میں اس بدن میں اتر جاؤں گا نشے کی طرح وہ ایک بار اگر پھر پلٹ کے دیکھے گا
Read Moreمولانا حسرت موہانی
ہے مشقِ سخں جاری چکی کی مشقت بھی اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی
Read Moreفراق گورکھپوری
کہوں یہ کیسے ادھر دیکھ یا نہ دیکھ ادھر کہ درد درد ہے پھر بھی نظر نظر پھر بھی
Read Moreمحسن اسرار
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں مگر نہیں ہیں ہم ہمارا گھر ہے مگر اس میں کیا ہمارا ہے
Read Moreادا جعفری
یہ شعر ادا جعفری کی گہری داخلی بصیرت، نسائی وقار، اور شعری نفاست کا آئینہ دار ہے۔ شاعرہ نے یہاں محبت کے غیر اعلانیہ اظہار اور باطن کے آشوب کو چشمِ نم یعنی اشک آلود آنکھ کے استعارے میں سمو کر دل کی نرمی کو وقار کا پیرایہ عطا کیا ہے۔
Read Moreراحت اندوری
شاعر نے خود کو اس درجہ تنہا، سرد اور بےحس پایا کہ وجود ہی کمبل بن گیا، جذبات کی گرمی مفقود ہو چکی۔
یہ مصرع ایک ایسے باطن کی ترجمانی ہے جہاں رضا، راحت اور رفاقت سب خواب ہو چکے ہوں۔
ارشد محمود ارشد ۔۔۔ دو غزلیں
عمر گزری ہے اسی طور ہماری ساری زندگی خاک نشینی میں گزاری ساری بغض و نفرت کا کوئی سانپ نہ پالا دل میں دیکھ چاہت سے بھری یار پٹاری ساری میں تجھے اس کی وکالت سے کہاں روکتا ہوں تو نے دیکھی ہی نہیں کار گزاری ساری میں نے ہی دام میں آ کر ہے عیاں تم کو کیا ورنہ سازش تو سمجھ لی تھی تمہاری ساری دینے والے کی رضا ہے کہ وہ کب دیتا ہے اپنی سانسیں بھی تو ہیں یار اُدھاری ساری لوگ جو دہر کمانے میں…
Read Moreندیم ملک ۔۔۔ دو غزلیں
ناز نخروں سے جو پلی ہوئی ہے اسی پاگل سے دل لگی ہوئی ہے پاؤں زخمی ہوئے ہیں پانی میں کیسی نادان زندگی ہوئی ہے آپ سے کوئی واسطہ نہیں تھا آپ نے پھر بھی بات کی ہوئی ہے شہر میں نام گونجتا ہے مرا آپ سے جب سے دوستی ہوئی ہے پھول ، اور سنگ و خشت ہیں یکجا آئنے میں نظر کری ہوئی ہے رنگ تتلی کے ہو گئے مدھم چاند پر آنکھ جم گئی ہوئی ہے میری چادر میں چھید تھے پھر بھی آپ نے سر پہ…
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔۔ ذرا سوچ لو یہ
ذرا سوچ لو یہ ۔۔۔۔ جو تم نے سمیٹا نہیں مجھ کو اس زندگی میںجو میں روزہی اس طرح سے بکھرتا رہا تو تمہیں ایک زحمت بہت جلد کرنا پڑے گی ذرا سوچ لو یہ ، مری خاک کو تُم سمیٹو گی کیسے !
Read Moreشریف ساجد ۔۔۔ نا رسیدہ طرب کا کیا کیجے
نا رسیدہ طرب کا کیا کیجے گریۂ نیم شب کا کیا کیجے ہاتھا پائی پہ وہ اُتر آئے ایسے پاسِ ادب کا کیا کیجے اپنی وحشت ہے اپنا غم، اُن کے خندئہ بے سبب کا کیا کیجے شیخ رندوں سے بڑھ گئے صاحب احترامِ نسب کا کیا کیجے کچھ کہا ہو، ہوا سے لڑنے لگے بے جہت اس غضب کا کیا کیجے خود نمائی کو ان کی کیا کہیے دیدئہ بے ادب کا کیا کیجے نارسائی بھی رایگانی ہے جدوجہد و طلب کا کیا کیجے اب مسیحا مشیر رکھیں گے…
Read More