علی اصغر عباس … وفورِ گریہ سے بہتر خوشی نہیں کوئی

وفورِ گریہ سے بہتر خوشی نہیں کوئی ہمیں ملی بھی تو بڑھ کر ملی نہیں کوئی غمی خوشی میں جو آنسو کلام کرتے ہیں زبان ایسی مؤثر  بنی نہیں کوئی خوشی غمی کو تُو  رنگوں سے نسبتیں مت دے سفید اور سیہ میں چھپی نہیں کوئی بدن کے زخموں سے بڑھ کر تو دل پہ چرکے ہیں نشاط خیز اذیت بچی نہیں کوئی نوائے درد کی تانیں بھی ہچکیوں سی ہیں چُھوئی لبوں سے مگر بانسری نہیں کوئی بدن کے چیتھڑے پہنے ہوئے ہیں روحوں نے لباسِ فاخرہ  میں دلکشی…

Read More

علی اصغر عباس … عدم آباد!

عدم آباد! میں نے زندگی کے جھروکے سے جھانک کر دیکھا تو حیات ہمیشگی کا لباس پہنے عدم آباد کے صحن میں ابد کے بے پایاں پیڑ کی شاخ پہ دوام کی پینگھ جھول رہی تھی دور لاکھوں کروڑوں میل کے فاصلے پر خاک کے قضا رسیدہ وجود غرور میں تنی گردنوں کے بوجھ سے آزاد مٹی کا غبار ہو چکے تھے جاودانی کا زعم اجل کے کیڑے نے کھا لیا تھا نوشتہ تقدیر کے حروف اُڑچکے تھے ثبات کا نیا شمارہ انسانیت کے گلیز پیپر پہ پوری آب و…

Read More

ذوالفقار نقوی … درد اپنے نہ یوں چھپایا کر

درد اپنے نہ یوں چھپایا کر اپنا حصہ مجھے بنایا کر میرے ہلکے سے اک تبسم پر آسماں سر پہ نہ اٹھایا کر بام و در راہ تکتے رہتے ہیں میرے گھر میں بھی آیا جایا کر جام و مینا سے جی نہیں بھرتا اب سمندر مجھے پلایا کر دل کی ٹیسوں سے جو نکلتا ہے اُس دھویں سے نظر ملایا کر آئنے ٹوٹ جائیں گے سارے پتھروں کو نہ یوں سجایا کر اے مرے درد آ گلے لگ جا مجھ سے نظریں نہ تو چرایا کر بُخل سے باز…

Read More

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ ذوالفقار نقوی

صلّوا کی صاد میں نہاں فرمانِ   نعت ہے صلِ علی کے ورد میں اعلانِ نعت ہے اس کِشتِ لالہ زار میں مصروف ہیں مَلک ہر ذی شعور دیکھئے دہقانِ نعت ہے مہکے ہوئے ہیں ذرّے رَفَعنا کے ذکر سے زِ ارض تا ثریا خیابانِ نعت ہے ہے نورِ مصطفیٰ سے زمانے میں روشنی سب کائنات شمعِ شبستانِ نعت ہے محشر میں ہو گی پرسشِ اعمال جس گھڑی کہہ دوں گا میرے پاس یہ دیوانِ نعت ہے کر کے وضو درود سے، فکریں سنوار کر لفظیں سجا رہا ہوں کہ میدانِ…

Read More