خورشید رضوی ۔۔۔ یہ سلسلہ ہے عجب ، سربسر ، بنایا ہوا

یہ سلسلہ ہے عجب ، سربسر ، بنایا ہوا یہ دل ، دلوں میں یہ شوقِ سفر ، بنایا ہوا بنی ہوئی سرِ قرطاس اک خیال کی دھوپ اور  اُس میں سایہ کناں اک شجر بنایا ہوا تھکے ہوئے در و دیوار ہیں نہ دو دستک کہ گر پڑے نہ کہیں گھرکا گھر بنایا ہوا بجا ہے ہم پہ اگر آپ کی ہے مشقِ ستم ہمیں نے آپ کو ہے معتبر بنایا ہوا زمانہ یوں ہے کہ جیسے کوئی حصارِ کُہن بنا کے ، توڑ کے ، بارِ دگر بنایا…

Read More

خورشید رضوی

شاید اسی لیے ہے شوریدگی زیادہ آنے لگا سمندر گُھٹ گُھٹ کے ندّیوں میں

Read More