احمد فراز ….. تیری باتیں ہی سنانے آئے

تیری باتیں ہی سنانے آئے دوست بھی دل ہی دکھانے آئے پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں تیرے آنے کے زمانے آئے ایسی کچھ چُپ سی لگی ہے، جیسے ہم تجھے حال سُنانے آئے عشق تنہا ہے سرِ منزلِ غم کون یہ بوجھ اُٹھانے آئے اجنبی دوست! ہمیں دیکھ کہ ہم کچھ تجھے یاد دلانے آئے دل دھڑکتا ہے سفر کے ہنگام کاش پھر کوئی بُلانے آئے اب تو رونے سے بھی دل دُکھتا ہے شاید اَب ہوش ٹھکانے آئے کیا کہیں پھر کوئی بستی اُجڑی لوگ کیوں جشن…

Read More

احمد فراز …. ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے

ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے کہ ہم کو دستِ زمانہ سے زخم کاری لگے اُداسیاں ہوں‌ مسلسل تو دل نہیں‌ روتا کبھی کبھی ہو تو یہ کیفیت بھی پیاری لگے بظاہر ایک ہی شب ہے فراقِ یار، مگر کوئی گزارنے بیٹھے تو عمر ساری لگے علاج اس دلِ درد آشنا کا کیا کیجے کہ تیر بن کے جسے حرفِ غمگساری لگے ہمارے پاس بھی بیٹھو، بس اتنا چاہتے ہیں ہمارے ساتھ طبیعت اگر تمہاری لگے فراز تیرے جنوں کا خیال ہے، ورنہ یہ کیا ضرور وہ…

Read More