نہیں کہ حال ہمارا تمھارا ایسا ہے
گماں سرشت زمانہ ہی سارا ایسا ہے
میں جانتا ہوں کہ ہم تم ہیں اک فسانۂ خواب
ہمارے نام یہی استعارہ ایسا ہے
نہ کیوں ہو جلوۂ حیرت مری نگاہ کا رنگ
کئی دنوں سے اُفق کا کنارہ ایسا ہے
ارادے ٹوٹتے جاتے ہیں ایک اک کرکے
کہ اب کے برجِ فلک میں ستارہ ایسا ہے
چلو نکل چلیں خوشبو رسیدہ لمحوں میں
سحر کا دامنِ گل پارہ پارہ ایسا ہے
وجودِ زندہ ہے یہ دل، کوئی فسانہ نہیں
یہ اور بات مقدر ہمارا ایسا ہے
نہیں ہے کچھ بھی نظر کی شگفتگی کے سوا
کھلا جو آنکھ پہ خالدؔ، نظارہ ایساہے
Related posts
-
غلام حسین ساجد ۔۔۔ مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے
مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے صبح بھی آئینہ میری، رات بھی آئینہ... -
غلام حسین ساجد ۔۔۔ جہاں سے عکس مِلا، آئنہ وہیں سے مِلا
جہاں سے عکس مِلا، آئنہ وہیں سے مِلا نہیں کہ کوئی کہیں سے، کوئی کہیں سے... -
غلام حسین ساجد ۔۔۔ نشے کی جھونک میں آنکھوں کو مَل دیا سرِ شام
نشے کی جھونک میں آنکھوں کو مَل دیا سرِ شام وہ کوئی خواب تھا جس کو...
