افتخار شاہد کی یہ غزل روایتی عشقیہ مضامین کو دلنشیں استعارات اور خوش آہنگ پیرایۂ اظہار میں سموئے ہوئے ہے، تاہم مجموعی سطح پر تازگیِ مضمون اور فکری امتیاز کے اعتبار سے کچھ ناتواں محسوس ہوتی ہے۔
Read MoreTag: شعر
اعجاز دانش ۔۔۔ مجھے وہ بھول گیا ہے تو کوئی بات نہیں
مجھے وہ بھول گیا ہے تو کوئی بات نہیں نظر سے دور ہوا ہے تو کوئی بات نہیں کہاں ہر اک کا مقدر ہے آبلہ پائی جو زخم زخم ہرا ہے تو کوئی بات نہیں چراغِ فکر جلائیں گے محفلِ شب میں دیا بجھا کے گیا ہے تو کوئی بات نہیں چلے گی ٹھنڈی ہوا بھی، یقینِ کامل ہے چمن میں گرم ہوا ہے تو کوئی بات نہیں یہی ہے عشق کا تریاق ہم بھی کہتے ہیں جو اس نے زہر پیا ہے تو کوئی بات نہیں یہ اختلاف محبت…
Read Moreرخشندہ نوید ۔۔۔ دو غزلیں
مشکل روڑہ بن جاتا ہے ملن بچھوڑہ بن جاتا ہے آنسو ، آنسو مل کے سمندر یونہی تھوڑا بن جاتا ہے اتنا تیز دھڑکتا یہ دل پاگل گھوڑا بن جاتا ہے چار اطراف ، نکیلے پتھر حرف ، ہتھوڑا بن جاتا ہے انجانے دو انسانوں کا فلک پہ جوڑا بن جاتا ہے کینسر بعد میں ، دکھ کا پہلے بدن میں پھوڑا بن جاتا ہے موم کے اک پتلے سا انساں جدھر کو موڑا، بن جاتا ہے رخشندہ ! محبوب تمھارا ایک بھگوڑا بن جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ درد و غم…
Read Moreمسعود احمد ۔۔۔ پھولوں کو خوشبو آتی ہے
پھولوں کو خوشبو آتی ہے گلشن میں جب تو آتی ہے چاندنی چاندنی رات سے پہلے پیر تمہارے چھو آتی ہے جام صراحی جیسی لڑکی کرکے روز وضو آتی ہے برزخ کے اسرار میں گم صم نیند کسی پہلو آتی ہے سچ مچ میری ذات کے اندر مجھ سے پہلے تو آتی ہے لا تقنطو اس کی رحمت خلقت تقنطو آتی ہے چاروں جانب گھوم رہا ہوں جیسے تو ہر سو آتی ہے اس کی یاد بھی جیسے خود وہ خوش طینت خوش خو آتی ہے
Read Moreمستحسن جامی ۔۔۔ تم نے دیکھا ہے جسے وہ مری پرچھائی ہے
تم نے دیکھا ہے جسے وہ مری پرچھائی ہے اس سے بڑھ کر کوئی وحدت ہے نہ سچائی ہے اس لیے خال زمانے سے جدا ہیں میرے ان کو کیا علم کہ مٹی مری صحرائی ہے پہلے سرسبز بہاروں کے یہاں پھیرے تھے اب وہی حجرہ ہے اور چاروں طرف کائی ہے ایک مصرعے نے بدل ڈالی ہے رنگت اْس کی وہ جو کہتا تھا غزل قافیہ پیمائی ہے کوچۂ قلب میں آ جاؤ کسی روز اگر کوئی گہرائی ہے اس سمت، نہ اونچائی ہے پوچھتے کیا ہو مری عمرِ…
Read Moreراحت اندوری
چراغوں کا خانوادہ اپنے بقا و دوام کے لیے ہوا کی خوشامد اور اس کی رفاقت کا محتاج دکھائی دیتا ہے۔ گویا خیر و شر کے مابین قائم تعلق میں اہلِ خیر کی خود غرضی اور دو رخی کا گہرا عمل دخل ہے۔ اس شعر میں "دوستانہ چل رہا ہے” کی ترکیب زبان و بیان کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ محض مطلع کی تکمیل اور "گھرانہ” کے ساتھ "دوستانہ” کا قافیہ باندھنے کی غرض سے یہ لفظ برتا گیا ہے، جس سے معنی کی لطافت ماند پڑ گئی ہے۔
(کارواں)
ادا جعفری
یہ شعر ادا جعفری کے تخیل کی لطافت، احساس کی شدت، اور زبان کی نزاکت کا شاہکار ہے۔ شاعرہ نے تمنائے التفات کو ماہتابی اُمید کے استعارے میں ڈھال کر ایک ایسا منظر تخلیق کیا ہے جو اندھیری رات کے سینے میں چھپی روشنی کی تمنا کا پیکر بن جاتا ہے۔
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ اِسے کیا نام دیں
جلیل عالی کی یہ نظم اہلِ قلم کی مصلحت گزینی، اخلاقی سودے بازی، اور حق گوئی سے انحراف پر ایک تلخ مگر نہایت شائستہ چوٹ ہے۔
جلیل عالی نے نرسری، پودے، درخت، دیے، اور جھونکوں جیسے فطری استعاروں کے ذریعے سماج کی فکری منافقت کو بے نقاب کیا ہے۔
یہ کلام ضمیر کے باغ میں اگنے والے سچ کے درختوں پر چلنے والی کلہاڑیوں کے خلاف ایک باوقار اور بے باک شاعرانہ مزاحمت ہے۔
ظہور چوہان ۔۔۔ مثالِ ابر کڑی دھوپ میں بھی سایہ کرے
ظہور چوہان کی یہ غزل جدائی، تنہائی، اور داخلی کشمکش کی گہری کیفیات کو شاعرانہ پیرائے میں بیان کرتی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کی غیر موجودگی میں بھی اس کے سائے کی خواہش رکھتا ہے، اور فراق کی اس کیفیت کو "بامِ ہجر” جیسے علامتی استعارے سے مجسم کرتا ہے۔ وہ محبوب سے دوری میں بکھر جانے کے احساس سے دوچار ہے اور اس کی موجودگی کو بھی ناقابلِ برداشت پاتا ہے۔
غزل کا ہر شعر خواب و حقیقت، روشنی و تاریکی، اور قرب و فاصلہ جیسے متضاد کیفیات کو ہم آہنگ کرتا ہے۔ آخری شعر میں "فلک پہ صبح کو سورج ظہور ہونے تک” جیسا شعری اظہار شاعر کے وجودی کرب اور شب گزیدہ تمناؤں کی علامت ہے۔
یہ غزل ظہور چوہان کی فکری گہرائی، شعری نرمی، اور جذباتی شدت کی بہترین مثال ہے۔
Read Moreخالد احمد
یہ شعر خالد احمد کی گہرے جذباتی شعور اور کربِ مسلسل کا نچوڑ ہے، جس میں زخم خوردہ دلوں کے لیے الفاظ کی اذیت ناک تاثیر کو بیان کیا گیا ہے۔
Read More