مشکل روڑہ بن جاتا ہے ملن بچھوڑہ بن جاتا ہے آنسو ، آنسو مل کے سمندر یونہی تھوڑا بن جاتا ہے اتنا تیز دھڑکتا یہ دل پاگل گھوڑا بن جاتا ہے چار اطراف ، نکیلے پتھر حرف ، ہتھوڑا بن جاتا ہے انجانے دو انسانوں کا فلک پہ جوڑا بن جاتا ہے کینسر بعد میں ، دکھ کا پہلے بدن میں پھوڑا بن جاتا ہے موم کے اک پتلے سا انساں جدھر کو موڑا، بن جاتا ہے رخشندہ ! محبوب تمھارا ایک بھگوڑا بن جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ درد و غم…
Read Moreاعجاز کنور راجا ۔۔۔ صرصر کو لوگ باد صبا ماننے لگے
صرصر کو لوگ باد صبا ماننے لگے ذرے کو آفتاب کہا، ماننے لگے لازم ہوا ہے جب سے یہاں احترامِ شب ظلمت کو لوگ رب کی رضا ماننے لگے ظاہر کا خوف پھیل کے باطن پہ چھا گیا ہم اپنی زندگی کو سزا ماننے لگے دن میں بھی چل رہا ہے یہاں کاروبارِ شب کھوٹے کو لوگ جب سے کھرا ماننے لگے اک پل میں اتنے رنگ بدلتی ہے زندگی اب کیا کوئی ہرے کو ہرا ماننے لگے آنکھیں کھلی ہیں ذہنِ رسا بھی ہے جس کے پاس کیسے وہ…
Read Moreحمد باری تعالیٰ ۔۔۔ طارق بٹ
یہ حمد طارق بٹ کے تخیل کی رفعت، نغمگی کی لطافت اور عقیدت کی سچائی کا حسین مرقع ہے، جہاں کائنات کے ہر رنگ، ہر نغمے اور ہر لرزش کو صانعِ ازل کی صناعی سے یوں وابستہ کیا گیا ہے کہ قاری کا دل سراپا شکر اور آنکھ سراپا حیرت بن جاتی ہے۔ سوالیہ اسلوب، زبان کی چاشنی اور معانی کی تہہ داری مل کر ایسی وجدانی فضا بُن دیتے ہیں جس میں حمد محض بیان نہیں رہتی بلکہ ایک روحانی تجربہ بن کر دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔
Read Moreمسعود احمد ۔۔۔ پھولوں کو خوشبو آتی ہے
پھولوں کو خوشبو آتی ہے گلشن میں جب تو آتی ہے چاندنی چاندنی رات سے پہلے پیر تمہارے چھو آتی ہے جام صراحی جیسی لڑکی کرکے روز وضو آتی ہے برزخ کے اسرار میں گم صم نیند کسی پہلو آتی ہے سچ مچ میری ذات کے اندر مجھ سے پہلے تو آتی ہے لا تقنطو اس کی رحمت خلقت تقنطو آتی ہے چاروں جانب گھوم رہا ہوں جیسے تو ہر سو آتی ہے اس کی یاد بھی جیسے خود وہ خوش طینت خوش خو آتی ہے
Read Moreمستحسن جامی ۔۔۔ تم نے دیکھا ہے جسے وہ مری پرچھائی ہے
تم نے دیکھا ہے جسے وہ مری پرچھائی ہے اس سے بڑھ کر کوئی وحدت ہے نہ سچائی ہے اس لیے خال زمانے سے جدا ہیں میرے ان کو کیا علم کہ مٹی مری صحرائی ہے پہلے سرسبز بہاروں کے یہاں پھیرے تھے اب وہی حجرہ ہے اور چاروں طرف کائی ہے ایک مصرعے نے بدل ڈالی ہے رنگت اْس کی وہ جو کہتا تھا غزل قافیہ پیمائی ہے کوچۂ قلب میں آ جاؤ کسی روز اگر کوئی گہرائی ہے اس سمت، نہ اونچائی ہے پوچھتے کیا ہو مری عمرِ…
Read Moreراحت اندوری
چراغوں کا خانوادہ اپنے بقا و دوام کے لیے ہوا کی خوشامد اور اس کی رفاقت کا محتاج دکھائی دیتا ہے۔ گویا خیر و شر کے مابین قائم تعلق میں اہلِ خیر کی خود غرضی اور دو رخی کا گہرا عمل دخل ہے۔ اس شعر میں "دوستانہ چل رہا ہے” کی ترکیب زبان و بیان کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ محض مطلع کی تکمیل اور "گھرانہ” کے ساتھ "دوستانہ” کا قافیہ باندھنے کی غرض سے یہ لفظ برتا گیا ہے، جس سے معنی کی لطافت ماند پڑ گئی ہے۔
(کارواں)
ادا جعفری
یہ شعر ادا جعفری کے تخیل کی لطافت، احساس کی شدت، اور زبان کی نزاکت کا شاہکار ہے۔ شاعرہ نے تمنائے التفات کو ماہتابی اُمید کے استعارے میں ڈھال کر ایک ایسا منظر تخلیق کیا ہے جو اندھیری رات کے سینے میں چھپی روشنی کی تمنا کا پیکر بن جاتا ہے۔
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ اِسے کیا نام دیں
جلیل عالی کی یہ نظم اہلِ قلم کی مصلحت گزینی، اخلاقی سودے بازی، اور حق گوئی سے انحراف پر ایک تلخ مگر نہایت شائستہ چوٹ ہے۔
جلیل عالی نے نرسری، پودے، درخت، دیے، اور جھونکوں جیسے فطری استعاروں کے ذریعے سماج کی فکری منافقت کو بے نقاب کیا ہے۔
یہ کلام ضمیر کے باغ میں اگنے والے سچ کے درختوں پر چلنے والی کلہاڑیوں کے خلاف ایک باوقار اور بے باک شاعرانہ مزاحمت ہے۔
محمد علوی ۔۔۔ گرہ میں رشوت کا مال رکھیے
یہ غزل محمد علوی کی مخصوص تہہ دار، علامتی اور نرم طنزیہ طرزِ بیان کی ایک خوبصورت مثال ہے، جہاں شاعر سماجی کجی، باطنی خلا، روحانی شکستگی اور انسانی فطرت کے تضادات کو سادہ مگر گہرے اشعار میں ڈھالتا ہے۔
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ دوستو وقت ہے پھر زخم جگر تازہ کریں
یہ غزل ایک نویدِ تجدیدِ وفا ہے، جہاں شاعر اہلِ درد کو پکار کر دلوں کے زخموں کو تازگی، اور نگاہوں کو نئی روشنی کی دعوت دیتا ہے۔
ہر شعر میں فکری تموّج، تہذیبی سرفرازی، اور روحانی احیاء کی لہریں محسوس ہوتی ہیں، گویا غروب و طلوع کے پیمانے پر دل و نظر کی تطہیر ہو رہی ہو۔
"کلۂ فقر” اور "تاج و کمر” جیسے استعارے شجاعت، انا، اور فقرِ قلندرانہ کے حسین امتزاج کی علامت ہیں۔
شاعر ماضی کے جمالیاتی شعور کو شغلِ پارینہ کہہ کر ایک نئی سخن خیزی کا پیغام دیتا ہے، جس میں عشق، فن، اور دانش کی رونق پھر سے تازہ کی جائے۔
آخری شعر میں جوش اپنے لیے "شاہِ سخن” کا خلعتِ افتخار طلب نہیں کرتا، بلکہ اسے دل و دینِ سخن کا تازہ خون عطا کرنے کی تمنا کرتا ہے۔
