ظہور چوہان ۔۔۔ مثالِ ابر کڑی دھوپ میں بھی سایہ کرے

ظہور چوہان کی یہ غزل جدائی، تنہائی، اور داخلی کشمکش کی گہری کیفیات کو شاعرانہ پیرائے میں بیان کرتی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کی غیر موجودگی میں بھی اس کے سائے کی خواہش رکھتا ہے، اور فراق کی اس کیفیت کو "بامِ ہجر” جیسے علامتی استعارے سے مجسم کرتا ہے۔ وہ محبوب سے دوری میں بکھر جانے کے احساس سے دوچار ہے اور اس کی موجودگی کو بھی ناقابلِ برداشت پاتا ہے۔

غزل کا ہر شعر خواب و حقیقت، روشنی و تاریکی، اور قرب و فاصلہ جیسے متضاد کیفیات کو ہم آہنگ کرتا ہے۔ آخری شعر میں "فلک پہ صبح کو سورج ظہور ہونے تک” جیسا شعری اظہار شاعر کے وجودی کرب اور شب گزیدہ تمناؤں کی علامت ہے۔

یہ غزل ظہور چوہان کی فکری گہرائی، شعری نرمی، اور جذباتی شدت کی بہترین مثال ہے۔

Read More

خالد احمد

یہ شعر خالد احمد کی گہرے جذباتی شعور اور کربِ مسلسل کا نچوڑ ہے، جس میں زخم خوردہ دلوں کے لیے الفاظ کی اذیت ناک تاثیر کو بیان کیا گیا ہے۔

Read More

خالق آرزو ۔۔۔ عقیدت

اے شاہِ شہاں تیرے در پہ کھڑا ہوں علی کے گھرانے کا ادنیٰ گدا ہوں! مری چشمِ تر میں یہ آنسو نہیں ہیں میں آبِ نظر سے وضو کر رہا ہوں مرے مولا مجھ کو بھی توفیق دے دے میں طیبہ کی گلیوں کو تکنے چلا ہوں وفورِ الم سے بدن تر بتر ہے! بشاشت سے گرچہ میں سب سے ملا ہوں ہر اک موج اب بھی یہ چِلا رہی ہے میں اصغر کے تشنہ لبوں کی صدا ہوں مدینے میں ہوں ختم سانسیں یہ خالق لیے آرزو سوئے طیبہ…

Read More

سرفراز عارض ۔۔۔ المدد پُکارتے سانپ کی طرح میں تھا

المدد پُکارتے سانپ کی طرح میں تھا سر زمیں پہ مارتے سانپ کی طرح میں تھا تیغِ عشق نے کیا تن مِرا دو نیم جب الاماں پُکارتے سانپ کی طرح میں تھا عشق جب تھا کر رہا دوسر ا میں آپ سے کینچلی اُتار تے سانپ کی طرح میں تھا جب ہجومِ اشقیا پِل پڑا تھا مجھ پہ آہ ظُلم کو سہارتے سانپ کی طرح میں تھا عارضِ جمال پر جب تلک تھا پہرہ دار زُلف کو سنوارتے سانپ کی طرح میں تھا

Read More

محمد اشرف کمال ۔۔۔ جو ستارے کبھی آنکھوں سے اٹھائے گئے تھے

جو ستارے کبھی آنکھوں سے اٹھائے گئے تھے لہو روتے ہوئے مٹی میں بجھائے گئے تھے آنکھ میں ٹوٹے ہوئے کانچ کے ٹکڑوں سے ہیں ہائے وہ لوگ جو خوابوں میں بسائے گئے تھے اپنی تکمیل کو پہنچے ہی نہیں ہیں اب تک جانے ہم کونسی مٹی سے بنائے گئے تھے اس قدر خوف تھا باتوں کا ہماری کہ نہ پوچھ ہم زباں کاٹ کے دربار میںلائے گئے تھے اس زمیں پر جو ہمیں بھیجا گیا تھا تو ہم آسمانوں کی زمینوں سے اٹھائے گئے تھے رستہ ہموارانھوں نے ہی…

Read More

انصر حسن ۔۔۔ کہاں ہوں کون ہوں کیسا ہوں اور کیا ہوں میں

کہاں ہوں کون ہوں کیسا ہوں اور کیا ہوں میں مجھے نہ کوئی بتائے ، یہ جانتا ہوں میں عدو کے ساتھ عداوت نہ چل سکے گی مری مرے عزیز محبت کا دیوتا ہوں میں بْلا کے پاس فرشتے مجھے بٹھاتے ہیں یہ اور بات کہ تھوڑا بہت بْرا ہوں میں کچھ اس لئے بھی ڈراتے ہیں یہ ڈکیت مجھے کہ ہر لْٹی ہوئی بستی کا ہمنوا ہوں میں سلام کر کے تمہاری دراز پلکوں کو تمہاری جھیل سی آنکھوں میں کھو گیا ہوں میں بْروں کے ساتھ بھی اپنے…

Read More

احمد جلیل ۔۔۔ انتظار

انتظار ۔۔۔ سہانے موسموں کی راہ تکتے مری آنکھیں بھی اب پتھرا گئی ہیں مری آشاؤں کی کلیوں کے اوپر خزائیں ہی خزائیں چھا گئی ہیں سہانے موسموں کے راستوں میں ابھی تو دور تک پتھر پڑے ہیں ابھی تو دور تک خنجر گڑے ہیں مگر اب بھی ہیں تیری راہ تکتے مری پتھرائی آنکھوں کے جھروکے کبھی تو آئیں گے مجھ کو منانے دلِ ویران کا گلشن کھلانے کبھی تو ختم ہو گی یہ اذیت یہ لمبی انتظارِ یار کی رت۔۔۔!

Read More

دلشاد احمد ۔۔۔ ہجر

ہجر ۔۔۔ ہجرتوں کے موسم میں چاہتوں کی اَن بَن میں یاد کے دریچوں سے اک ترے تصور کا واہمہ سا ہوتا ہے اور اِسی تصور میں خواب ٹُوت جاتا ہے خواب کے بکھرنے سے خوش گمان لمحوں کا مان ٹُوٹ جاتا ہے اس بھرم کے رکھنے کو زندگی کی پلکوں پر آنسوؤںکی برکھا جب گیت گنگنائے تو صبح ہو ہی جاتی ہے رات کٹ ہی جاتی ہے۔۔۔!

Read More

کوکی گل ۔۔۔ کڑی سی دھوپ میں تو، دل مرا گھبرا گیا ہے

کڑی سی دھوپ میں تو، دل مرا گھبرا گیا ہے مرے آنچل کا سایا میرے من کو بھا گیا ہے ترے لہجے کے خنجر نے، مرا دل چیر ڈالا یہی اک روگ ہائے! میرے دل کو کھا گیا ہے نجانے کیا تھا اس کے دل میں جو بولا نہیں پر وہ باتیں کرتے کرتے ایک دم شرما گیا ہے سلامی دے رہے ہیں پھول پودے آج گل کو کوئی نقشہ بہاروں کا، انہیں دکھلا گیا ہے

Read More

اصغر علی بلوچ ۔۔۔ یوں تو ہنستے ہنساتے رہتے ہیں

یوں تو ہنستے ہنساتے رہتے ہیں زخم دل کے چھپاتے رہتے ہیں یہ ہے دنیا سدا رہے گی یونہی لوگ یاں آتے جاتے رہتے ہیں دوست ہوتے تھے جو کبھی اپنے آج کل منہ چھپاتے رہتے ہیں وقت ہوتا ہے ہم نہیں ہوتے وقت ایسے بھی آتے رہتے ہیں ریت اندر کی سمت گرتی ہے ہم جو طوفاں اٹھاتے رہتے ہیں تو سنے یا نہیں سنے مرے دوست ہم ترے گیت گاتے رہتے ہیں اس قدر آگ ہے یہاں اصغر اپنا دامن بچاتے رہتے ہیں

Read More