سارے جہاں میں دھوم نبیؐ کے نگر کی ہے وہ سر زمینِ پاک شہِ بحر و بر کی ہے چھائی ہوئی ہے ارض و سما پر جو ہر طرف وہ روشنی حضورؐ ترے بام و در کی ہے ہم کو تو آپؐ ہی کی شفاعت پہ ہے یقیں اس دل میں کوئی جا نہیں خوف و خطر کی ہے شعر و سخن پہ کیوں نہ مجھے افتخار ہو وابستگی حضورؐ سے میرے ہنر کی ہے جو روشنی ازل سے ابد تک ضیا کرے ایسی کہاں مجال وہ شمس و قمر…
Read MoreTag: شعر
احمد فراز
ہنس نہ اتنا بھی فقیروں کے اکیلے پن پر جا خدا میری طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے
Read Moreمحمد علی ادیب ۔۔۔ عشق کا دیکھا ہے اثر میں نے
عشق کا دیکھا ہے اثر میں نے دل پہ جھیلا ہے اک غدر میں نے درد سے کر لی دوستی آخر جب نہیں پایا چارہ گر میں نے ایک فیضِ نگاہِ یار، تجھے کتنا ڈھونڈا ہے دربدر میں نے یہ الگ بات، خود ہوا رُسوا تْجھ کو رکھا ہے مْعتبر میں نے یہ محبت کی چھاؤں بانٹے گا جو لگایا ہے یہ شجر میں نے ایک شاعر کی چاہتیں دے کر کر دیا ہے تمھیں امر میں نے سوگ دل کا تھا چار دن کا ادیب اور نبھایا ہے عمر…
Read Moreاسد رضا سحر ۔۔۔ تو اگر ہم نشین ہو جائے
تو اگر ہم نشین ہو جائے زندگی پر یقین ہو جائے آسماں بعد کی کہانی ہے پہلے میری زمین ہو جائے آنکھ پر بھی کریگا پی ایچ ڈی آشنائے جبین ہو جائے پھونک پڑھ پڑھ کے سورۂ یوسف تاکہ بیٹا حسین ہو جائے اسکو مسند پہ بھی بٹھائیں گے قابلِ آستین ہو جائے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ صحنوں کی گھُٹن شہر کا مینار نہ جانے
ماجد صدیقی کی یہ غزل جذبات اور احساسات کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ اس میں ذاتی دکھ، سماجی ناانصافی اور انسان کے اندرونی و بیرونی تضادات کو سادہ مگر علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ شاعر اپنے کلام کے ذریعے دکھاتا ہے کہ انسان کے اندر کے درد اور باہر کی سخت حقیقتیں کس طرح آپس میں ٹکراتی ہیں۔
Read Moreنائلہ راٹھور ۔۔۔ خودفراموشی
خودفراموشی ۔۔۔۔ ضروری نہیں جنہیں ہم زندگی سے زیادہ اہم سمجھتے ہوں ان کے لئے بھی ہم اتنے ہی اہم ہوں کبھی کبھی ہم ساتھ تو ہوتے ہیں لیکن محسوس نہیں ہوتے وقت کے پلوں کے نیچے سے پانی گزر جاتا ہے خامشی روح میں گھر کر لیتی ہے زیست تنہا پسند ہو جاتی ہے ہم خود کو اتنا اکیلا کر لیتے ہیں کہ ہمیں خود کی بھی ضرورت نہیں رہتی اپنی ذات سے لاتعلقی بھی کبھی کبھی نعمت لگتی ہے درد ہوتے ہوئے بھی محسوس نہیں ہوتا ہجر و…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ آزادہ منش رہ دنیا میں پروائے امید و بیم نہ کر
جوش ملیح آبادی کی یہ غزل پرانی زنجیروں کو توڑ کر انسان کو آزادی اور ہمت کی نئی روشنی دکھاتی ہے۔ غزل کا لب و لہجہ اسے غزل کی روایت سے کوسوں دور کرتا محسوس ہوتا ہے۔
Read Moreثمینہ سید ۔۔۔ عشق میں شرک نہیں نہ کوئی بدعت کیجے
عشق میں شرک نہیں نہ کوئی بدعت کیجے عشق کا نام محبت ہے، محبت کیجے آئیں، اک بار مجھے دیکھ کے دیکھیں خود کو آئنہ بدلا نظر آئے تو حیرت کیجے ہار جانے پہ یوں شرمندہ نہیں ہونا ہے دوسرا دیتی ہوں موقع۔۔۔ذرا ہمت کیجے خود بڑے ہونے کا احساس نہ ہونے دیں اْنہیں گھر میں چپ چاپ پڑے رشتوں کی عزت کیجے زندگی اپنی محبت کے لیے ہی کم ہے آپ کو کس نے سکھایا ہے کہ نفرت کیجے فیصلہ دیجے جو حق والوں کے حق میں جائے مصلحت…
Read Moreعرفان صادق ۔۔۔ خشک پتا بھی گرے صحن میں ڈر جاتا ہوں
خشک پتا بھی گرے صحن میں ڈر جاتا ہوں شام ہوتے ہی میں سناٹوں سے بھر جاتا ہوں ٹیک جو مجھ سے لگائے کھڑے ہیں گر نہ پڑیں اس لیے پاؤں بدلتے ہوئے ڈر جاتا ہوں شام کی بانجھ ہتھیلی پہ چراغوں کی لویں تھرتھراتی ہیں تو میں خوف سے بھر جاتا ہوں جب جلاتی ہے مجھے لوگوں کے لہجوں کی تپش تری یادوں کے سمندر میں اتر جاتا ہوں ویسے اس عمر میں کچھ یاد کہاں رہتا ہے ویسے اک نام جو سن لوں تو ٹھہر جاتا ہوں جس…
Read Moreمہر علی ۔۔۔ مہتابِ نیم ، زرد ستارہ دکھائی دے
نوجوان شاعر مہر علی کی یہ غزل اپنی نکہت آفریں شاعرانہ لطافت اور دل پذیر اسلوب کے ساتھ حسنِ منظر نگاری اور رومانوی کیف کو ہم آہنگ کر دیتی ہے۔ اس کے مصرعوں میں امید کی نازک سی کرن یوں فروزاں ہے کہ قاری کو مسرّت و حُسن کا سرور عطا کرتی ہے، تاہم ساتھ ہی انسانی آرزوؤں کی شکست و ریخت اور قوت کی محدودیت کو نہایت بلیغ انداز میں آشکار کرتی ہے۔
Read More