غلام حسین ساجد ۔۔۔ اوٹ میں آ گیا اُس کا ہم رقص تو مَیں دِکھائی دیا

اوٹ میں آ گیا اُس کا ہم رقص تو مَیں دِکھائی دیا
ضم ہُوا آئنے میں مِرا عکس تو مَیں دِکھائی دیا

مجھ سے غافل تھا کیوں کہ مکمّل تھا مَیں اور اکمل تھا مَیں
اور ظاہر ہُوا جب مِرا نقص تو مَیں دِکھائی دیا

میری پہچان پر کوئی قدغن نہ تھی پھر بھی ممکن نہ تھی
جب الگ ہو گیا مجھ سے ہر شخص تو مَیں دِکھائی دیا

بے ضرر جان کر مجھ سے غافل تھا وہ، کیسا عامل تھا وہ
کچھ ہُوا جب توقّع کے برعکس تو مَیں دِکھائی دیا

ایک ہنگامہ تھا جس میں ساجدؔ کہاں وہ مجھے ڈھونڈتا
ختم ہونے پہ آیا ہے جب رقص تو مَیں دِکھائی دیا

Related posts

Leave a Comment