں جگنو پکڑنا بہت اچھالگتا تھا سرِ شام گھر سے نکل جاتی جلتی بجھتی قمقموں جیسی روشنیوں والے ٹمٹماتے جگنو مٹھی میں چھپا لیتی جلتی بجھتی روشنیاں ہتھیلیوں کو چھوتیں تو آنکھیں بھی ستاروں سے بھر جاتیں مگر اب جگنو کہیں کھو گئے ہیں زمیں کی کثافت سے ستارے بھی دھندلا گئے ہیں جذبے خلوص سے عاری ہیں شہر کے لوگ ماسک پہن کر باہر نکلتے ہیں فضا میں وقت نے کتنی کثافتیں بھر دی ہیں اس لیے احتیاط بہتر ہے اس سے پہلے کے آپ خود کو…
Read Moreنائیلہ راٹھور ۔۔۔نظم
گئے وقتوں میں ہم دوست ہوا کرتے تھے ایک دوسرے کے سنگ وقت بِتانے کے بہانے ڈھونڈتے رہتے پہروں بیٹھ کر نہ ہنسنے والی باتوں پر بھی ہنستے رہنا کتنا اچھا لگتا تھا پھر جانے کب سب وقت کے سیل رواں میں بہہ گیا جانے کہاں کھو گئے فرصت کے وہ روز وشب اور اب تو یہ عالم ہے کہ تمہارے فون کا نمبر بھی ذہن کی سلیٹ سے ڈیلیٹ ہو چکا ہے اگر کبھی سر راہ مل بھی جائوتو دل کو خوشی کے ساتھ ایک نامعلوم سی اجنبیت گھیر…
Read Moreقطرہ قطرہ ۔۔۔ فہمیدہ ریاض
قطرہ قطرہ ۔۔۔۔۔۔ قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیں اک آنسو اُس شخص کا، جو بے گانہ ہے اک آنسو اُس نام کا ، جو ہم لے نہ سکے اک آنسو اُس دُعا کو جو پوری نہ ہوئی ایک فضول سی بات کہ جو بے سود کہی (آنسو میرا خواب ، میں جس سے گھبراؤں آنسو میری مراد، جسے میں بہلاؤں ) اک آنسو آس چہرے کا جو یاد رہے آنکھوں کے رستے جو دل میں اُتر جائے اک آنسو اُس ٹھہرے ٹھہرے لہجے کا اک آنسو اُس جھوٹ…
Read Moreحمایت علی شاعر ۔۔۔ تناسخ
تناسخ ۔۔۔۔۔۔۔ جب ایک سورج غروب ہوتا ہے کم نظر لوگ یہ سمجھتے ہیں اب اندھیرا زمیں کی تقدیر ہو گیا ہے زمانہ زنجیر ہو گیا ہے انہیں خبر کیا کہ مہر و ماہ و نجوم سارے تو روشنی کے ہیں استعارے طلوع کا دل فروز منظر غروب کا دل شکن نظارہ ازل سے اس روشنی کا پر تو ہے جو مسلسل سفر کے عالم میں ہر مکاں، لامکاں کو اپنے جلو میں لے کر رواں دواں ہے یہ رات اور دن ہر ایک ظاہر، ہر ایک باطن ہر ایک…
Read Moreثمینہ راجا
سامر ۔۔۔۔۔ جادو اثر ہے جو بھی تُو تسبیح پر پڑھتا ہے صبح و شام میرے سامنے آنکھوں میں تیری سِحر ہے آواز میں ہے ساحری تیرے بدن کے آبنوسی رنگ میں ہے وہ کشش جو مجھ کو پاگل کر گئی چہرہ ترا ۔۔۔ بچپن سے میرے خواب میں آتا رہا ماتھے پہ کالی زلف کی یہ اُلجھی لٹ میرے پریشاں دل سے الجھی ہی رہی نظروں میں منڈلاتی رہیں چوڑی بھنویں اور گہری آنکھیں میرا رستہ روکتی آنکھیں تری جادو بھری یکساں نظر سے خوں کی اک اک بوند…
Read More