سید ریاض حسین زیدی ۔۔۔ گلوں کی خندہ لبی سے ملی ہے آسائش

گلوں کی خندہ لبی سے ملی ہے آسائش
عروج پر ہے بہارِ چمن کی آرائش

سہانی یاد سے دل میں مہک سی اٹھتی ہے
نفس نفس میں بہاراں ہوئی ہے زیبائش

طلب کریں بھی کوئی مشورہ تو خود سے کریں
جہاں میں ایک یہی معتبر ہے فہمائش

یہ سوئے ظن،یہ بد اندیش وسوسے توبہ
خدا کرے،رہے،یہ دور ہم سے آلائش

رکیں تو وسعتِ صحرا بھی بڑھتی جاتی ہے
بڑھیں تو خاک ہماری نظر میں آسائش

ہزار موسموں کے پیچ و خم سے گزری ہے
فروغِ دیدۂ و دل پھر بنی ہے افزائش

دل و نظر کی حمیت پہ شاق گزری ہے
لبوں پہ پھول کے آئی ہے جب بھی فرمائش

خیالِ یار نے آسودگی عطا کی ہے
ٹھٹھرتی صبح کو جیسے ملی ہو گرمائش

سدا ریاض رہے بے نیاز حبِ طلب
ضعیف کرتی ہے سودوزیاں کی پیمائش

Related posts

Leave a Comment