اتار کر تجھے کیا کیا نہ میں ہُوا عریاں مرے بدن پہ فقط ایک ہی لباس تھا تُو
Read MoreTag: Poets
پرتپال سنگھ بے تاب… آج محصور ہیں دیمک زدہ دیواروں میں
آج محصور ہیں دیمک زدہ دیواروں میںہم بھی شامل تھے کبھی شہر کے معماروں میں آخرش ہاتھ جلا ہی لیے اپنے ہم نےجانے کیوں پھول نظر آتے تھے انگاروں میں یہ کسی سے نہ کہا لعل و جواہر تھے ہمپتھروں کی طرح بکتے رہے بازاروں میں دیر تک دستکیں دیتی رہی قسمت در پراور ہم اُلجھے رہے اپنے ہی پنداروں میں زندگی تیرے اداکار تھے کیسے ہم بھیسامنے آتے رہے ہیں کئی کرداروں میں وقت ہے کر لو مرمت ابھی گھر کی بیتابابھی روزن نہیں ظاہر ہوئے دیواروں میں
Read Moreاسحاق وردگ
دیار خواب میں غالب کے ساتھ دن گزرا تو رات میر کے حجرے میں،شام داغ کے ساتھ
Read Moreجعفر شیرازی
بجلی کڑکی، بادل گرجا، میں خاموش رہا اس کہرام میں بھی، اے دنیا! میں خاموش رہا
Read Moreجگت موہن لال رواں
راہ و رسمِ ابتدائی دیکھ لی انتہائے بے وفائی دیکھ لی
Read Moreجاں نثار اختر ۔۔۔ اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں
اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیںکچھ شعر فقط اُن کو سنانے کے لیے ہیں اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیںکچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کیورنہ یہ فقط آگ بجھانے کے لیے ہیں آنکھوں میں جو بھر لو گے تو کانٹوں سے چبھیں گےیہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھمندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں یہ علم کا سودا، یہ رسالے، یہ…
Read Moreسید فخر الدین بلے ۔۔۔ 6 ستمبر (ایک نظم 65 کی پاک بھارت جنگ پر )
6 ستمبر (ایک نظم 65 کی پاک بھارت جنگ پر ) ……………………….. چھ ستمبر کی سحر لائی تھی ظلمت کا پیام وحشت و حیوانیت کا بربریت کا پیام بھارتی سینا نے شب خوں مار کر لاہور پر اہل ِایماں کو دیا قربِ قیامت کا پیام دُھن پہ توپوں کی اہنسا کے بھجن گاتے ہوئے سوتے شہروں پر بموں کے پھول برساتے ہوئے رات کو پچھلے پہر “پربھات پھیری” کےلئے سورما! آئے لہو اشنان کرواتے ہوئے امتیازِ حق و باطل کو مٹانے کےلئے آٹھ صدیوں کا ہر اک قرضہ چکانے کےلئے…
Read Moreطارق بٹ ۔۔۔ کوئی اس درجہ کامران نہ تھا
کوئی اس درجہ کامران نہ تھا ہم جہاں تھے وہ آسمان نہ تھا کہیں بے انت تھا نشان اپنا یہ زمان اور یہ مکان نہ تھا کوئی تھا، میں تھا یا کہ تو ہی تو کیا تھا جب کچھ بھی درمیان نہ تھا آپ اپنا بیاں ہے، ہر موجود سچ کسی لمحہ بے زبان نہ تھا تختۂ دار سا نہ تخت کوئی جس نے پایا، اسے گمان نہ تھا
Read Moreلطیف ساحل
سرِ شاخِ سبز گلاب ہے کہ ہے آئینہ ترا روپ ہے کوئی خواب ہے کہ ہے آئینہ مجھے پھر سے اپنی تلاش ہے ترے روبرو تجھے کیا خبر یہ شباب ہے کہ ہے آئینہ
Read Moreلطیف ساحل… آباد تنہائی
آباد تنہائی ہمارے گھر کے پودوں کی گداز و نرم شاخوں پر پرندے گھر بناتے ہیں یہاں ان کو ہمارے درمیاں رہ کر بھی اک تنہائی ملتی ہے ہمیں اک دوسروں کے گھونسلوں میں جھانکنے کی کیا ضرورت ہے در و بستِ گل و لالہ میں سب مصروف رہتے ہیں یہاں تنہائی بھی ہر شخص کو ہر چیز کو آرام دیتی ہے یہاں جب تک کوئی واپس نہیں آتا ہمارے سب کی تنہائی مکمل ہی نہیں ہوتی
Read More