مجھے بسنے نہ دے خالد مگر دستک تو دینے دے ترا دَر بن سکے گا میرا گھر آہستہ آہستہ
Read MoreTag: خالد احمد
خالد احمد
خالد احمد نے اس شعر میں دل کے درد کو سورج کی تمازت سے تشبیہ دے کر باطنی اذیت اور جذبات کی شدت کو نہایت مؤثر انداز میں ظاہر کیا ہے۔
Read Moreخالد احمد
گھل مل چلا تھا شب کے اندھیرے میں اک گناہ دھیرے سے در کو موجِ ہوا کھٹکھٹا گئی
Read Moreخالد احمد
حُسنِ آخر نے کیا حُسن کو آخر تجھ پر آخری روپ دیا ، آخری سُورت لکھی
Read Moreخالد احمد
رات نواگری بھی کی ، صُبح گداگری بھی کی خالدِ نکتہ سنج نے شہرِ ہنر شکار میں … Habeenkii wuxuu qaaday heesaha, aroortii wuxuu noqday faqeerKhaalid Nuktasanj wuxuu ugaarsaday magaalada fanka .. Aliimba nyimbo usiku, akaomba asubuhi;Khalid mwenye busara aliwinda katika mji wa sanaa. ….. እኩለ ሌሊት ዘፈኖች ዘፈነ፣ ጠዋት ጠየቀ፤ካህሊድ የጥበብ ሰው በአርት ከተማ ውስጥ ተከተለ። … Yayi waka da dare, ya roƙa da safe;Khalid mai hikima ya farauta a birnin fasaha. …. Ó kọ orin l’ọsan, ó bẹ̀bẹ̀ ní àárọ̀;Khalid olóye wẹ̀mẹ̀wẹ̀mẹ̀ ṣàwárí ní ìlú iṣẹ́ ọnà. ….…
Read Moreخالد احمد
بت کو دیکھا تو بت ہوا خالد جی میں تھا ، دیکھ کر گزر جاؤں
Read Moreخالد احمد खालिद अहमद
اہل زنداں کے لیے تازہ ہوا آنے کو ہے شہر جاناں سے کوئی تازہ نوا آنے کو ہے अहल-ए ज़िंदाँ के लिए ताज़ा हवा आने को हैशहर-ए जाँ से कोई ताज़ा नवा आने को है
Read Moreخالد احمد खालिद अहमद
اَے دَستِ ہُنر ، تُو نے فقط لفظ جَڑے ہیں سو پُھول پسِ حرف ، تہِ سطر پڑے ہیں ए दस्त-ए हुनर, तू ने फ़क़त लफ़्ज़ जड़े हैंसो फूल पस-ए हर्फ़, तह-ए सत्र पड़े हैं
Read Moreخالد احمد ۔۔۔ وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے
وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے کہ دل کا پاسباں کھٹکا ہوا ہے وہ مصرع تھا کہ اِک گل رنگ چہرہ ابھی تک ذہن میں اٹکا ہوا ہے ہم اُن آنکھوں کے زخمائے ہوئے ہیں یہ ہاتھ ، اُس ہاتھ کا جھٹکا ہوا ہے یقینی ہے اَب اِس دل کی تباہی یہ قریہ ، راہ سے بھٹکا ہوا ہے گلوں کے قہقہے ہیں، چہچہے ہیں چمن میں اِک چمن چٹکا ہوا ہے گلہ اُس کا کریں کس دل سے، خالد! یہ دل کب ایک چوکھٹ کا ہوا ہے…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ خالد احمد
نعت تو نے ہر شخص کی تقدیر میں عزت لکھی آخری خطبے کی صورت میں وصیت لکھی تو نے کچلے ہوئے لوگوں کا شرف لوٹایا عدل کے ساتھ ہی احسان کی دولت لکھی سرحدِ رنگ بہ عنوانِ اخوت ڈھائی ورقِ دہر پہ ہر سطر محبت لکھی تو نے ہر ذرے کو سورج سے ہم آہنگ کیا تو نے ہر قطرے میں اِک بحر کی وُسعت لکھی حسنِ آخر نے کیا حسن کو آخر تجھ پر آخری رُوپ دیا، آخری سورت لکھی تیرے اوصاف فقط تجھ سے بیاں ہوتے ہیں نعت…
Read More