غلام حسین ساجد ۔۔۔ کیسا حرف گر ہوں مَیں، بات میں اثر نہیں

کیسا حرف گر ہوں مَیں، بات میں اثر نہیں
خواب کا اسیر ہوں، نیند کی خبر نہیں

حق کی بات کہتا ہوں اور مزے میں رہتا ہوں
اب تو کوئی غم نہیں، اب تو کوئی ڈر نہیں

آپ کا اسیر ہوں، آپ کا سفیر ہوں
بات مختصر سی ہے اور مختصر نہیں

کس کی خواب گہ ہے یہ، کون سی جگہ ہے یہ
سر پہ آسماں نہیں، دامِ بحر و بر نہیں

سب سے بدگمان تھا جب مجھے گمان تھا
مجھ سا دوسرا کوئی فرشِ خاک پر نہیں

جانتے نہیں ہیں کیا ایک دوسرے کو ہم!
تُو بھی بے بصر نہیں، مَیں بھی بے بصر نہیں

عشق آشنا ہوں مَیں، کوئی آئنہ ہوں مَیں
کاروبارِ شوق ہے اور شور و شر نہیں

رنج آشنا ہوں مَیں، خود سے بھی خفا ہوں مَیں
جس کا منتظر ہے تُو، مَیں وہ کوزہ گر نہیں

کوئی تیز گام ہو خواب کا غلام ہو
صبح آئے گی مگر کَل سے پیشتر نہیں

Related posts

Leave a Comment