حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی

اُتری مرے خیال پہ مشکِ ختن تمام
سوچا خدا کا نام تو مہکا بدن تمام

طائر نسیمِ صبح کے ہمراہ صبح دم
ذکرِ خدائے پاک میں دیکھے مگن تمام

لکھا مرے قلم نے جب’’ ایاک نستعیں‘‘
خوشبو مثال ہو گئے حرف و سخن تمام

نبضِ حیات اس کے ہی دم سے رواں دواں
ٹھہرا ہے جس کے ِاذن سے چرخِ کہن تمام

طاقت تمام دین کے رستے میں صرف ہو
کام آئے اس کی راہ میں ضعفِ بدن تمام

سانسوں میں اس کے ذکر کی نوبت کی گونج ہے
تسبیح جس کی کرتے ہیں کوہ ودمن تمام

پلکوں پہ اک نمی سی ہے سرور بوقتِ حمد
گویا قبول ہو گئی مشقِ سخن تمام

Related posts

Leave a Comment