محمد اشفاق بیگ ۔۔۔ رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں

رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں ہم خود میں اذیت کا ہنر ڈھونڈ رہے ہیں کل تک تھا جنھیں آبلہ پائی پہ بہت ناز وہ لوگ بھی صحرا میں شجر ڈھونڈ رہے ہیں ہر سمت محبت کے گلابوں کی مہک ہو آشائوں کا اک ایسا نگر ڈھونڈ رہے ہیں دیوار تو دونوں نے ہی مل کر تھی اٹھائی اب دونوں ہی دیوار میں در ڈھونڈ رہے ہیں تا عمر جفائوں کے جو بوتے رہے کانٹے وہ اپنی وفائوں کا ثمر ڈھونڈ رہے ہیں ہر کوچہ و…

Read More

جون ایلیا

ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ اعجاز دانش

سارے جہاں میں دھوم نبیؐ کے نگر کی ہے وہ سر زمینِ پاک شہِ بحر و بر کی ہے چھائی ہوئی ہے ارض و سما پر جو ہر طرف وہ روشنی حضورؐ ترے بام و در کی ہے ہم کو تو آپؐ ہی کی شفاعت پہ ہے یقیں اس دل میں کوئی جا نہیں خوف و خطر کی ہے شعر و سخن پہ کیوں نہ مجھے افتخار ہو وابستگی حضورؐ سے میرے ہنر کی ہے جو روشنی ازل سے ابد تک ضیا کرے ایسی کہاں مجال وہ شمس و قمر…

Read More