مجھے درد اپنا چھپانا پڑے گا کسی کے لیے مسکرانا پڑے گا مجھے دل سے یادوں کی ان پھڑ پھڑاتی سبھی تتلیوں کو اڑانا پڑے گا مرا درد سمجھیں، یہ بے درد کیسے کسی صاحب دل کو لانا پڑے گا جو دھڑکن میں میری ردھم ہے سجن کا بھجن بھی سجن ہی کا گانا پڑے گا بڑا دکھ ہوا بوڑھی سانسوں کی سن کر کہ پھر زندگی کو منانا پڑے گا محبت کا جوہر ہے ضدوں کے گھر میں یہ نفرت کے گھر کو بتانا پڑے گا مری لاش پر…
Read MoreMonth: 2022 مئی
نواب مرزا داغ دہلوی … حیا و شرم سے چُپ چاپ کب وہ آ کے چلے
حیا و شرم سے چُپ چاپ کب وہ آ کے چلے اگر چلے تو مجھے سِیدھیاں سُنا کے چلے وہ شاد شاد دمِ صبح مُسکرا کے چلے ستم تو یہ ہے کہ مجھ کو گلے لگا کے چلے یہ چال ہے کہ قیامت ہے اے بُتِ کافر! خدا کرے کہ یوں ہی سامنے خدا کے چلے ہمارے دُودِ جگر میں ذرا نہیں طاقت یہ ابرِ تر ہے کہ گھوڑے پہ جو ہَوا کے چلے مرے بُجھائے بُجھے گی نہ یہ لگی دل کی بُجھاتے جاؤ کہاں آگ تم لگا کے…
Read Moreبہزاد لکھنوی
آہ کرتا ہوں اس لئے ہر دم میرے غم کا ، خدا گواہ رہے
Read Moreجلیل عالی
سب کہکشائیں دُھول ہوئیں دَھن کی دھوپ میں دل کے افق سے خواب ستارہ نہیں گیا
Read Moreغلام ہمدانی مصحفی
تُجھ سے میں یہ نہیں کہتا کہ تُو تلوار نہ کھینچ اپنے دامن کو ، مرے ہاتھ سے اے یار ، نہ کھینچ
Read Moreعلی اصغر عباس
خدا کے ساتھ محبت ہی کر رہے تھے ہمکسی نے بیچ میں آکے فساد ڈال دیا!
Read Moreمیر تقی میر
یہ جانوں ہوں کہ دل کو ہے اُس رو ومو سے لاگ کیا جانوں ، پیش آوے ہے اب صبح و شام کیا
Read Moreریاض رومانی … اپنی گٹھڑی خود اٹھانا ہے اسے بھاری نہ کر
اپنی گٹھڑی خود اٹھانا ہے اسے بھاری نہ کر ہم نفس بازار سے اتنی خریداری نہ کر کون کافر ہے شہیدوں میں گنا جائے کسے اے فقیہ ِ شہر عجلت میں سند جاری نہ کر مار ڈالے گا تجھے یہ بوجھ اک دن دیکھنا خود پہ احساسِ ندامت اس قدر طاری نہ کر اور لوگوں کے لئے تو معتبر ہوگا مگر میرے اندر کے مکیں مجھ سے اداکاری نہ کر جس طرح سے ہے اسے ایسے ہی رہنے دے ذرا اس شکستہ لوح پر لفظوں سے گل کاری نہ کر
Read Moreمنشی محمد احمد صاحب
گم کیا عشق نے ایسا کہ نہیں ملتا اب لامکاں میں بھی پتہ آپ کے شیدائی کا
Read Moreمسعود منور
تم مجھے چھوڑ کے جنّت کو نکل جاؤ اگر پھر تو میں لوٹ کے لاہور چلا جاؤں گا
Read More