سلام بحضور امامِ عالی مقام علیہ السلام
صبح گریہ نہ شامِ گریہ ہے
لمحہ لمحہ مقامِ گریہ ہے
گفتگو سے گریز کیجے گا
خامشی ہم کلامِ گریہ ہے
عشق آباد کا سفر نامہ
رایگانی بنامِ گریہ ہے
رفتگاں سے حکایتیں ہوں گی
خواب میں اہتمامِ گریہ ہے
کون سی آنکھ تر نہیں ہوتی
کو بہ کو انتظامِ گریہ ہے
سارے آنسو ہیں کربلا کے لیے
جاودانی سلامِ گریہ ہے
