پانی پہ مذاق بن گئے ہم کشتی میں نہ تھی جگہ ہماری
Read MoreMonth: 2025 مئی
قمر جلالوی ۔۔۔ ارماں ہو مجھے نزع میں کیا چارہ گری کا
ارماں ہو مجھے نزع میں کیا چارہ گری کا گل کون تراشے ہے چراغِ سحری کا اِک وہ بھی ہے بیمار تری کم نظری کا مر جائے مگر نام نہ لے چارہ گری کا برہم ہوئے کیوں سن کے مرا حالِ محبت شِکوہ نہ تھا آپ کی بیداد گری کا بیگانۂ احساس یہاں تک ہوں جنوں میں اب گھر کی خبر ہے نہ پتہ دربدری کا اور اس کے سوا پھول کی تعریف ہی کیا ہے احسان فراموش نسیمِ سحری کا دنیا پہ قمر داغِ جگر ہے مرا روشن لیکن…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے
خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے لفافے میں نہ رکھ لی نامہ بر میری زباں تو نے مٹا کر رکھ دیے ہیں یوں ہزاروں بے زباں تو نے نہ رکھا اپنے عہدِ ظلم کا کوئی نشاں تو نے ہرے پھر کر دیے زخمِ جگر صیاد بلبل کے قفس کے سامنے کہہ کر گلوں کی داستاں تو نے اسی وعدے پہ کھائی تھی قسم روئے کتابی کی اسی صورت میں قرآں کو رکھا تھا درمیاں تو نے عدو کہتے ہیں اب سہرا فصاحت کا ترے سر…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی…
Read Moreمحسن اسرار
ہیں جتنے رنگ سب آپس میں ملتے جا رہے ہیں مکانوں میں بھی پیدا لامکانی ہو رہی ہے
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ نہ جانے ساغر و مینا پہ پیمانے پہ کیا گزری
نہ جانے ساغر و مینا پہ پیمانے پہ کیا گزری جو ہم پی کر چلے آئے تو میخانے پہ کیا گزری بڑی رنگینیاں تھیں اولِ شب ان کی محفل میں بتاؤ بزم والو رات ڈھل جانے پر کیا گزری چھپائیں گے کہاں تک رازِ محفل شمع کے آنسو کہے گی خاکِ پروانہ کہ پروانے پہ کیا گزری مرا دل جانتا ہے دونوں منظر میں نے دیکھے ہیں ترے آنے پہ کیا گزری ترے جانے پہ کیا گزر ی بگولے مجھ سے کوسوں دور بھاگے دشتِ وحشت میں بس اتنا میں…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیے ہوئے
دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیے ہوئے دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیے ہوئے دیکھا خدا پہ چھوڑ کہ کشتی کو نا خدا جیسے خود آگیا کوئی ساحل لیے ہوئے دیکھو ہمارے صبر کی ہمت نہ ٹوٹ جائے تم رات دن ستاؤ مگر دل لیے ہوئے وہ شب بھی یاد ہے کہ میں پہنچا تھا بزم میں ! اور تم اٹھے تھے رونق محفل لیے ہوئے بیٹھا جو دل تو چاند دکھا کر کہا قمر ! وہ سامنے چراغ ہے منزل لیے ہوئے
Read Moreظفر اقبال
ہم خود خراب ہیں تو ہمارے لئے ظفرؔ ساری خدائی سارا زمانہ خراب ہے
Read Moreظفر اقبال
وہ فتنہ خو ہم ایسے شریفوں کی بزم میں موجود تو نہیں ہے مگر ہونا چاہیے
Read Moreظفر اقبال
مسائل اپنے اپنے تھے ، ضرورت اپنی اپنی تھی نہ میں ممنون ہوں اس کا ، نہ وہ مشکور ہے میرا
Read More