جو کوئی وقعتِ تجدید سمجھتا ہی نہیں میں اُسے قابلِ تقلید سمجھتا ہی نہیں آج کے دور کا انسان بہت ضدی ہے کُھل کے کرتے رہو تنقید، سمجھتا ہی نہیں وہ ترے دل میں چُھپی بات کہاں سمجھے گا؟ جو ترے لفظوں کی تعقید سمجھتا ہی نہیں کوئی بھی بات طوالت سے بُری لگتی ہے میں کسی قسم کی تمہید سمجھتا ہی نہیں تیرے ہونے کا گماں، دل کو جواں رکھتا ہے تو کہ اِس بات کو بے دید! سمجھتا ہی نہیں اُن کو تہوار مبارک جنہیں سب حاصل ہے…
Read MoreTag: اردو شاعری
میر تقی میر
بہت آرزو تھی گلی کی تری سو یاں سے لہو میں نہا کر چلے
Read Moreخواجہ میر درد
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ ہائیکو
سورج اور جاپان بالکل ایسے ہیں جیسے ہم اور پاکستان اک سا فکر و فن میرؔ و غالبؔ سے شاعر باشوؔ اور بوسنؔ میرے گھر کی شان دروازوں کی آنکھیں ہیں دیواروں کے کان دل موسم بدلے وہ بھی اگر میری ہی طرح فون کی سم بدلے باہر دھول ہی دھول آنگن میں لیکن مہکیں چنبیلی کے پھول
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔ کر دیا کیوں آئنہ گر کے سپُرد؟
کر دیا کیوں آئنہ گر کے سپُرد؟ آئنہ کرنا تھا پتھّر کے سپُرد! پیاس ہم سہتے رہے کچھ سوچ کر کر کے اِک دریا سمندر کے سپُرد کرب جتنا ہے، مری قسمت میں ہے راحتیں سب اُس کے پیکر کے سپُرد ساحلوں سے اب ہمیں لینا ہے کیا؟ کشتیاں اپنی سمندر کے سپُرد! شِدّتِ شوقِ نظارہ کے سبب آنکھ ہی کر دی ہے منظر کے سپُرد! ہم ہیں زندہ کس زمانے میں نسیمؔ بیل پھولوں کی ہے کیکر کے سپُرد!
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ طالب انصاری
جب بھی دکھائی دے گئے آثار نعت کے تخلیق کیا سے کیا ہوئے شہکار نعت کے تعمیر ِ قصر ِ دل کرو اس اہتمام سے چھت ہو درود کی ، در و دیوار نعت کے باغ ِ زبان ِ شعر و ادب کی ہیں رونقیں سایا بکھیرتے ہوئے اشجار نعت کے دل کی منڈیر پر انہیں رکھا ہے مستقل مجھ کو ملے چراغ جو دو چار نعت کے لایا ہوں سامنے میں عقیدت کے زور پر ہر لفظ میں چھپے ہوئے اَسرار نعت کے مجھ کو بلا نہ گنبد ِ…
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔ ماہیے
اپنوں میں نہیں دیکھا تعبیر تو کیا ، اُس کو سپنوں میں نہیں دیکھا ……… بھرپور جوانی ہے جاناں کا سراپا بھی دلچسپ کہانی ہے ……… برہم ہوں زمانے سے روکا ہے ہمیں اس نے کیوں ملنے ملانے سے ……… دل توڑ گیا کوئی آتے ہوئے جب ، اپنا رخ موڑ گیا کوئی جس دن سے وہ روٹھا ہے دل جڑ ہی نہیں پایا کچھ ایسے یہ ٹوٹا ہے
Read Moreفیض رسول فیضان ۔۔۔ پیاسی نظر کو یار کی جب دید ہو گئی
پیاسی نظر کو یار کی جب دید ہو گئی سچ پوچھیٔے تو اپنی وہیں عید ہو گئی جب عید ہو گئی تو سمجھ لو کہ اس طرح عہد ِوفا کی خیر سے تجدید ہو گئی دل اور آنکھ کا ہی یہ سارا ہے تال میل تجسیم ہو گئی کبھی تجرید ہو گئی پہلی نظر نے ہی مجھے کُندن بنا دیا تمہید ہی خلاصۂ توحید ہو گئی آنے لگی ہے پیش رُکاوٹ قدم قدم اُن کی طرف سے بھی مری تائید ہو گئی کچھ دیکھنے کا عزم کیا، پردے پڑ گئے…
Read Moreمولانا حسرت موہانی
ہے مشقِ سخں جاری چکی کی مشقت بھی اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی
Read Moreفراق گورکھپوری
کہوں یہ کیسے ادھر دیکھ یا نہ دیکھ ادھر کہ درد درد ہے پھر بھی نظر نظر پھر بھی
Read More