پہلے میں مشکل میں تھا اس بے مروت کے طفیل اور اب میرے سبب سے سارا گھر مشکل میں ہے
Read MoreMonth: 2025 مئی
قمر جلالوی ۔۔۔ گو دورِ جام بزم میں تا ختمِ شب رہا
گو دورِ جام بزم میں تا ختمِ شب رہا لیکن میں تشنہ لب کا وہی تشنہ لب رہا پروانہ میری طرح مصیبت میں کب رہا بس رات بھر جلا تری محفل میں جب رہا ساقی کی بزم میں یہ نظامِ ادب رہا جس نے اٹھائی آنکھ وہی تشنہ لب رہا سرکار پوچھتے ہیں خفا ہو کے حالِ دل بندہ نواز میں تو بتانے سے اب رہا بحر جہاں میں ساحل خاموش بن کے دیکھ موجیں پڑیں گی پاؤں جو تو تشنہ لب رہا وہ چودھویں کا چاند نہ آیا نظر…
Read Moreشاہین عباس
داستاں میں جہاں اک دائمی دن ہو تا تھا اب وہاں شام اُتر آتی ہے کرداروں پر
Read Moreشاہین عباس
رات کے ٹوٹتے تاروں میں ہمیں رکھا گیا ہمیں پرکھا گیا گرتے ہوئے معیاروں پر
Read Moreظفر اقبال
اپنی راہ نکالیں کیا رستے رستے جانا ہے
Read Moreظفر اقبال
جتنا ہنستے جانا ہے اتنا پھنستے جانا ہے
Read Moreظفر اقبال
جو برسوں میں ہوا کرتا تھا پہلے یہاں برسوں سے اکثر ہورہا ہے
Read Moreظفر اقبال
چلو ، کچھ اس کی توجہ ادھر ہوئی تو سہی وہ اب کی بار بہت بدگماں دکھائی دیا
Read Moreظفر اقبال
کیا تماشا ہے کہ صبح و شام رازِ آسماں خاک پر کھلتا ہے لیکن سربسر کھلتا نہیں
Read Moreظفر اقبال
صاف شفاف بھی پانی کی طرح نیتِ دل دیکھنے والے نے دیکھا اسے گدلا کرکے
Read More