صحبتِ میکشی سرسری رہ گئی اور جو مینا بھری تھی بھری رہ گئی کیا غضب ہے نشیمن سلگتا رہا اور شاخِ نشیمن ہری رہ گئی آخرش کام آ ہی گئی خامشی لفظ و معنی کی پردہ دری رہ گئی ہر نظر بن گئی اپنے سینے کا تیر اک خلش بن کے دیدہ دری رہ گئی نسلِ آدم سے اتنے اٹھے کردگار اپنے لب سی کے پیغمبری رہ گئی آدمی کا خدا بن گیا آدمی داورِ حشر کی داوری رہ گئی میرا ہر نقشِ پا بن گیا سنگِ میل خضر کی…
Read MoreCategory: آج کی غزل
ضیا شادانی مرادآبادی … میں بک جاتا مجھے انکار کب تھا
میں بک جاتا مجھے انکار کب تھا یہاں پر مصر کا بازار کب تھا ملاقاتیں بھی رسماً ہو رہی تھیں دلوں میں جذبۂ ایثار کب تھا میں اس کو موت سے بھی چھین لاتا وہ جینے کے لئے تیار کب تھا اگر کچھ حوصلہ ہوتا تو چلتے وفا کا راستہ دشوار کب تھا ضیا میں سارے بندھن توڑ دیتا تمہارے واسطے انکار کب تھا
Read Moreضیا شادانی مرادآبادی … گلوں کا رنگ کلی کا شباب مانگے ہے
گلوں کا رنگ کلی کا شباب مانگے ہے نگاہ شوق بھی کیا انتخاب مانگے ہے جو تجھ سے مجھ سے خفا ہو گئے ہیں صدیوں سے نگاہ پھر انہیں لمحوں کا خواب مانگے ہے کسی کو کچھ بھی نہیں مل سکا زمانے میں جسے ملا ہے وہ کیوں بے حساب مانگے ہے اب اس سے بڑھ کے ترقی کا دور کیا ہوگا حرم میں بیٹھ کے زاہد شراب مانگے ہے اب ایسی ضد کا بھلا کیا علاج ہوگا ضیا وہ ماہتاب ہے اور آفتاب مانگے ہے
Read Moreضیا شادانی مرادآبادی … غم جو بکھرے تو کائنات ہوئے
غم جو بکھرے تو کائنات ہوئے اور سمٹے تو میری ذات ہوئے ہم سے ہی عرض مدعا نہ ہوا جب وہ مائل بہ التفات ہوئے مدتوں سے دعا سلام نہیں مدتیں ہو گئی ہیں بات ہوئے جو بھی گزری گزر گئی ہم پر رونما پھر نہ حادثات ہوئے ہم نے پائی وفا کی داد ضیا جب بھی ماضی کے واقعات ہوئے
Read Moreحسن اکبر کمال … کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا
کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا دن ڈھلے سایہ مقابل ہوا بڑھ کر اپنا گھر سے نالاں تھے مگر دیکھی ہے دنیا ہم نے ہے اگر کوئی اماں گاہ تو بس گھر اپنا درد یہ کیسا شرر بن کے اٹھا پہلو میں ہم تو یوں خوش تھے کہ دل کر لیا پتھر اپنا رات بھر کوئی نہ سوئے تو سنے شور فغاں چاند کو درد سناتا ہے سمندر اپنا دکھ اٹھائے تو بہت رنگ خود اپنے دیکھے کم قیامت سے نہ تھا جو بھی تھا منظر اپنا…
Read Moreایوب رومانی … رہ گزاروں میں روشنی کے لیے
رہ گزاروں میں روشنی کے لیے لے کے نکلے ہیں آندھیوں میں دیے ذائقہ تلخ ہے محبت کا آدمی زہر غم پیے نہ پیے دل میں یادوں کے رت جگے جیسے ٹمٹماتے ہوں مرگھٹوں کے دیے دل میں طوفان ہیں چھپائے ہوئے ہم تو بیٹھے ہیں اپنے ہونٹ سیے کوئی تجھ سا نظر نہیں آتا دل نے سو رنگ انتخاب کیے در بدر شہر میں پھرے یارو اپنے کاندھے پہ اپنی لاش لیے دل کی دل میں رہیں تمنائیں آنکھوں آنکھوں میں کتنے اشک پیے جان پیاری ہمیں بھی تھی…
Read Moreسعود عثمانی۔۔۔ نکالتے رہے یہ لوگ خامیاں مجھ میں
نکالتے رہے یہ لوگ خامیاں مجھ میں اور اس کے بعد بچیں صرف خوبیاں مجھ میں میں ایک عمر یہاں جس مکاں میں رہتا رہا اب ایک عمر سے رہتاہے وہ مکاں مجھ میں سنا نہیں تھا کہ پت جھڑ بھی سبز ہوتی ہو مگر یہ پھول کھلا اور ناگہاں مجھ میں طلوع ہوتا ہے سورج غروب ہوتے ہوئے یہ رات جلنے لگی ہے یہاں وہاں مجھ میں سفر سے آتا ہوا ‘ بکریاں چراتا ہوا سعود کوئی گڈریا ہے نغمہ خواں مجھ میں
Read Moreحسن اکبر کمال … ہنر جو طالبِ زر ہو ہنر نہیں رہتا
ہنر جو طالبِ زر ہو ہنر نہیں رہتا محل سرا میں کوئی کوزہ گر نہیں رہتا بچھڑتے وقت کسی سے ہمیں بھی تھا یہ گماں کہ زخم کیسا بھی ہو عمر بھر نہیں رہتا میں اپنے حق کے سوا مانگتا اگر کچھ اور تو میرے حرف دعا میں اثر نہیں رہتا کچھ اور بھی گزر اوقات کے وسیلے ہیں گدا خزینۂ کشکول پر نہیں رہتا وہ کون ہے جو مسافر کے ساتھ چلتا ہے خیالِ یار بھی جب ہم سفر نہیں رہتا جسے بناتے سجاتے ہیں جس میں رہتے ہیں…
Read Moreسرور بارہ بنکوی … تو کیا یہ طے ہے کہ اب عمر بھر نہیں ملنا
تو کیا یہ طے ہے کہ اب عمر بھر نہیں ملنا تو پھر یہ عمر بھی کیوں تم سے گر نہیں ملنا چلو زمانے کی خاطر یہ جبر بھی سہہ لیں کہ اب ملے تو کبھی ٹوٹ کر نہیں ملنا رہ وفا کے مسافر کو کون سمجھائے کہ اس سفر میں کوئی ہم سفر نہیں ملنا جدا تو جب بھی ہوئے دل کو یوں لگا جیسے کہ اب گئے تو کبھی لوٹ کر نہیں ملنا
Read Moreعدیم ہاشمی ۔۔۔ مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اگل ڈالا بہت سکون ملا تلخیٔ نوا سے مجھے رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرور گناہ ابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے میں خاک سے ہوں مجھے خاک جذب کر لے گی اگرچہ سانس ملے عمر بھر ہوا سے مجھے غذا اسی میں مری میں اسی زمیں کی غذا صدا پھر آتی ہے کیوں پردۂ خلا سے مجھے میں جی رہا ہوں…
Read More