ٹکرائیے ہجوم سے اور جان جائیے دیوار کون کون ہے، رستہ ہے کون کون
Read MoreTag: Poets
لطیف ساحل … دل مرا دستِ ریزہ کار میں تھا
دل مرا دستِ ریزہ کار میں تھا جو کرے اس کے اختیار میں تھا میں نے بھی سر پہ خاک ڈالی تھی وہ بھی اڑتے ہوئے غبار میں تھا اک نئی صبح ڈھونڈ لائی مجھے میں ابھی رات کے حصار میں تھا مجھ کو بھی معجزے کی خواہش تھی وہ بھی ‘ہونے’ کے انتظار میں تھا تو ہی لایا شمار میں مجھ کو میں ہمیشہ سے بے شمار میں تھا وہ بظاہر تھی ایک تنہا بیل اک جہاں اس کے برگ و بار میں تھا
Read Moreصہیب اکرام … خواب سے اور آئینے سے دور ہوں
خواب سے اور آئنے سے دور ہوں جیسے میں ہر مسئلے سے دور ہوں خوب دِکھتا ہے جہاں سے یہ سماں میں ذرا اِس زاویے سے دور ہوں بس یہ کچھ ہونے کا ڈر جاتا نہیں ویسے میں ہر واہمے سے دور ہوں آپ ہی کہیے جنوں کا کیا کریں میں تو اب اس مخمصے سے دور ہوں اے زمیں گردش سے فرصت ہو تو دیکھ میں ترے اس دائرے سے دور ہوں آئیے، کار مشقت کیجیے میں بقا کے سلسلے سے دور ہوں خود سے باہر آ گیا ہوں…
Read Moreصہیب اکرام
بس یونہی اک دن ہوا کے ساتھ چل نکلے صہیب رہ گیا اسباب سب دہلیز پر رکھا ہوا
Read Moreصہیب اکرام
ہم فلک زاد بھی ان سبز زمینوں پہ صہیب ایسے اترے ہیں کہ پھر نقل مکانی سے گئے
Read Moreمسعود منور
مُجھ میں رہتا ہے اک ہجوم مقیم میں کوئی ایک فرد ہوں ہی نہیں
Read Moreمسعود منور ۔۔۔ جو ہُوا صاف صاف لکھا ہے
جو ہُوا صاف صاف لکھا ہے تجھ سے ہر اختلاف لکھا ہے گو تلفظ نہ تھا درست اپنا پھر بھی ہر شین قاف لکھا ہے مجھ سے جو گفتگو میں چھوٹ گیا سارا لاف و گزاف لکھا ہے ففٹی ففٹی تھے تیرے میرے گناہ میں نے بھی ہاف ہاف لکھا ہے برفباری میں خوفِ سرما سے تجھ کو اپنا لحاف لکھا ہے کیس میں قتلِ عاشقاں کے تجھے میں نے وعدہ معاف لکھا ہے آڑے ترچھے خطوط میں مسعود زندگی کا گراف لکھا ہے
Read Moreحسین مجروح
یہ نقدِ جاں ہے اسے سُود پر نہیں دیتے جسے طلب ہو ، وہ ہم سے مضاربہ کر لے
Read Moreسعید راجہ
وہ کیا پُر نور آنکھیں تھیں وہ کیا پُر نور آنکھیں تھیں جنہیں میں خواب میں دیکھا دمک جتنی قمر میں ہے ستاروں کی چمک ساری نشہ جو مے میں ہوتا ہے جو وسعت ہے سمندر میں بہاروں کی دلآویزی یہ زرخیزی بھی موسم کی تصور کا مکمل پن لکھی جاتی ہیں جو نظمیں غزل کہتے ہیں شاعر جو مسیحا کی مسیحائی حقیقت میں فسانہ اور فسانوں میں حقیقت بھی اُنھی آنکھوں کا صدقہ ہے جنہیں میں خواب میں دیکھا
Read Moreقمر رضا شہزاد ۔۔۔ زنداں میں روشنی کا وسیلہ بناتا میں
زنداں میں روشنی کا وسیلہ بناتا میں مٹی کرید کر کوئی رستہ بناتا میں کرتو لئے ہیں جمع یہاں ڈھیر سارے خواب اب اس سے بڑھ کے کتنا خزانہ بناتا میں اینٹیں اٹھا اٹھا کے گنوائے ہیں اپنے ہاتھ بہتر تھا ان کو جوڑ کے کاسہ بناتا میں اب خود ہی سوچتا ہوں کہ کیکر کی شاخ سے یونہی قلم بنایا ہے نیزہ بناتا میں یوں تو دکھائی دیتے ہیں یہ سانس لیتے لوگ ان میں کسی کو واقعی ز ندہ بناتا میں
Read More