سلام ۔۔۔ واجد امیر

سلام ہماری آنکھ میں ٹھہری تھی جھیل پانی کی سو ہم نے خوب لگائی سبیل پانی کی اُسے بھی چھید دیا بارشوں نے تیروں کی بَس ایک مشک تھی وہ بھی قلیل پانی کی سوال غیرتِ تشنہ لبی کا تھا ،ورنہ زمین تھی نہیں اِتنی بخیل پانی کی گِلا کسی کا کِسی اور سے نہیں بنتا ہَوا تو آئی تھی بَن کے وکیل پانی کی کِسی کے جبر  نے رستہ دیا نہ پانی کو کسی کے صبر  نے مانی دلیل پانی کی بُہت رُلایا ہے پانی نے خلق کو لیکن…

Read More

جوش ملیح آبادی

چڑھ کے نیزے پہ دو عالم کو ہلا دیتی ہے کربلا موت کو دیوانہ بنا دیتی ہے

Read More

ناصر علی

کربلا پر ہے اگر ایمان تو مومن ہیں آپ حق پہ دے سکتے ہیں اپنی جان تو مومن ہیں آپ

Read More

ارشد شاہین ۔۔۔ قُربِ رسولِ پاک کا زینہ ہے کربلا

‎قُربِ رسولِ پاک کا زینہ ہے کربلا ‎ارشد مرے لیے تو مدینہ ہے کربلا ‎ ‎اس میں غمِ حسین کا پیہم قیام ہے ‎زخموں سے چور چور یہ سینہ ہے کربلا ‎ ‎جو اس میں ہے سوار وہی کامیاب ہے ‎اے دوست! برّیت کا سفینہ ہے کربلا ‎ ‎تیرہ و تار جگ کو چمک اس سے ہے ملی ‎خاتم ہے یہ جہاں تو نگینہ ہے کربلا ‎ ‎اک غم کی کیفیت ہی یہاں پائیدار ہے ‎اور اس کا لازوال خزینہ ہے کربلا ‎ ‎اکسیر اس کی خاک شہیدوں کے خون…

Read More

افتخار عارف ۔۔۔ شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے

شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا    ہے زمانے بھر کے گھرانوں میں گھر حسینؑ کا  ہے فراتِ وقتِ رواں! دیکھ سوئے مقتل دیکھ جو سر بلند  ہے اب بھی وہ سر حسینؑ کا  ہے زمین کھا گئی کیا کیا بلند و بالا درخت ہرا بھرا  ہے جو اَب بھی شجر حسینؑ کا  ہے سوالِ بیعتِ شمشیر پر جواز بہت مگر جواب وہی معتبر حسینؑ کا  ہے کہاں کی جنگ کہاں جا کے سر ہوئی  ہے کہ اب تمام عالمِ خیر و خبر حسینؑ کا  ہے…

Read More

سلام ۔۔۔ مرزا غالب

سلام سلام اسے کہ اگر بادشہ کہیں اس کو تو پھر کہیں کہ کچھ اس سے سوا کہیں اس کو نہ بادشاہ نہ سلطاں یہ کیا ستایش ہے کہو کہ خامسِ آلِ عبا کہیں اس کو خدا کی راہ میں شاہی و خسروی کیسی کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اس کو خدا کا بندہ خداوندگار بندوں کا اگر کہیں نہ خداوند کیا کہیں اس کو فروغِ جوہرِ ایماں حسین ابن علی کہ شمعِ انجمنِ کبریا کہیں اس کو کفیلِ بحششِ اُمت ہے بن نہیں پڑتی اگر نہ شافعِ روز…

Read More

سلام ۔۔۔ ڈاکٹر جواز جعفری

سلام رَوا ہوئی نہ گُلِ ظلم پر زمینِ حسین سو سرخ ہونا تھی اک روز آستینِ حسین گئے وہ دن یہاں رہتے تھے دوستانِ علی کہ اب تو کوفہ ہے شہرِ مخالفینِ حسین میانِ مکّہ و کوفہ عجیب نسبت ہے وہ مُنکرینِ محمد ، یہ مُنکرینِ حسین کبھی نہ ربط رکھا قاتلوں کے مَسلَک سے ہمارے واسطے کافی ہے راہِ دینِ حسین میں مر بھی جاؤں ثنائے حسین کرتے ہوئے مرے قبیلے سے اُٹھیں گے ذاکرینِ حسین طواف چلتا رہا اور نماز ہوتی رہی پڑی تھی تَپتی ہوئی ریت پر…

Read More

افتخار عارف ۔۔۔ وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے

وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے مشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن راتوں رات چلا جائے جس جس کو جانا ہے ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے دریا پر قبضہ تھا جس کا اس کی پیاس عذاب جس کی ڈھالیں چمک رہی تھیں وہی نشانہ ہے کاسۂ شام میں سورج کا سر اور آواز اذاں اور آواز اذاں کہتی ہے فرض نبھانا…

Read More

سلام بحضور امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔ احمد ندیم قاسمی

لب پر شہدا کے تذکرے ہیں لفظوں کے چراغ جل رہے ہیں جن پہ گزری ہے ان سے پوچھو ہم لوگ تو صرف سوچتے ہیں میدان کا دل دہک رہا ہے دریاؤں کے ہونٹ جل رہے ہیں کرنیں ہیں کہ بڑھ رہے ہیں نیزے جھونکے ہیں کہ شعلے چل رہے ہیں پانی نہ ملا تو آنسوؤں سے چُلو بچوں کے بھر دیے ہیں آثار جوان بھائیوں کے بہنوں نے زمیں سے چن لیے ہیں بیٹوں کے کٹے پھٹے ہوئے جسم ماؤں نے ردا میں بھر لیے ہیں یہ لوگ اصولِ…

Read More