شبِ سیہ میں تبسم کیا حضورؐ نے، گر تو رنگ و نور سے یک دم فروزاں ہو گیا گھر حضورؐ آئے تو مکّہ کی ساری مائوں میں خدا نے جشنِ ولادت منایا ، بانٹے پِسر کسی کا نام نہ تھا کائنات میں ’’احمدؐ‘‘ نہ اور کوئی ’’محمدؐ‘‘ ہوا تھا دھرتی پر تمھارا نام بھی نُقطوں سے ماورا رکھّا تمھیں بھی عیب سے اللہ نے رکھّا بالاتر پُکارے جائیں گے آدمؑ ، ’’ابو محمدؐ‘‘ سے یہ کنّیت نہ کسی کو ملی سرِ محشر فرشتے آپؐ کو جُھولا جُھلایا کرتے تھے حلیمہ…
Read MoreMonth: 2025 اگست
نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ اعجاز دانش
خواب میں ان کی زیارت ہو خدایا مجھ کو کاش مل جائے محمد کا سہارا مجھ کو میرے مولا تری الفت کے میں قرباں جاؤں تری الفت نے ہر اک غم سے نکالا مجھ کو اب ترے ہجر کے لمحات گزاروں کیسے پاس پھر اپنے بلا لیجیے آقا مجھ کو اپنی کملی میں محبت سے چھپا لیں آقا ہر قدم ورنہ ستائے گا زمانہ مجھ کو اب کسی شہر کی اس دل کو نہیں ہے خواہش بھا گیا ایسے ترا شہر مدینہ مجھ کو ہے مرا زادِ سفر نامِ رسولِ…
Read Moreسیما پیروز ۔۔۔ ماہیے
دریا کا کنارا ہے یہ دردِ جدائی تو بس اپنا سہارا ہے آکاش پہ تارے ہیں دھرتی پہ جو بکھرے ہیں وہ اشک ہمارے ہیں کوئی پتا چناروں کا دے سندیس مجھے کو تو آتی بہاروں کا بادل کیوں برستے ہیں تم دور نہیں پھر بھی ملنے کو ترستے ہیں جوگی اترا پہاڑوں سے پتہ پوچھوں ساجن کا کونجوں کی ڈاروں سے تو دیا میں باتی ہوں ساتھ نہ چھوڑوں گی سوگندھ یہ کھاتی ہوں ٹہنی سے گری کلیاں کیوں چھوڑ چلے ساجن تم پیار بھری گلیاں
Read Moreجمشید چشتی ۔۔۔ بات لگتی ہے پرانی برسوں
بات لگتی ہے پرانی برسوں ہوئے ، برسے ہوئے پانی، برسوں یہ وہی بیج اُگا ہے ، جس نے بات مٹّی کی نہ مانی برسوں میں نے دیکھی ہے اِسی ساحل پر خشک دریا کی روانی برسوں ایک موسم ہے ، گزر جائے گا یاد آئے گی جوانی برسوں سر کٹاتا ہے کوئی دم بھر میں اور چلتی ہے کہانی برسوں کوئی انعام ہَوا کو ، جس نے کی ہے پیغام رسانی برسوں! وہ تو جمشید بس اک ذرّہ تھا خاک جس دشت کی چھانی برسوں
Read Moreآفتاب خان ۔۔۔ وہ ہم سے خاک نشینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے
وہ ہم سے خاک نشینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے مکان اپنے مکینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے ہمارا سارا اثاثہ تھا پہلی منزل پر شکستہ بام کے زینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے نئے وطن میں بھی پہلا خمار جا نہ سکا ہم اپنی کھوئی زمینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے فرار ہو گئے محبوب مہ جبین و رقیب غُلامِ شاہ بھی تینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے اُنھی کے دم سے ولایت کا راستہ کُھلتا جو چند سجدے جبینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے تھی جِس کے خون میں رنگت سفید پتّھر کی وہ…
Read Moreخالد احمد
مجھے بسنے نہ دے خالد مگر دستک تو دینے دے ترا دَر بن سکے گا میرا گھر آہستہ آہستہ
Read Moreآلِ احمد سرور ۔۔۔ پورے غالب
ہماری تنقید اب تک ادب کے کسی نہ کسی پابند تصور سے آزاد نہیں ہو سکی ہے، گو حال میں اس تصور سے بلندی اور ادب کی اپنی خصوصیت کو واضح کرنے کی کوششیں ملنے لگی ہیں۔ ادب میں اخلاق، ادب میں مذہبی تصورات، ادب میں تصوف، ادب میں سماجی قدریں، ادب میں انسان دوستی کے ہر نظریے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ادب کا مقصد ان میں سے کسی نقطۂ نظر کی ترجمانی یا اشاعت ہے مگر ادب تلقین نہیں، تخلیق ہے۔ یہ Saying نہیں ہے، Making ہے۔…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے
سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے اسی بہانے ذرا منہ دکھا گئے ہوتے تمہیں بھی وقت کی رفتار کا پتہ چلتا نکل کے گھر سے گلی تک تو آ گئے ہوتے گلا بھگو کے کہیں اور صدا لگا لیتا ذرا فقیر کو پانی پلا گئے ہوتے ارے یہ ٹھیک ہوا ہونٹ سی لیے ہم نے وگرنہ لوگ تجھے کب کا پا گئے ہوتے بھلا ہو چاند کا آتے ہی نور پہنچایا ستارے ہوتے تو آنکھیں چرا گئے ہوتے جوان جسموں کو ٹھنڈا نہ کر سکے لیکن ہوا کے…
Read Moreجوش ملیح آبادی
یہ مانا دونوں ہی دھوکے ہیں رندی ہو کہ درویشی مگر یہ دیکھنا ہے کون سا رنگین دھوکا ہے
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہے
ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہے وہ دامانِ مہِ کنعاں ہے یہ دستِ زلیخا ہے ادھر تیری مشیت ہے ادھر حکمت رسولوں کی الٰہی آدمی کے باب میں کیا حکم ہوتا ہے یہ مانا دونوں ہی دھوکے ہیں رندی ہو کہ درویشی مگر یہ دیکھنا ہے کون سا رنگین دھوکا ہے کھلونا تو نہایت شوخ و رنگیں ہے تمدن کا معرف میں بھی ہوں لیکن کھلونا پھر کھلونا ہے مرے آگے تو اب کچھ دن سے ہر آنسو محبت کا کنارِ آب رکنا باد و گلگشتِ مصلےٰ…
Read More