خودفراموشی ۔۔۔۔ ضروری نہیں جنہیں ہم زندگی سے زیادہ اہم سمجھتے ہوں ان کے لئے بھی ہم اتنے ہی اہم ہوں کبھی کبھی ہم ساتھ تو ہوتے ہیں لیکن محسوس نہیں ہوتے وقت کے پلوں کے نیچے سے پانی گزر جاتا ہے خامشی روح میں گھر کر لیتی ہے زیست تنہا پسند ہو جاتی ہے ہم خود کو اتنا اکیلا کر لیتے ہیں کہ ہمیں خود کی بھی ضرورت نہیں رہتی اپنی ذات سے لاتعلقی بھی کبھی کبھی نعمت لگتی ہے درد ہوتے ہوئے بھی محسوس نہیں ہوتا ہجر و…
Read Moreخالد احمد
خالد احمد نے اس شعر میں دل کے درد کو سورج کی تمازت سے تشبیہ دے کر باطنی اذیت اور جذبات کی شدت کو نہایت مؤثر انداز میں ظاہر کیا ہے۔
Read Moreخالدہ انور ۔۔۔ ہم نے محبت جھیلی ہے
ہم نے محبت جھیلی ہے خون کی ہولی کھیلی ہے خواہش نئی نویلی ہے چنچل شوخ اٹکھیلی ہے تارے میرے ساتھی ہیں چاندنی رات سہیلی ہے کوئی نہ اِس کو بْوجھ سکا جیون ایک پہیلی ہے اپنی محبت کی قاتل اْونچی لال حویلی ہے کوئی کسی کے ساتھ نہیں سب کی ذات اکیلی ہے خواب گرے سب آنکھوں سے خالی ہاتھ ہتھیلی ہے تُو جو میرے ساتھ چلے ہر ساعت البیلی ہے اشک پلا کر پالوں گی اُلفت گود میں لے لی ہے میرا جُھمکا جہاں گرا شہر کا نام…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ آزادہ منش رہ دنیا میں پروائے امید و بیم نہ کر
جوش ملیح آبادی کی یہ غزل پرانی زنجیروں کو توڑ کر انسان کو آزادی اور ہمت کی نئی روشنی دکھاتی ہے۔ غزل کا لب و لہجہ اسے غزل کی روایت سے کوسوں دور کرتا محسوس ہوتا ہے۔
Read Moreثمینہ سید ۔۔۔ عشق میں شرک نہیں نہ کوئی بدعت کیجے
عشق میں شرک نہیں نہ کوئی بدعت کیجے عشق کا نام محبت ہے، محبت کیجے آئیں، اک بار مجھے دیکھ کے دیکھیں خود کو آئنہ بدلا نظر آئے تو حیرت کیجے ہار جانے پہ یوں شرمندہ نہیں ہونا ہے دوسرا دیتی ہوں موقع۔۔۔ذرا ہمت کیجے خود بڑے ہونے کا احساس نہ ہونے دیں اْنہیں گھر میں چپ چاپ پڑے رشتوں کی عزت کیجے زندگی اپنی محبت کے لیے ہی کم ہے آپ کو کس نے سکھایا ہے کہ نفرت کیجے فیصلہ دیجے جو حق والوں کے حق میں جائے مصلحت…
Read Moreعرفان صادق ۔۔۔ خشک پتا بھی گرے صحن میں ڈر جاتا ہوں
خشک پتا بھی گرے صحن میں ڈر جاتا ہوں شام ہوتے ہی میں سناٹوں سے بھر جاتا ہوں ٹیک جو مجھ سے لگائے کھڑے ہیں گر نہ پڑیں اس لیے پاؤں بدلتے ہوئے ڈر جاتا ہوں شام کی بانجھ ہتھیلی پہ چراغوں کی لویں تھرتھراتی ہیں تو میں خوف سے بھر جاتا ہوں جب جلاتی ہے مجھے لوگوں کے لہجوں کی تپش تری یادوں کے سمندر میں اتر جاتا ہوں ویسے اس عمر میں کچھ یاد کہاں رہتا ہے ویسے اک نام جو سن لوں تو ٹھہر جاتا ہوں جس…
Read Moreمہر علی ۔۔۔ مہتابِ نیم ، زرد ستارہ دکھائی دے
نوجوان شاعر مہر علی کی یہ غزل اپنی نکہت آفریں شاعرانہ لطافت اور دل پذیر اسلوب کے ساتھ حسنِ منظر نگاری اور رومانوی کیف کو ہم آہنگ کر دیتی ہے۔ اس کے مصرعوں میں امید کی نازک سی کرن یوں فروزاں ہے کہ قاری کو مسرّت و حُسن کا سرور عطا کرتی ہے، تاہم ساتھ ہی انسانی آرزوؤں کی شکست و ریخت اور قوت کی محدودیت کو نہایت بلیغ انداز میں آشکار کرتی ہے۔
Read Moreافتخار شاہد ۔۔۔ سورج ہمارے بخت کا ایسے بھی ڈھل گیا
افتخار شاہد کی یہ غزل روایتی عشقیہ مضامین کو دلنشیں استعارات اور خوش آہنگ پیرایۂ اظہار میں سموئے ہوئے ہے، تاہم مجموعی سطح پر تازگیِ مضمون اور فکری امتیاز کے اعتبار سے کچھ ناتواں محسوس ہوتی ہے۔
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ رات پڑے گھر جانا ہے
محمد علوی کی اس غزل میں وہی ہمیشہ کی بےچینی رقصاں ہے جو ان کے شعری مزاج کا خاصہ ہے؛ اس کے ساتھ الم کی لطیف سی پرچھائیں اور اسلوب کا نمایاں طنز مل کر ایک سہ رخی فضا قائم کرتے ہیں۔
درحقیقت، علوی کی بیشتر غزلیں انھی تین عناصر ۔۔۔۔ بےچینی، الم اور طنز ۔۔۔۔کے سہارے اپنی راہ تراشتی ہیں اور اپنی انفرادیت کو جِلا بخشتی ہیں۔
اعجاز دانش ۔۔۔ مجھے وہ بھول گیا ہے تو کوئی بات نہیں
مجھے وہ بھول گیا ہے تو کوئی بات نہیں نظر سے دور ہوا ہے تو کوئی بات نہیں کہاں ہر اک کا مقدر ہے آبلہ پائی جو زخم زخم ہرا ہے تو کوئی بات نہیں چراغِ فکر جلائیں گے محفلِ شب میں دیا بجھا کے گیا ہے تو کوئی بات نہیں چلے گی ٹھنڈی ہوا بھی، یقینِ کامل ہے چمن میں گرم ہوا ہے تو کوئی بات نہیں یہی ہے عشق کا تریاق ہم بھی کہتے ہیں جو اس نے زہر پیا ہے تو کوئی بات نہیں یہ اختلاف محبت…
Read More