ہے شہادت کہ ہلاکت کہ اجل ، بولتی ہے
مرضئِ رب سرِ میدانِ جدل بولتی ہے
یہ زباں حق کی زباں ہے ، دمِ گفتار تو ہو
پھر ہو دربار کہ مقتل کہ محل ، بولتی ہے
ایک وعدہ ہے فقط وعدۂِ طفلئِ حسینؑ
جس کو قاموسِ تغیئر بھی اٹل بولتی ہے
فجر کا وقت ہے، عاشور ہے، سنّاٹا ہے
کس خموشی سے یہاں صبحِ ازل بولتی ہے
جنگ جُو کہہ کے بلاتا ہے مرا آج مجھے
خود کو خوشبو ئے شہادت مرا کل بولتی ہے
رن میں ہے صاحبِ اسرار بلاغت کا پسر
وہ رجز پڑھتا ہے ، شمشیرِ اجل بولتی ہے
آسماں لال نظر آتا ہے جو شام کے وقت
آنکھ اسے خون کی سرخی کا بدل بولتی ہے
بال بکھرائے ہے ترتیبِ تبدّل کی خطیب
اور سرِ خانۂِ تخریب و خلل بولتی ہے
میں نے بس شعر کہے، شعر سنے، شعر لکھے
داورِ حشر، مری فردِ عمل بولتی ہے
اے غزل گو، کبھی سن مرثیۂِ میر انیس
ایک مصرعے میں یہاں پوری غزل بولتی ہے
