اختر عثمان ۔۔۔ شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام

شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام

جب تشنگی کمال ہوئی شیرخوار کو
شبنم کی یاد آنے لگی گُل عذار کو
سینے لگایا ماں نے دُرِ آبدار کو
تکنے لگا وہ چرخِ تغیّر شعار کو

فاقوں سے شیرِ مادرِ معصوم خُشک تھا
کافور دودھ ہو گیا اور آب مُشک تھا

نہرِ فرات قبضۂ غاصب سرشت میں
بٹتے تھے جام صُحبتِ بد عہد و زشت میں
پیاسے گئے عزیز و اقارب بہشت میں
پانی نہیں تھا ساقیِ کوثر کی کشت میں

سیراب فوجِ وحش و چرند و پرند تھی
پانی کی راہ آلِ محمّد پہ بند تھی

حدّت سے بھُن گیا تھا کلیجہ ، جگر جلا
آنسو بھی تو نہیں تھے کہ تر ہو سکے گلا
بے تاب ہو کے سینۂ مادر سے منہ ملا
اِس درجہ تشنگی تھی کہ بے ہوش ہو چلا

حیلہ نہ سوجھتا تھا کہ ماں بے حواس تھی
صابر تو تھی ، پہ رنج میں تصویرِ یاس تھی

بچّے کا حال دیکھ کے بے خود تھی خوش خصال
خیمے کے در پہ آ کے پُکاری بصد ملال
بس کوئی دم اخیر ہے میرا یہ نونہال
کس امتحان میں ہے رسولِ خدا کی آل

جن کے طفیل عرش سے بادل برستے ہیں
وہ آج ایک بوند کی خاطر ترستے ہیں

شہ لے کے آئے طفل کو فوجوں کے روبرو
بولے یہ شیرخوار ہے اے فوجِ کینہ خُو
تشنہ ہے تین روز سے نوخیز و خوش گُلو
پیاسا ہے اور سامنے بہتی ہے آب جُو

پانی پہ سب کا حق ہے ، وہ اپنا کہ غیر ہو
موقع ہے ایک اَور اگر اہلِ خیر ہو

فرزند ہے یہ سبطِ رسالت پناہ کا
ہے شیرخوار خانۂ شیرِ الہ کا
بولو تو کیا قصور ہے اِس بے گناہ کا
پانی ہی کتنا پیتا ہے بچّہ چھ ماہ کا

یوں مائیں شیرخواروں کو پانی پلاتی ہیں
دو انگلیاں بھگو کے دہن میں چواتی ہیں

سر تک اُٹھا کے طفل سے بولے کہ ارجمند
ہاں ، استغاثہ از لبِ تشنہ بکن بلند
تا سُن سکیں الہ و ملک ، اِنس و جاں ، پرند
راضی رضائے رب پہ ہیں ، جو وہ کرے پسند

اپنی زباں سے کہہ کے یہ کام اِختتام کر
پھر ایک بار امام کی حجّت تمام کر

یک بار ‘ العطش’ کی صدا رَن پہ چھا گئی
حو سنگ دِل تھے اُن کے دِلوں کو بہا گئی
ساری زمینِ کرب و بلا ڈگمگا گئی
کرسیِ کردگار کے پائے ہلا گئی

آنسو نکل پڑے سپہِ پُرغبار کے
تھے نینوا میں معجزے پروردگار کے

بولا یہ ایک دَم بنِ کاھل سے ابنِ سعد
سُن ، صاف کر رہا ہوں میں تجھ سے یہ قول و وعد
چلّہ چڑھا کے تیر لگا اِس کو مثلِ رعد
اے حُرملہ ! ظفر ہے تری اِس عمل کے بعد

تُو اِس گھڑی جو درپئے بے شیر ہوئے گا
عہدہ بڑھے گا ، صاحبِ جاگیر ہوئے گا

سردار تھا شقی سپہِ اِبتذال کا
مضروبِ زر ، حریف محمّد کی آل کا
پھینکا نجس نے تیر ِ ستم تین بھال کا
وائے ، گُلو نشانہ ہوا نیم سال کا

شہ رگ چھدی ، نبا کے دریچے نکل گیا
تیرِ سہ شعبہ حلق کے پیچھے نکل گیا

اللہ ، صبر حضرتِ والا وقار کا
پیکاں نکال کر پسرِ نامدار کا
چُلّو میں خون بھر لیا اُس گُل عذار کا
بولے کہ لاکھ شُکر ہے پروردگار کا

بندہ خمیدہ سَر ہے جو منشا خدا کا ہے
نانا بتا گئے تھے یہ رستہ ھدیٰ کا ہے

دیکھو تو بندگی شہِ والا سریر کی
چھوٹی سی قبر آپ نے کھودی صغیر کی
میّت پھر اُس میں آپ اُتاری شہیر کی
اُٹھے تو یہ صدا سُنی بے آب و شیر کی
بابا کو میں بچا نہ سکا کیا خفیف ہوں
طفلی بھی نام کو ہے پہ اصلا نحیف ہوں

معصوم کی صدا جو سُنی زار زار روئے
جی کو ذرا قرار نہ تھا ، بے قرار روئے
گریہ تھا رشکِ ابر ، بہ اشکِ ہزار روئے
منہ بار بار صاف کیا ، بار بار روئے

دیکھا جو آسماں کو اِدھر شاہِ دہر  نے
نوحہ ادھر بلند کیا نُہ سپہر  نے

قبرِ صغیر سِن پہ کیے شاہ نے جو بَین
لکھّوں تو دن کے منہ پہ اُتر آئے صاف رَین
سُنتے تو ہو گے تم بھی صدا ہائے شور و شَین
ہم آپ کی غریبی پہ قربان یا حسین

مرقد پہ منہ رکھے ہوئے جب شاہ روتے تھے
ملعون کھکھلاتے تھے اور شاد ہوتے تھے

Related posts

Leave a Comment