حمایت علی شاعر

ﺩﻧﯿﺎ  ﺑﮭﯽ  ﺍﮎ ﺁﻣﺎﺟﮕﮧِ ﺣﺴﻦ ﮨﮯ ﺷﺎﻋﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻮ ﺫﺭﺍ ﺣﺠلۂ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﮯ

Read More

افق لکھنوی ۔۔۔ نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا

نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا ادھر سر اس نے کاٹا ایک ادھر ایک اور سر نکلا چڑھایا عرش پر ہم کو کمالِ بت پرستی نے تجلی طور کی دیکھی جو پتھر سے شرر نکلا نہیں گریہ زلیخا وہ نہیں گر یوسفِ مصری تو پھر کیوں مہر کے پنجے سے دامانِ سحر نکلا بخیلوں سے امیدِ فیض کیا ہو آخری دم تک مٹے گل خاک ہو کر اور مٹھی سے نہ زر نکلا ہے شیخ اولادِ آدم کیا جگہ پائے گا جنت میں رسائی کیا وہاں…

Read More

آہ سنبھلی ۔۔۔ یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں

یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں محبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیں خدا کرے کہ سنے تو زبانِ خاموشی ترے پڑوس میں کچھ بے زبان رہتے ہیں نہ کیجے تکیہ بزرگوں کی ڈھلتی چھاؤں پر کہاں سروں پہ سدا سائبان رہتے ہیں یہی جہاں ہے ہمارا جہانِ گمشدگی یہی نشان کہ بس بے نشان رہتے ہیں محبتیں جس افق سے طلوع ہوتی ہیں وہیں پہ مل کے زمیں آسمان رہتے ہیں ترے سلوک نے دھندلا دئے سب افسانے ہم اپنے سے بھی بہت بد گمان رہتے ہیں ہر ایک…

Read More

عزیز قیسی

گردن فراز یوں یوں ہے مقتل زمیں تمام کیسے کہاں یہ بات پہ تم اپنی اڑ گئے

Read More

راحت اندوری

ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو

Read More

ادا جعفری

بجھی ہوئی ہیں نگاہیں غبار ہے کہ دھواں وہ راستہ ہے کہ اپنا بھی نقش پا نہ ملے

Read More

سیف الدین سیف ۔۔۔ سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا

سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا اس کی ہنسی نے آج مجھے تو رلا دیا خود بھی تو وہ بچھڑ کر ادھورا سا ہو گیا مجھ کو بھی اس ہجوم میں تنہا بنا دیا​

Read More

مینو بخشی ۔۔۔ آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے

آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے دل میں ہے درد کا طوفان خدا خیر کرے رات کو نیند نہیں صبح کو آرام نہیں ان کے آنے کا ہے امکان خدا خیر کرے وہ ملاتے ہیں نظر غیر کی صورت ہم سے یہ تو ہے موت کا سامان خدا خیر کرے یہ سنا ہے کہ دکھائیں گے وہ جلوہ اپنا دل کے اب نکلیں گے ارمان خدا خیر کرے اب مجھے دیکھ کے کترانے لگی ہے دنیا مٹ گئی وہ مری پہچان خدا خیر کرے جس کی فطرت ہے…

Read More

دلاور فگار

جو تیتر اور چکور ہیں وہی پکڑیں ان کو جو چور ہیں میں چکور اکور کا کیا کروں مری فاختہ کوئی اور ہے

Read More

منیر نیازی

رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا اِتنا مَیں چُپ ہُوا کہ تماشا نہیں ہُوا ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں رستہ ہے اِس طرح کا جو دیکھا نہیں ہُوا مُشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میں برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہُوا وُہ کام شاہِ شہر سے  یا شہر سے ہُوا جو کام بھی ہُوا ہے ، وُہ اچھا نہیں ہُوا مِلنا تھا ایک بار اُسے پھر کہِیں مُنیر ایسا مَیں چاہتا تھا پر ایسا نہیں ہُوا

Read More