جوگن کا بنا کر بھیس پھرےبرہن ہے کوئی ، چو دیس پھرےسینے میں لیے سینے کی دُکھنآتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن پھولوں نے کہا، کانٹوں نے کہاکچھ دیر ٹھہر، دامن نہ چھڑاپر اِس کا چلن، وحشی کا چلنآتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن اس کا تو کہیں مسکن نہ مکاںآوارہ بہ دل ، آوارہ بہ جاںلوگوں کے ہیں گھر، لوگوں کے وطنآتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن یہاں کون پوَن کی نگاہ میں ہےوہ جو راہ میں ہے، بس راہ میں ہےپربت کہ…
Read MoreMonth: 2022 جنوری
ابنِ انشا
کھیلنے دو انھیں عشق کی بازی، کھیلیں گے تو سیکھیں گے قیس کی یا فرہاد کی خاطر کھولیں کیا اسکول میاں
Read Moreرضوان احمد ۔۔۔ منٹو کا ایک نادر مضمون
منٹو کا ایک نادر مضمون سعادت حسن منٹو نے ایک جگہ لکھا ہے ’میں جانتا ہوں سعادت حسن ایک دن مر جائے گا۔ مگر منٹو کبھی نہیں مر سکتا۔‘ یہ ایک حقیقت ہے کہ سعادت حسن 18جنوری 1955ءکو مر گیا اور اسے لاہو رمیں دفن کر دیا گیا۔ لیکن منٹو نہ اس تاریخ کو مرا تھا اور نہ آئندہ کبھی مرے گا۔ وہ مر بھی کیسے سکتا ہے اس کی تحریں آج بھی سماج کو اپنے مسائل کا احساس دلاتی ہیں، اس کے رو برو آئینہ رکھتی ہیں جس میں…
Read Moreحسن عباس رضا ۔۔۔ اک ایسا فیصلہ صادر ہوا حویلی میں
اک ایسا فیصلہ صادر ہوا حویلی میں تڑخ گئی مری ریکھا تری ہتھیلی میں بچھڑتے وقت کوئی بات کی تو تھی تم نے مگر یہ دکھ ہے کہ وہ بات تھی پہیلی میں میں رو رہا تھا ترا حالِ زار سنتے ہوئے بلا کا صبر تھا لیکن تری سہیلی میں بس ایک بار ہی تو نے چھوا تھا شاخوں کو پھر اس کے بعد عجب تھی مہک چنبیلی میں شباب اترتا ہے یکساں ہر ایک آنگن میں وہ فرق ہی نہیں رکھتا سگی ، سوتیلی میں حسن ، یقیں ہے…
Read Moreسید مقبول حسین ۔۔۔ یہ سچ ہے اب کوئی ہمدم نہیں ہے
یہ سچ ہے اب کوئی ہمدم نہیں ہے وہ کافر بھی ترا محرم نہیں ہے ترے ہونے سے میرا دل ہے خنداں جہاں تو ہے کوئی بھی غم نہیں ہے محبت کے سبھی موسم ادھورے محبت کا کوئی موسم نہیں ہے مری خواہش ہے تیرے ساتھ جی لوں شبابِ جاں بھی تو محکم نہیں ہے کشُودِ پیرہن سیّد نہ پوچھو بھلا کیا کچھ یہاں برہم نہیں ہے
Read Moreسید مقبول حسین ۔۔۔ جو ہم نے حجرہ خوباں میں اعتکاف کیا
جو ہم نے حجرہ خوباں میں اعتکاف کیا جنونِ عشق نے وحشت کا اعتراف کیا چھپی ہے دل میں جو خوشبو خمارِ ساغر ہے بِنائے عشق کا رِندوں نے انکشاف کیا جنوں کی حد سے جو بچھڑے تو پھر نہ مل پائے جدائی نے مرے دل میں عجب شگاف کیا یہ کیسا آئنے میں کھیل جاری ہے سیّد کہ عکسِ یار نے ہونے کا انحراف کیا
Read Moreفرحانہ عنبر ۔۔۔ غمِ حیات کے ماروں کو زندگی بخشی
غمِ حیات کے ماروں کو زندگی بخشی وجودِ عشق نے ذرے کو آگہی بخشی لہو جگر کا جلایا تو کوئی بات بنی پھر اُس کے بعد چراغوں نے روشنی بخشی مرے وجود کے اندر بھی کوئی رہتا ہے کسی کے پیار نے چہرے کو تازگی بخشی مرے کریم کا احسان ہے بہت مجھ پر مجھے شعور دیا اور شاعری بخشی ہزار خواہشیں اک دل کو سونپ کر عنبر جو ایک زندگی بخشی تو عارضی بخشی
Read Moreظفر اقبال نادر ۔۔۔ غلام گردش
سُلگتی راکھ کا منظر ہے روشنی کی صبُوح اندھیرا خوف کا پھوٹا ہے کس جہان سے یہ؟ کہ جس نے حَلق سے آواز تک چُرا لی ہے مگر یہ کون کہ معنیٰ اِسی سکوت سے لے کوئی غلام ہی ہو گا کہ چپ سمجھتا ہے صدا اُٹھائو کہ ہم سانس بھر تو جِی پائیں جو گروی رکھ دی ہے اک حبس کی تجوری میں عوض میں جس کے یہ کچھ بے وقار سانسیں لیں صدا کے کعبے کو مسمار اَبرہَہ نے کیا صدا بچانے ابابیل تک نہیں اُتری صدا اُٹھائو…
Read Moreظفر اقبال نادر ۔۔۔ الگ خُمار ہے اس کا سبھی خماروں سے
الگ خُمار ہے اس کا سبھی خماروں سے جنوں کلام کرے کیوں خِرد کے ماروں سے حصارِ ضبط میں رہنے دو آگہی کا نُور نِکل نہ جائے کہیں روشنی کناروں سے چمکنے دیتی نہیں منزلِ مُراد مِری عجیب دشمنی شب کو مرے ستاروں سے ٹھٹھرتی رات لرزتی ہے چاند اوڑھے ہوئے برہنگی نہیں ڈھپتی کنی سہاروں سے یہ کس خیال سے گرتی ہیں پلکیں آنکھوں پر کبھی تو جھانک مرے چاند ان چناروں سے ہمیشگی ترے عالم میں مل سکی نہ مجھے نکل سکا نہ کبھی خوف کے مداروں سے…
Read Moreاشرف کمال ۔۔۔ درد کے ساتھ جو زندان میں رہتا ہوں میں
درد کے ساتھ جو زندان میں رہتا ہوں میں کیا یہ کم ہے کہ ترے دھیان میں رہتا ہوں میں کوئی روزن ہے کہیں بھی نہ ہوا ہے جس میں ایسا لگتا ہے کسی کان میں رہتا ہوں میں لوگ اب تیرے تعلق سے مجھے جانتے ہیں اب ترے نام کی پہچان میں رہتا ہوں میں ایک لمحے کو بھی مایوس نہیں ہوتا ہوں اک ترے ملنے کے امکان میں رہتا ہوں میں خواب میں سامنے رہتا ہے تمھارا چہرا رات بھر ایک پرستان میں رہتا ہوں میں تیرے خاکے…
Read More