شناور اسحاق ۔۔۔۔۔۔ اُس بدن میں کوئی روشنی سے جدا روشنی تھی

اُس بدن میں کوئی روشنی سے جدا روشنی تھی
تھی تو وہ خاک زادی مگر با خدا روشنی تھی

یاد آتے ہی لو دینے لگتی ہیں پوریں بدن کی

زیرِ بندِ قبا، سر تا پا، یار! کیا روشنی تھی

یہ تو میں کہ رہا ہوں، ہمارے لیے تھی، وگرنہ

اُس پہاڑی کے چاروں طرف بے ریا روشنی تھی

میں جہاں تھا وہاں بستیوں میں اندھیرے بہت تھے

اور جہاں روشنی تھی، وہاں بے بہا روشنی تھی

روشنی کے پرستار اک مخمصے میں پڑے تھے

اِک طرف تیرگی، اِک بے خدا روشنی تھی

جس طرف برف تھی، اُس طرف چاند ڈوبا ہوا تھا

جس طرف آگ تھی اُس طرف بدنما روشنی تھی

روشنی کے بہاؤ میں بے دست و پا بہہ رہا ہوں

جب اندھیرے میں تھا، میری پہلی دعا روشنی تھی

Related posts

Leave a Comment