انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی…
Read MoreTag: qamar jalalvi's ghazal
قمر جلالوی ۔۔۔ نہ جانے ساغر و مینا پہ پیمانے پہ کیا گزری
نہ جانے ساغر و مینا پہ پیمانے پہ کیا گزری جو ہم پی کر چلے آئے تو میخانے پہ کیا گزری بڑی رنگینیاں تھیں اولِ شب ان کی محفل میں بتاؤ بزم والو رات ڈھل جانے پر کیا گزری چھپائیں گے کہاں تک رازِ محفل شمع کے آنسو کہے گی خاکِ پروانہ کہ پروانے پہ کیا گزری مرا دل جانتا ہے دونوں منظر میں نے دیکھے ہیں ترے آنے پہ کیا گزری ترے جانے پہ کیا گزر ی بگولے مجھ سے کوسوں دور بھاگے دشتِ وحشت میں بس اتنا میں…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیے ہوئے
دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیے ہوئے دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیے ہوئے دیکھا خدا پہ چھوڑ کہ کشتی کو نا خدا جیسے خود آگیا کوئی ساحل لیے ہوئے دیکھو ہمارے صبر کی ہمت نہ ٹوٹ جائے تم رات دن ستاؤ مگر دل لیے ہوئے وہ شب بھی یاد ہے کہ میں پہنچا تھا بزم میں ! اور تم اٹھے تھے رونق محفل لیے ہوئے بیٹھا جو دل تو چاند دکھا کر کہا قمر ! وہ سامنے چراغ ہے منزل لیے ہوئے
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانی…
Read Moreاستاد قمر جلالوی
اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ غزلیں
گر پڑی ہے جب سے بجلی دشتِ ایمن کے قریب مدتیں گزریں نہیں آتے وہ چلمن کے قریب میرا گھر جلنا لکھا تھا ورنہ تھی پھولوں پہ اوس ہر طرف پانی ہی پانی تھا نشیمن کے قریب اب ذرا سے فاصلے پر ہے حدِ دستِ جنوں آ گیا چاکِ گریباں بڑھ کے دامن کے قریب وہ تو یوں کہیے سرِ محشر خیال آ ہی گیا ہاتھ جا پہنچا تھا ورنہ ان کے دامن کے قریب میں قفس سے چھٹ کے جب آیا تو اتنا فرق تھا برق تھی گلشن کے…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو
آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو نغمہ ہو جاتا ہے بے کیف اگر ساز نہ ہو میں نے منزل کے لیے راہ بدل دی ورنہ روک لے دیر جو کعبہ خلل انداز نہ ہو مرتے مرتے بھی کہا کچھ نہ مریضِ غم نے پاس یہ تھا کہ مسیحا کا عیاں راز نہ ہو ساقیا، جام ہے ٹوٹے گا صدا آئے گی یہ مرا دل تو نہیں ہے کہ جو آواز نہ ہو اے دعائے دلِ مجبور! وہاں جا تو سہی لوٹ آنا درِ مقبول اگر باز…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ ایک جا رہنا نہیں لکھا میری تقدیر میں
ایک جا رہنا نہیں لکھا میری تقدیر میں آج گر صحرا میں ہوں کل خانۂ زنجیر میں اقربا نا خوش وہ بزمِ دشمنِ بے پیر میں موت ہی لکھی ہی کیا بیمار کی تقدیر میں بات کر میری لحد پر غیر ہی سے بات کر یہ سنا ہے پھول جھڑتے ہیں تری تقریر میں سیکھ اب میری نظر سے حسن کی زیبائشیں سینکڑوں رنگینیاں بھر دیں تری تصویر میں پاسِ آدابِ اسیری تیرے دیوانے کو ہے ورنہ یہ زنجیر کچھ زنجیر ہے زنجیر میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں ان کو وہ…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تو نے
نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تو نے کچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تو نے اس کرم کو مری مایوس نظر سے پوچھو ساقی بیٹھا رہا اور اٹھ کے پلا دی تم نے یہ کہو پیشِ خدا حشر میں منشا کیا تھا میں کوئی دور کھڑا تھا جو صدا دی تم نے ان کے آتے ہی مزہ جب ہے مرا دم نکلے وہ یہ کہتے ہوئے رہ جائیں دغا دی تم نے کھلبلی مچ گئی تاروں میں قمر نے دیکھا شب کو یہ چاند سی صورت…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ جا رہے ہیں راہ میں کہتے ہوئے یوں دل سے ہم
چھوٹ سکتے ہی نہیں طوفان کی مشکل سے ہم جاؤ بس اب مل چکے کشتی سے تم، ساحل سے ہم جا رہے ہیں راہ میں کہتے ہوئے یوں دل سے ہم تو نہ رہ جانا کہیں اٹھیں اگر محفل سے ہم وہ سبق آئے ہیں لے کر اضطرابِ دل سے ہم یاد رکھیں گے کہ اٹھے تھے تری محفل سے ہم اب نہ آوازِِ جرس ہے اور نہ گردِ کارواں یا تو منزل رہ گئی یا رہ گئے منزل سے ہم روکتا تھا نا خدا کشتی کہ طوفاں آگیا تم…
Read More