تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں
Read MoreMonth: 2024 مئی
محمد علوی … رات کے منہ پر اجالا چاہیئے
رات کے منہ پر اجالا چاہیئے چور کے گھر میں بھی تالا چاہیئے غم بہت دن مفت کی کھاتا رہا اب اسے دل سے نکالا چاہیئے پاؤں میں جوتی نہ ہو تو کچھ نہیں ہاں مگر ایک آدھ چھالا چاہیئے ہاتھ پھیلانے سے کچھ ملتا نہیں بھیک لینے کو پیالہ چاہیئے یاد ان کی یوں نہ جائے گی اسے کچھ بہانا کر کے ٹالا چاہیئے شاعری مانگے ہے پورا آدمی اب اسے بھی مونچھ والا چاہیئے
Read Moreعادل راہی
دنیا میں اک شخص ہی پیارا لگتا ہے ہم ایسوں میں یہ بیماری ہوتی ہے
Read Moreآغا اکبر آبادی ۔۔۔ مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط
مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط میری شکایتوں سے بھرا ہے تمام خط گھبرا نہ اس قدر دلِ بے تاب صبر کر آتا ہے کوئی روز میں اب صبح و شام خط لکھا ہوا ہے خاص تمہارے ہی ہاتھ کا پہچانتا ہے خوب تمہارا غلام خط تحریر ان کی سینہ پہ رکھ دیجیو مرے بدلے جواب نامہ کے آئے گا کام خط لکھا ہے اب نہ لکھیں گے ہم کوئی خط تجھے خط آیا میری موت کا لایا پیام خط ضائع نہ جائے گی تری محنت کسی…
Read Moreنظر امروہوی
سرِ محفل کبھی تنہائیاں محسوس ہوتی تھیں مگر اب خلوتوں میں حشر برپا ہوتا جاتا ہے
Read Moreمحسن اسرار
لوگ کیوں چھپ گئے خدا جانے میں نے تو صرف روشنی کی ہے
Read Moreقابل اجمیری
اے آفتابِ صبحِ بہاراں! سلام کر دیوانے آ رہے ہیں شبِ غم گزار کے
Read Moreقابل اجمیری
ہم تری راہ سے پھرے ہی نہیں آستانے ہمیں بلاتے رہے
Read Moreآغا نثار
یہی نہیں کہ فقط پیار کرنے آئے ہیں ہم ایک عمر کا تاوان بھرنے آئے ہیں
Read Moreعاجز ہنگن گھاٹی
دل کسی سے نہیں ملا اس کا ہاتھ سب سے ملا رہا تھا وہ
Read More