صبح کی پہلی کرن ۔۔۔ صبح کی پہلی کرن۔۔۔ شام اتر ی آسماں کی سیڑھیوں سے تو تری یاد آئی ہے صبح کی پہلی کرن۔۔۔ دیکھ میری ذات کے تاریک بن میں کس قدر تنہائی ہے صبح کی پہلی کرن۔۔۔ باغِ نادیدہ سے یوں گم نامیوں کے پھول چننا چھوڑ دے گیلی گیلی سبز سی اس گھاس پر یوں ٹہلنا چھوڑ دے رات کا در توڑ دے صبح کی پہلی کرن۔۔۔ جلدی جلدی آسماں کی سیڑھیاں نیچے اتر اور میری ذات کے تاریک بن کی سیر کر ڈھونڈ اس میں…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ کمال کیسے، ہنر کیا سے کیا دکھاتی ہے
کمال کیسے، ہنر کیا سے کیا دکھاتی ہے غزل دماغ کو بھی دل بنا دکھاتی ہے لہو میں جاگ اٹھے جب چراغِ عشق کی لَو شبوں میں آپ ہوا راستہ دکھاتی ہے زمانوں بعد جو ہونا ہو، کوئی موجِ خیال سب اُس کے عکس نگاہوں میں لا دکھاتی ہے کسی نے میری بصارت پہ کیا فسوں پھونکا کہ آئنے میں کوئی دوسرا دکھاتی ہے میں ایسی دانشِ مجہول کا نہیں قائل جو عشق و جنگ میں سب کچھ رَوا دکھاتی ہے نگاہ جب بھی اٹھاتا ہوں آسماں کی طرف کوئی…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ نیلما ناہید درانی
اپنے محبوب کو جب رب نے پکارا ہوگا عرش کو مل کے فرشتوں نے سنوارا ہوگا آمنہ دیکھ کے مکھڑا یہی کہتی ہونگی رب نے اس چاند کو جنت سے اتارا ہوگا عرش کی آخری منزل پہ جو پہنچے ہوں گے مرے آقا نے بھی لبیک پکارا ہوگا ان کے آنے کی خبر عرش پہ پھیلی ہوگی سارے نبیوں نے بھی پھر عرش سنوارا ہوگا وہ جو رحمت ہیں جہانوں کے لیے آئے ہیں مرحبا، مرحبا ہر ذرہ پکارا ہوگا روز محشر وہ شفاعت کے لیے آئیں گے ہر گنہگار…
Read Moreاحمد جلیل ۔۔۔ چاند ، سورج ، ستارے دیکھتے ہیں
چاند ، سورج ، ستارے دیکھتے ہیں آ کے تم کو وہ سارے دیکھتے ہیں دیکھتے ہیں وہ تم کو بت بن کر جو بھی جلوے تمہارے دیکھتے ہیں تم بھی پڑھ لو نوشتۂ دیوار ہم تو کب سے اشارے دیکھتے ہیں ہر طرف لاشے ، سوختہ خیمے جا بجا غم کے مارے دیکھتے ہیں ہر طرف حسن ہے جلیل اُس کا ہر سو اس کے نظارے دیکھتے ہیں اب بھی قدموں پہ ہم کھڑے ہیں جلیل ہم کو دشمن ہمارے دیکھتے ہیں
Read Moreابن انشا
اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں ہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانا ترا
Read Moreمحمود شام
بس ایک اپنے ہی قدموں کی چاپ سنتا ہوں میں کون ہوں کہ بھرے شہر میں بھی تنہا ہوں
Read Moreنشور واحدی
قدم مے خانہ میں رکھنا بھی کار پختہ کاراں ہے جو پیمانہ اٹھاتے ہیں وہ تھرایا نہیں کرتے
Read Moreحفیظ بنارسی
سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا
Read Moreخالد احمد
گھل مل چلا تھا شب کے اندھیرے میں اک گناہ دھیرے سے در کو موجِ ہوا کھٹکھٹا گئی
Read Moreعبدالرئوف زین ۔۔۔ دو غزلیں
کیا خاک خود کو اڑانے کی خاطر وہی روگ دل کے مٹانے کی خاطر رہی ہے مچل کب سے وحشت یوں دل کی نیا شور اندر مچانے کی خاطر مری مسکراہٹ کا کیا پوچھتے ہو یہ ہے زخمِ دل کو چھپانے کی خاطر پلا اپنی آنکھوں سے الفت کی صہبا نہیں آیا پیاسا میں جانے کی خاطر گرا ہوں کبھی کھا کے ٹھوکر اگر تو نہیں آیا کوئی اٹھانے کی خاطر ۔۔۔۔۔۔ حبس موسم میں مرنے لگا ہوں میاں رات گہری سے ڈرنے لگا ہوں میاں زندگی ایسے کیسے کٹے…
Read More