بحضور امام سجادؑ
ہے وہ زنجیر کہاں بھولنے والی زنجیر
یاد سجاد ہے پیروں میں جو ڈالی زنجیر
شوقِ نظارہ میں آئے تھے ملائک سارے
میں نے ماتم کے لئے جونہی نکالی زنجیر
پائے بیمار کو کب ظلم نے زنجیر کیا
ظلم کے پاؤں میں سجاد نے ڈالی زنجیر
بحضور امام سجادؑ
ہے وہ زنجیر کہاں بھولنے والی زنجیر
یاد سجاد ہے پیروں میں جو ڈالی زنجیر
شوقِ نظارہ میں آئے تھے ملائک سارے
میں نے ماتم کے لئے جونہی نکالی زنجیر
پائے بیمار کو کب ظلم نے زنجیر کیا
ظلم کے پاؤں میں سجاد نے ڈالی زنجیر