محمد علوی … رات کے منہ پر اجالا چاہیئے

رات کے منہ پر اجالا چاہیئے چور کے گھر میں بھی تالا چاہیئے غم بہت دن مفت کی کھاتا رہا اب اسے دل سے نکالا چاہیئے پاؤں میں جوتی نہ ہو تو کچھ نہیں ہاں مگر ایک آدھ چھالا چاہیئے ہاتھ پھیلانے سے کچھ ملتا نہیں بھیک لینے کو پیالہ چاہیئے یاد ان کی یوں نہ جائے گی اسے کچھ بہانا کر کے ٹالا چاہیئے شاعری مانگے ہے پورا آدمی اب اسے بھی مونچھ والا چاہیئے

Read More

آغا اکبر آبادی ۔۔۔ مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط

مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط میری شکایتوں سے بھرا ہے تمام خط گھبرا نہ اس قدر دلِ بے تاب صبر کر آتا ہے کوئی روز میں اب صبح و شام خط لکھا ہوا ہے خاص تمہارے ہی ہاتھ کا پہچانتا ہے خوب تمہارا غلام خط تحریر ان کی سینہ پہ رکھ دیجیو مرے بدلے جواب نامہ کے آئے گا کام خط لکھا ہے اب نہ لکھیں گے ہم کوئی خط تجھے خط آیا میری موت کا لایا پیام خط ضائع نہ جائے گی تری محنت کسی…

Read More