موتی پئے جمالِ ہنر ڈھونڈنے پڑے آنکھوں کی سیپیوں میں گہر ڈھونڈنے پڑے جنگل میں طائروں کی چہک، آہوؤں کا رم کیا کیا نہ ہمرہانِ سفر ڈھونڈ نے پڑے آئے گا کل کے بعد جو دن، اُس کو پاٹنے کیا کیا جتن نہ شام و سحر ڈھونڈنے پڑے اپنے ہی جسم و جان کی پیہم کرید سے ماجد ہمیں خزائنِ زر ڈھونڈ نے پڑے
Read MoreDay: مئی 31، 2024
ماجد صدیقی ۔۔۔ لٹ جانے کے خدشوں سے دو چار ہوئے
لٹ جانے کے خدشوں سے دو چار ہوئے جُگ بیتے ہیں بستی کو بیدار ہوئے شہرِ ستم میں حرص و ہوا کی سازش سے کیا کیا اہلِ نظر، وقفِ دربار ہوئے شاخ پہ کونپل بننے اور کھِل اٹھنے کے کیا کیا سپنے آنکھوں کا آزار ہوئے باغ میں جانے اور مہک لے آنے کے بادِ صبا سے کیا کیا قول اقرار ہوئے دریا میں منجدھار ہی دشمنِ جان نہ تھی اور بھی کچھ دھاوے ہم پر اُس پار ہوئے راہبری کا ماجد! قحط کہاں ایسا جیسے اب ہیں، ہم کب…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ لگے ہے اپنے یہ دن،چلچلاؤ جیسے ہیں
لگے ہے اپنے یہ دن،چلچلاؤ جیسے ہیں کہ سانس سانس کے تیور الاؤ جیسے ہیں ہٹے ہیں اور نہ ہٹ پائیں خوردگاں پر سے سرِجہان بڑوں کے دباؤ جیسے ہیں وہ دوستی کے ہوں یا تا بہ عمر رشتوں کے ہم آپ ہی نے کیے ہیں چناؤ جیسے ہیں شجر شجر پہ یہی برگِ زرد سوچتے ہیں اُڑا ہی دیں نہ ہَوا کے دباؤ جیسے ہیں زباں کی کاٹ کے یا بّرشِ تبر کے ہیں ہماری فکر و سماعت پہ گھاؤ جیسے ہیں چلن دکھائیں بالآخر نہ پھر کمانوں سا…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ نہ ابتدا سے نہ انجامِ ناگہاں سے سنی
نہ ابتدا سے نہ انجامِ ناگہاں سے سنی سنی بھی میری کہانی تو درمیاں سے سنی اُٹھی نہ تھی جو ابھی حلق سے پرندے کے وہ چیخ ہم نے چمن میں تنی کماں سے سنی ملا تھا نطق اُسے بھی پہ نذرِ عجز ہُوا کتھا یہی تھی جو ہر فردِ بے زباں سے سنی دراڑ دُور سے ایوان کی نمایاں تھی زوالِ شہ کی حکایت یہاں وہاں سے سنی زباں سے خوف میں کٹ جائے جیسے لفظ کوئی صدائے درد کچھ ایسی ہی آشیاں سے سنی گماں قفس کا ہر…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ ملا ہے تخت کسے کون تخت پر نہ رہا
ملا ہے تخت کسے کون تخت پر نہ رہا یہ بات اور ہے جاری تھا جو سفر نہ رہا شبِ سیاہ میں بھی جو تھا روشنی کا سفیر کنارِ بام سے وہ جھانکتا قمر نہ رہا لگی تھیں جس پہ نگاہیں نہ جانے کس کس کی مریض پر وہی تعویذ کارگر نہ رہا یقیں تھا جو بھی وہ اب گردِ اشتباہ میں ہے یہ کیا ہُوا کہ کوئی شخص معتبر نہ رہا بڑے بڑوں پہ بھی ماجد! بہ نامِ ارضِ وطن جو اعتماد تھا، القصّہ مختصر نہ رہا
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ مزرعۂ دین میں اُگتے ہیں اصنام مرے
مزرعۂ دین میں اُگتے ہیں اصنام مرے کیا جانوں کیا کیا ہیں عقیدے خام مرے لطف تو یہ ہے رہزن بھی یہ کہتا ہے دیکھو امن نگر کا بھی ہے نام مرے جانے کب یوسف ٹھہرایا جاؤں میں اور زبانوں پر رقصاں ہوں دام مرے جیسے کلمۂ خیر مخالف کے حق میں رک جاتے ہیں بس ایسے ہی کام مرے ہاتھ کبھی تو ہَوا کے لگے گی یہ خوشبو بول کبھی تو ہوں گے ماجد عام مرے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِدا کر دی
مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِدا کر دی یزیدِ وقت نے جوروستم کی انتہا کر دی اگر سر زد ہُوا حق مانگنے کا جرم تو اُس پر سزا کیسی مرے دستِ طلب نے کون سی ایسی خطا کر دی زمیں یا آسماں کا جو خدا تھا سامنے اُس کے جھُکایا سر، اٹھائے ہاتھ اور رو کر دعا کر دی وطن کی بد دعا پر ریزہ ریزہ ہو گیا کوئی کسی نے دیس پر جاں تک ہتھیلی پر سجا کر دی حیا آنکھوں میں اور سچّائیاں جذبات میں…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ جتنے کمتر ہیں یہ کہتے ہیں، خدا نے کیا کِیا
جتنے کمتر ہیں یہ کہتے ہیں، خدا نے کیا کِیا نفرتوں کی مشق ہی کو کیوں ہمیں پیدا کِیا روک ڈالے مرغزاروں، پنگھٹوں کے راستے گرگ نے کیا کیا غزالوں کا نہیں پیچھا کِیا بچ نکلنے پر بھی اُس کے ظلم سے ہم رو دئیے عمر بھر جو دھونس اپنی ہی تھا منوایا کِیا کوڑھ سی مجبوریاں تھیں لے کے ہم نکلے جنہیں نارسائی نے ہمیں کیا کیا نہیں رسوا کِیا موسموں کے وار اِس پر بھی گراں جب سے ہوئے پیڑ بھی ماجد ہمِیں سا جسم سہلایا گیا
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے
تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے اک ذرا سی فضائے چمن کے نکھرنے پہ بھی کیا سے کیا جسمِ واماندگاں پر خدوخال کے پھول کھِلنے لگے کھولنے کو، ضیا پاش کرنے کو پھر ظلمتوں کی گرہ مٹھیوں میں دمکتے زر و مال کے پھول کھلنے لگے پنگھٹوں کو رواں، آہوؤں کے گماں در گماں دشت میں لڑکھڑاتی ہوئی بے اماں چال کے پھول کھِلنے لگے دھند چھٹنے پہ مژدہ ہو، ترکش بہ آغوش صیّاد کو ازسرِ نو…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں
پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں گرتوں کے ساتھ گرنے کا کھٹکا ہمیں ہو کیوں قارون ہیں جو، زر کی توقّع ہو اُن سے کیا ایسوں پہ اِس قبیل کا دھوکا ہمیں ہو کیوں بے فیض رہبروں سے مرتّب جو ہو چلی احوال کی وہ شکل، گوارا ہمیں ہو کیوں ملتی ہے کج روؤں کو نفاذِ ستم پہ جو ایسی سزا کا ہو بھی تو خدشہ ہمیں ہو کیوں رکھیں نمو کی آس بھلا کیوں چٹان سے ایسوں سے اِس طرح کا تقاضا ہمیں ہو کیوں ہم…
Read More