خالد احمد खालिद अहमद

اہل زنداں کے لیے تازہ ہوا آنے کو ہے شہر جاناں سے کوئی تازہ نوا آنے کو ہے अहल-ए ज़िंदाँ के लिए ताज़ा हवा आने को हैशहर-ए जाँ से कोई ताज़ा नवा आने को है

Read More

خالد احمد खालिद अहमद

اَے دَستِ ہُنر ، تُو نے فقط لفظ جَڑے ہیں سو پُھول پسِ حرف ، تہِ سطر پڑے ہیں ए दस्त-ए हुनर, तू ने फ़क़त लफ़्ज़ जड़े हैंसो फूल पस-ए हर्फ़, तह-ए सत्‍र पड़े हैं

Read More

خالد احمد ۔۔۔ وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے

وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے کہ دل کا پاسباں کھٹکا ہوا ہے وہ مصرع تھا کہ اِک گل رنگ چہرہ ابھی تک ذہن میں اٹکا ہوا ہے ہم اُن آنکھوں کے زخمائے ہوئے ہیں یہ ہاتھ ، اُس ہاتھ کا جھٹکا ہوا ہے یقینی ہے اَب اِس دل کی تباہی یہ قریہ ، راہ سے بھٹکا ہوا ہے گلوں کے قہقہے ہیں، چہچہے ہیں چمن میں اِک چمن چٹکا ہوا ہے گلہ اُس کا کریں کس دل سے، خالد! یہ دل کب ایک چوکھٹ کا ہوا ہے…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ خالد احمد

نعت تو نے ہر شخص کی تقدیر میں عزت لکھی آخری خطبے کی صورت میں وصیت لکھی تو نے کچلے ہوئے لوگوں کا شرف لوٹایا عدل کے ساتھ ہی احسان کی دولت لکھی سرحدِ رنگ بہ عنوانِ اخوت ڈھائی ورقِ دہر پہ ہر سطر محبت لکھی تو نے ہر ذرے کو سورج سے ہم آہنگ کیا تو نے ہر قطرے میں اِک بحر کی وُسعت لکھی حسنِ آخر نے کیا حسن کو آخر تجھ پر آخری رُوپ دیا، آخری سورت لکھی تیرے اوصاف فقط تجھ سے بیاں ہوتے ہیں نعت…

Read More

خالد احمد ۔۔۔ اک اجاڑ بستی کا اک اداس جادہ تھا

اک اجاڑ بستی کا اک اداس جادہ تھا اور بادیہ پیما ایک مستِ بادہ تھا حسنِ کم نگاہی پر عمر بھر نہ کھل پایا دل کی بند مٹھی میں ایک حرفِ سادہ تھا عمر بھر کے غم لے کے چشم نم اُمڈ آئے وجہ ِ گرم بازاری اک غلام زادہ تھا ہرمحل پہ سایہ تھا کچھ دراز پلکوں کا خواب خواب آنکھوں میں ایک شاہ زادہ تھا بادشاہ کے گھر تک آنچ کس طرح آتی اس بساط پر باقی اب تک اک پیادہ تھا صبر کا علم اب تک سربلند…

Read More

خالد احمد

سوئے چراغ ، تاب و تبِ مہر کھا گئی لب گنگ اِک سخن میں ہوئے اہلِ فن تمام

Read More

خالد احمد

سر و سامانِ سفر مانگ لیا قاصدِ شام نے سر مانگ لیا

Read More

خالد احمد

کسی کے حسن کا انکار کفر ہے خالد سو اپنے عشق کا انکار کرکے دیکھتے ہیں

Read More

خالد احمد

اس بلندی پہ ہم نے پڑاؤ کیا جس کے آگے فقط پستیاں رہ گئیں

Read More

خالد احمد

کون دلوں میں الاؤ لگا دے چاہ کی چاہت کے کس کے در کا پہرہ دینے ، جاگیں چوکی دار

Read More