نوشی گیلانی

اس نے ہنس کے دیکھا تو مسکرا دیے ہم بھی ذات سے نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

Read More

ڈاکٹر محمود ناصر ملک

یہ شہر جل چکا ہے بچانے کو کچھ نہیں اس راکھ سے بھی اب تو اٹھانے کو کچھ نہیں

Read More

سجاد بلوچ

ذرا سے پھل کے لیے شاخ توڑ لی تم نے یہ بھوک کی تو علامت نہیں، ہوس کی ہے

Read More

انصر منیر ۔۔۔ جیسے ساری خدائی حاصل ہے

جیسے ساری خدائی حاصل ہے مجھ کو تم تک رسائی حاصل ہے اب میں نبضِ جہاں چلاتا ہوں مجھ کو تیری کلائی حاصل ہے یوں تو نفرت ہے چار سو میرے بس محبت کی پائی حاصل ہے مجھ کو درکار تھی محبت جو سن لو مجھ کو وہ بھائی حاصل ہے خرچ کرتا ہوں میں کھلے دل سے جو ذرا سی کمائی حاصل ہے

Read More

قمر رضا شہزاد ۔۔۔ اگرچہ ذکر ترا دم بدم کیا میں نے

اگرچہ ذکر ترا دم بدم کیا میں نے خیال پھر یہی آتا ہے کم کیا میں نے فراتِ عصر پہ ظالم سے جنگ کرتے ہوئے جو کٹ گیا وہی بازو علم کیا میں نے مہکتے کیوں نہ گلِ سرخ میرے سینے میں لہو کے سیل سے یہ دشت نم کیا میں نے کمال یہ ہے کہ پھر بھیگتا گیا کاغذ کبھی جو پیاس کا قصہ رقم کیا میں نے مجھے نہیں ہے کوئی اور غم خدا کا شکر ہر ایک غم کو ترے غم میں ضم کیا میں نے

Read More

محمد علوی ۔۔۔ دوا کوئی کیا کام لکھوں  

دوا کوئی کیا کام لکھوں نسخے میں آرام لکھوں سورج کو مرتے دیکھوں وقت برابر شام لکھوں دو نالی بندوق چلاؤں جنگل میں کہرام لکھوں دھندہ کروں نمازوں کا پیشانی پر دام لکھوں آسمان پر جا پہنچوں اللہ تیرا نام لکھوں علوی آپ کے کھاتے میں آج کی شب کے جام لکھوں

Read More

ڈاکٹر شاہد اشرف ۔۔۔ اک تعلق میں توقع کا زیاں کرنے سے  

اک تعلق میں توقع کا زیاں کرنے سے بد گُمانی بڑھی کچھ اور گماں کرنے سے اچھا لگتا تھا مجھے یوں ہی سلگنا لیکن سانس مشکل ہوا کمرے میں دھواں کرنے سے کچھ چھپاتا ہوں تو آنکھوں سے چھلک اٹھتا ہے میں عیاں ہونے لگا خود کو نہاں کرنے سے سوچتا رہتا ہوں لیکن نہیں کہتا کچھ بھی دل نے روکا ہے مجھے بات یہاں کرنے سے غم و اندوہ میں دل رک گیا میرا اک دن دھڑکنیں چلنے لگیں آہ و فغاں کرنے سے میں محبت کے لیے آیا…

Read More

ڈاکٹر افتخارالحق ۔۔۔ سسک رہی ہے زمیں اور آسماں چپ ہے  

سسک رہی ہے زمیں اور آسماں چپ ہے مکان گریہ کناں ہیں کہ لامکاں چپ ہے یہ کہہ کے منصفِ اعلیٰ نے فیصلہ لکھّا کہ مدّعی کے گواہوں کا ہر بیاں چپ ہے بتاتے رہتے ہیں ماضی کے ادھ جلے لمحے ہماری راکھ سے اٹھتا ہوا دھواں چپ ہے بساط چیخ رہی ہے لہو کے دریا میں مگر کنارے پہ تنظیمِ شاطراں چپ ہے نہ کوئی جوڑنے والا نہ روکنے والا ستارے ٹوٹتے جاتے ہیں کہکشاں چپ ہے جو بار بار بدلتا رہا مری مٹّی مری نمو سے پریشاں وہ…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ دل کو اسی سبب سے ہے اضطراب شاید  

دل کو اسی سبب سے ہے اضطراب شاید قاصد پھرا ہے لے کر خط کا جواب شاید آنکھیں چڑھی ہوئی ہیں باتیں ہیں بہکی بہکی آئے ہو تم کہیں سے پی کر شراب شاید کیا جانے کس ہوا میں اتنا اُبھر رہا ہے ہستی نہیں سمجھتا اپنی حباب شاید مجھ پر جو وہ سحر سے اس درجہ مہرباں ہیں شب کی دعا ہوئی ہے کچھ مستجاب شاید بیمار ہوں بندھی ہے دھن رات دن سفر کی غربت میں اپنی مٹی ہوگی خراب شاید پچھلے سے وصل کی شب آثار صبح…

Read More