سینہ کاوی میں اپنے ناخن سے رشکِ فرہاد ہو گیا ہے دل
Read MoreCategory: بیت بازی
محسن اسرار
اُسے بتاؤ کہ محسنؔ ابھی میں زندہ ہوں رگوں میں خون بھی ہے ہڈیوں پہ ماس بھی ہے
Read Moreراحت اندوری
راحت اندوری کا یہ شعر تعلیم یافتہ نوجوانوں کی خاموش بے بسی اور نظامِ معاش کی بےحس بیکاری کا علامتی و احتجاجی اظہاریہ ہے۔
Read Moreادا جعفری
اس شعر میں ادا جعفری نے ہوائے مست و مدہوش کو اس دلآویز انداز سے مصور کیا ہے گویا فطرت خود ساغر و مینا تھامے، کیف و نشاط کا جام لُٹا رہی ہو۔
یہ صرف بادِ نسیم کی خرامی نہیں، بلکہ روحِ کائنات کی نازنیں سرشاری ہے جو اپنے جلو میں وجدانی مسرّت، جمالی لطافت، اور حیات آفرینی لیے بہہ رہی ہے۔
شاعرہ کی نگاہِ حسّاس نے موسم کے معمولی جھونکوں کو عالمِ وجدان کی شرابِ ناب میں بدل کر پیش کیا ہے، جہاں فطرت کی ہر سانس گویا رقصِ لطافت بن گئی ہو۔
یہ شعر محض موسم کی منظرکشی نہیں بلکہ باطنی سرمستی اور نسائی شعورِ جمال کا ایک لطیف اظہاریہ ہے، جو قاری کو کیف و سکوت کے حسین کنارے پر لا کھڑا کرتا ہے۔
ادا جعفری کی شعری حسیّت یہاں نازک خیالی، رمز و کنایہ، اور باطن افروزی کے اعلیٰ نمونے کے طور پر جلوہ گر ہے، جہاں ہر لفظ مچلتی خوشبو کی مانند قاری کی روح پر دستک دیتا ہے۔
محشر بدایونی
حبس چھٹ جائے، دیا جلتا رہے گھر بس اتنا ہی ہوادار اچھا
Read Moreادا جعفری
وہ آئیں گے تو آئیں گے جنونِ شوق ابھارنے وہ جائیں گے تو جائیں گے خرابیاں کیے ہوئے
Read Moreنجیب احمد
رکوں تو حجلۂ منزل پکارتا ہے مجھے قدم اٹھاؤں تو رستہ نظر نہیں آتا
Read Moreخالد احمد
مجھے بسنے نہ دے خالد مگر دستک تو دینے دے ترا دَر بن سکے گا میرا گھر آہستہ آہستہ
Read Moreجوش ملیح آبادی
یہ مانا دونوں ہی دھوکے ہیں رندی ہو کہ درویشی مگر یہ دیکھنا ہے کون سا رنگین دھوکا ہے
Read Moreمحسن نقوی
میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں
Read More