کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا
Read MoreTag: عبیداللہ علیم کی غزلیں
عبیداللہ علیم
کوئی رنگ تو دو مرے چہرے کو پھر زخم اگر مہکاؤ تو کیا
Read Moreعبیداللہ علیم
کہاں شکست ہوئی اور کہاں صلہ پایا کسی کا عشق کسی سے نباہتا تھا میں
Read Moreعبیداللہ علیم
جب ہم ہی نہ مہکے پھر صاحب! تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا
Read Moreعبیداللہ علیم
تم اپنے رنگ نہاؤ میں اپنی موج اڑوں وہ بات بھول بھی جاؤ جو آنی جانی ہوئی
Read Moreعبیداللہ علیم
جو چاہے سجدہ گزارے جو چاہے ٹھکرا دے پڑا ہوا میں زمانے کی رہ گزر میں ہوں
Read Moreعبیداللہ علیم ۔۔۔ جوانی کیا ہوئی اِک رات کی کہانی ہوئی
جوانی کیا ہوئی اِک رات کی کہانی ہوئی بدن پُرانا ہوا، روح بھی پرانی ہوئی کوئی عزیز نہیں ماسوائے ذات ہمیں اگر ہوا ہے تو یوں جیسے زندگانی ہوئی نہ ہوگی خشک کہ شاید وہ لوٹ آئے پھر یہ کشت گزرے ہوئے ابر کی نشانی ہوئی تم اپنے رنگ نہاؤ میں اپنی موج اُڑوں وہ بات بھول بھی جاؤ جو آنی جانی ہوئی میں اُس کو بھول گیا ہوں وہ مجھ کو بھول گیا تو پھر یہ دل پہ کیوں دستک سی ناگہانی ہوئی کہاں تک اور بھلا جاں کا…
Read More