ادا جعفری

اس شعر میں ادا جعفری نے ہوائے مست و مدہوش کو اس دلآویز انداز سے مصور کیا ہے گویا فطرت خود ساغر و مینا تھامے، کیف و نشاط کا جام لُٹا رہی ہو۔
یہ صرف بادِ نسیم کی خرامی نہیں، بلکہ روحِ کائنات کی نازنیں سرشاری ہے جو اپنے جلو میں وجدانی مسرّت، جمالی لطافت، اور حیات آفرینی لیے بہہ رہی ہے۔
شاعرہ کی نگاہِ حسّاس نے موسم کے معمولی جھونکوں کو عالمِ وجدان کی شرابِ ناب میں بدل کر پیش کیا ہے، جہاں فطرت کی ہر سانس گویا رقصِ لطافت بن گئی ہو۔
یہ شعر محض موسم کی منظرکشی نہیں بلکہ باطنی سرمستی اور نسائی شعورِ جمال کا ایک لطیف اظہاریہ ہے، جو قاری کو کیف و سکوت کے حسین کنارے پر لا کھڑا کرتا ہے۔
ادا جعفری کی شعری حسیّت یہاں نازک خیالی، رمز و کنایہ، اور باطن افروزی کے اعلیٰ نمونے کے طور پر جلوہ گر ہے، جہاں ہر لفظ مچلتی خوشبو کی مانند قاری کی روح پر دستک دیتا ہے۔

Read More

نجیب احمد

رکوں تو حجلۂ منزل پکارتا ہے مجھے قدم اٹھاؤں تو رستہ نظر نہیں آتا

Read More