ممتاز شیریں ممتاز شیریں نے اُردو افسانے ہی میں کامیابی کے جھنڈے نہیں گاڑے بلکہ حسن عسکری کی ٹھریک پر وہ ایک بہترین ادبی ناقد کے طور پر بھی نمایاں ہوئیں۔اکثر ناقدین فن کا خیال ہے کہ اُں کے اکثر افسانوں میں سوانحی رنگ، ذاتی زندگی، میاں بیوی کی والہانہ محبت، خوش گوار زندگی، استوار تعلقات کا ذکر ملتا ہے۔بہر حال اگر ذاتی زندگی اور تجربات کو بھی افسانوں کا موضوع بنایا جائے تو اِس میں بھی کوئی قباحت نہیں۔اُن کے افسانوں میں اکثر پلاٹ اسی نوعیت کے ہیں۔جیسے اُنہوں…
Read MoreTag: Akram Kunjahi
اکرم کنجاہی ۔۔۔ نثار بٹ عزیز
نثار عزیز بٹ نثار عزیز بٹ نے ناول کے علاوہ کسی صنفِ ادب میں نہیں لکھا، البتہ اُن کے سوانح حیات ’’گئے دنوں اک سراغ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔عالمی اور روسی ادب پر اُن کی گہری نظر تھی۔ نثار کا پہلا ناول’’نگری نگری پھرا مسافر‘‘ ۱۹۵۴ء میں منظر عام پر آیا تھا۔پھراُن کے دوسرے ناول’’نے چراغے نے گلے‘‘ ۱۹۷۳ء نے اشاعت کی منزلیں طے کیں اور ۱۹۸۰ء کے اواخر میں انہوں نے’’کاروانِ وجود‘‘ پیش کیا تھا۔ ان کے ناقدین نے انہیں وہ مقام نہیں دیا جس کی وہ مستحق…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ رضیہ فصیح احمد
رضیہ فصیح احمد پاکستانی ناول نگار خواتین میں رضیہ فصیح احمد کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے ڈرامے بھی لکھے ہیں۔وہ مراد آباد (متحدہ ہندوستان) میں ۱۹۲۴ء میں پیدا ہوئیں۔ تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہو گئیں۔پہلا افسانہ ’’نا تمام تصویر‘‘ ۱۹۴۸ء عصمت کراچی میں شائع ہوا۔افسانوی مجموعے دو پاٹن کے بیچ، بے سمت مسافر، یہ خواب سارے، بارش کا آخری قطرہ، کالی برف کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔یوں ان کی ابتدائی شہرت ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے ہوئی۔وہ اپنے افسانوں کی بنیادی اپنے گردو پیش…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ رشیدہ رضویہ
رشیدہ رضویہ رشیدہ رضویہ کو وہ پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جس کی وہ حق دار تھیں۔ خاص طور پر اُن کا ناول ’’گھر میرا راستے غم کے‘‘ سراہا جانا چاہیے تھا۔ اُن کے ناولوں میں تاریخ اور فکشن ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلنے کے لیے بعض اوقات ایک دوسرے سے دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ابتدا میں رشیدہ رضویہ کے افسانوی مجموعے ’’شہر سلگتا ہے‘‘،’’کھنڈر کھنڈر بابل‘‘ (۱۹۵۹ء)کے نام سے سامنے آئے۔ بعد ازاں انہوں نے تین ناول لکھے:َ جن میں’’لڑکی ایک دل کے ویرانے میں‘‘ (۱۹۶۷ء) میں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ واجدہ تبسم
واجدہ تبسم واجدہ تبسم ۱۶؍ مارچ ۱۹۳۵ء کے روز امراؤتی میں پیدا ہوئیں۔اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’شہرِ ممنوع‘‘ ۱۹۶۱ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں توبہ توبہ، آیا بسنت سکھی، اُترن، نتھ کا بوجھ، محبت، دھنک کے رنگ نہیں، جیسے دریا، گلی گلی کہانیاں، پھول کھلنے دو، نتھ کا غرور، چٹنی وغیرہ اشاعت پذیر ہوئے۔اُن کا ناول ’’کیسے کاٹوں رین اندھیری‘‘ ۱۹۷۶ء میں شائع ہوا۔’’پھول کھلنے دو‘‘ ۱۹۷۷ء، ’’زن، زر اور زمین‘‘ ۱۹۹۲ء۔ علاوہ ازیں قصاص اور نتھ کی عزت کے نام سے بھی اُن کے ناول شائع ہوئے۔’’بند دروازے‘‘…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ بانو قدسیہ
بانو قدسیہ بانو قدسیہ ۸ ؍نومبر ۱۹۲۸ ء کے روز فیروز پور مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ قیام پاکستان کے بعد والدین کے ساتھ لاہور منتقل ہوئیں۔ انہیں زیادہ شہرت اُن کے ناول ’’راجہ گدھ‘‘ سے ملی جو ادبی حلقوں میں زیرِ بحث رہتاہے مگر اُن کے کئی افسانوی مجموعے اشاعت پذیر ہوئے جن میں ناقابلِ ذکر، توجہ کی طالب(افسانوی کلیات)، امر بیل، باز گشت، کچھ اور نہیں، دانت کا دستہ، آتشِ زیرِ پااور دوسرا قدم، دوسرا دروازہ شامل بھی ہیں۔ اُن کا پہلا افسانہ’’وا ماندگیٔ شوق‘‘ ۱۹۵۰ء میں ادبِ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ فرخندہ لودھی
فرخندہ لودھی ۲۱؍ مارچ ۱۹۳۷ ء کے روز ساہیوال میں پیدا ہوئیں۔آبا ؤ اجداد کا تعلق ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) سے تھا۔پہلا افسانہ گولڈ فلیک ۱۹۶۴ء میں لکھا۔اُن کے افسانوی مجموعے شہر کے لوگ، آرسی، خوابوں کے کھیت اور جب بجا کٹورا کے نام سے اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔انہوں نے جرات اور حوصلہ مندی کے ساتھ زندگی کے حقائق بیان کیے۔ اگرچہ اُن کے اسلوبِ بیان میں علامت کا بھی عمل دخل ہے مگر اُن کی علامتیں کہانی کے ساتھ آگے بڑھتی اور خود اپنے مفاہیم واضح کرتی چلی…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ بشری رحمن
بشری رحمن بشری رحمن۱۹۴۴ ء میںبہاول پور میں پیدا ہوئیں۔اُردو، پنجابی اور سرائیکی میں لکھتی ہیں۔ اُن کی شخصیت کی کئی جہات ہیں۔ناول نگار، افسانہ نگار، سفرنامہ نگار، شاعرہ، مقررہ، سیاست دان اورسماجی خدمت گارڈیڑھ درجن کے قریب ناول اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔مثلاً بت شکن، چپ، پشیمان،پیاسی،چارہ گری،خوبصورت،عشق عشق،قلم کہانیاں، مولانا ابو الکلام آزاد، ایک مطالعہ، چاند سے نہ کھیلو،کائنات بشیر۔اُن کے کئی ناولوں کوٹیلی وژن چینلز نے ڈرامائی تشکیل دی۔ پاکستان میں پہلی باقاعدہ خاتون کالم نگار جنگ اور نوائے وقت میں ’’چادر، چار دیواری اور چاندنی‘‘ بے…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ حمیدہ شاہین
حمیدہ شاہین اُن کا پہلا شعری مجموعہ ’’دستک‘‘جو غزلوں اور نظموں پر مشتمل تھا، ۲۰۰۵ء میں منظر عام پر آیا۔اُن کی شاعری در اصل جدید حسّیت اور عصری حسّیت کا عمدہ امتزاج ہے۔وجدانی کیفیات اور شعوری تجربات و مشاہدات کا حسنِ توازن ہے۔ اِس لیے یہ آج کی حقیقی شاعری ہے جو اُردو غزل کا تاریخی ارتقا بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے اور لچک دار اِس قدر ہے کہ عصری آشوب سے بھی پہلو تہی نہیں کرتی۔ اسلوبِ بیاں ایسا کہ روایت سے آگہی کلام میں جھلکتی محسوس…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ خدیجہ مستور
خدیجہ مستور خدیجہ مستور اور قرۃ العین حیدر دو ایسی خواتین ہیں جن سے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ ڈاکٹر رشید جہاں اور عصمت چغتائی کے بعد اُنہوں نے ایک عہد کو متاثر کیا تو چنداں غلط نہ ہو گا۔خدیجہ نے اوّل اوّل شعر گوئی کی کوشش بھی کی مگر اُس میں انہیں کامیابی نصیب نہ ہوئی کہ اللہ کریم نے انہیں ایک مختلف کلام کے لیے منتخب کیا تھا۔ اُن کے ناول ’’آنگن‘‘ اور ’’آگ کا دریا ‘‘ میں مشترک قدر یہ ہے کہ قرۃ العین نے ہندوستان…
Read More