امجد اسلام امجد ۔۔۔ سلام مرا

سلام مرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دشت میں شام ہوتی جاتی تھی ریت میں بُجھ رہی تھیں وہ آنکھیں جن کو اُنؐ کے لبوں نے چوما تھا (جن کی خاطر بنے یہ ارض و سما) پاس ہی جل رہے تھے وہ خیمے جن میں خود روشنی کا ڈیرا تھا ہر طرف تھے وہ زخم زخم بدن جن میں ہر ایک تھا گہرکی  مثال قیمتی، بے مثال ، پاکیزہ دیکھ کر بے امان تیروں میں ایک چھلنی ، فگار، مشکیزہ رک رہا تھا فرات کا پانی وقت اُلجھن میں تھا ، کدھر جائے پھیلتے…

Read More

ایمان قیصرانی ۔۔۔ تنہا تھی کل تو مثلِ بہتر حسینیت

تنہا تھی کل تو  مثلِ  بہتّر حُسینیتاور آج صف بہ صف ہوئ لشکر حُسینیت زینب سی شاہزادی کا فخر و غرور بھیمجھ بے ردا کنیز کی چادر حُسینیت صدیاں گواہ ، اور ہے تاریخ مُعترفقائم ہے مثل ِ شجر ِ تناور حُسینیت "کشمیر "اور "ڈل” کے کناروں پہ دیکھئےکیسے کھڑی ہے آج بھی ڈٹ کرحُسینیت محشر تلک رہے گی محمد کے عشق میںلے کر متاع ِ جان نچھاورحُسینیت ہر دور ِجور و جبر میں ظالم کےسامنےصدیوں کی خامشی میں سُخنور حُسینیت ایماں سکون وصبر و قناعت کے ساتھ ساتھکرب و…

Read More

علی اصغر عباس ۔۔۔ سلام

سیاہ بخت سے لمحوں کے کیا نصیب ہوئےترے لہو کی لپک سے ضیا نصیب ہوئے مہ و نجوم محرم کے پہلے عشرے کےفنا کی اَور سے نکلے، بقا نصیب ہوئے عجیب تیرگی ظلمت کدے میں پھیلی تھیحریف نور کے سارے خطا نصیب ہوئے ضمیر جاگا تو اس کی پکار پر حُر بھیبتانِ وقت سے چھوٹے، خدا نصیب ہوئے کٹے تھے بازؤےعباس، مشک چھلنی تھیمگر وہ اس پہ بھی خوش تھے، وفا نصیب ہوئے کھلا تھا دشت مگر پھر بھی سانس گھٹتا تھامشامِ جاں سے ترے دم، ہوا نصیب ہوئے کنارِ…

Read More

سید فخرالدین بَلّے ۔۔۔ حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے

حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الہٰی ! کون مٹا دین کی بقا کیلئے یہ کس نے جامِ شہادت پیا وفا کیلئے یہ کس نے کردیا قربان گھرکا گھر اپنا یہ کس نے جان لُٹا دی تری رضا کیلئے حسین ہی کی ضرورت تھی کربلاکے لئے ہنوز تشنہ تھی روحِ پیامِ ربِ جلیل ہنوز تشنہ و مبہم تھی زندگی کی دلیل ہنوز تشنۂ تکمیل تھا مذاق ِ خلیل حصولِ مقصدِ تعلیمِ انبیاء کیلئے حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے قیامِ فصلِ بہاراں کا کام باقی تھا علاجِ…

Read More

انصر حسن ۔۔۔ جناب امیر (مولا علیؑ) کے حضور

کرتا ہوں اجتناب کہ بندہ علی کا ہوں پیتا نہیں شراب کہ بندہ علی کا ہوں دنیا و دیں کے اور حیات و ممات کے کھلتے ہیں مجھ پہ باب کہ بندہ علی کا ہوں مخفی نہیں ہے کوئی بھی میرا معاملہ میں ہوں کھلی کتاب کہ بندہ علی کا ہوں دنیا کے ساتھ ساتھ میں اپنا بھی دوستو کرتا ہوں احتساب کہ بندہ علی کا ہوں کچھ بھی کہیں یہ لوگ پہ میری نگاہ میں دنیا ہے اک سراب کہ بندہ علی کا ہوں

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ سلام

یزیدی عہد ہے امت کی رسوائی نہیں جاتی حسینیت کے دعوے ہیں کہیں پائی نہیں جاتی کوئی جب رزم و بزمِ کربلا کا راز پا جائے تو پھر جو سوچ میں آتی ہے گہرائی نہیں جاتی یہاں جھک جائیں جو سر تاجِ درویشی انھیں زیبا وہ کیا پائیں کہ جن سے بوئے دارائی نہیں جاتی یہ راہِ عشق و مستی ہے میاں اس راہ میں دل کیا قلم سے بھی توازن کی قسم کھائی نہیں جاتی قیام و صبرِ شبیری کا سورج بجھ نہیں سکتا یزیدی جبر کی جب تک…

Read More

سرور حسین نقشبندی ۔۔۔ حسین ابن علیؓ

تو محبت کا پیامی ہے حسین ابن علیؓ تیری جرات کو سلامی ہے حسین ابن علیؓ عظمت آثار ترا نقشِ قدم ہے مولا خواجگی تیری غلامی ہے حسین ابن علیؓ حشر تک سارے یزیدوں کے لیے مرگ اثر آپ کا اسم گرامی ہے حسین ابن علیؓ شائبہ کوئی نہیں اس میں ذرا بھی شر کا خیر ہی خیر تمامی ہے حسین ابن علیؓ تجھ کو جو ذرہ برابر بھی غلط کہتا ہے اس کے ہونے میں ہی خامی ہے حسین ابن علیؓ جامۂ صبر و رضا پہنے سر نوکِ سناں…

Read More

اقبال سروبہ ۔۔۔ سلام یا حسین

نام میرے لب پہ آیا جس گھڑی شبیر کا گوشہ گوشہ ہو گیا روشن دلِ دلگیر کا گل ہوئیں باطل کی شمعیں جل اٹھی قندیلِ حق یوں ہوا شہرہ جہاں میں نعرہ تکبیر کا یوں بہتر تن سروں پر باندھ کر نکلے کفن پانی پانی ہو گیا خونِ جگر شمشیر کا اے حسین ابنِ علی تیری شجاعت کو سلام تیرا خوں غازہ بنا اسلام کی توقیر کا آج بھی نادم ہے زنداں عابدِ بیمار سے حلقہ حلقہ رو رہا ہے آج بھی زنجیر کا جب سے رنگیں ہو گئی آلِ…

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ سلام

ذکرِ شبیر سے نکل آیا خُون تحریر سے نکل آیا دیکھتا تھا فُرات وہ چشمہ جو رگِ پیر سے نکل آیا گل شدہ اک چراغِ خیمہ بھی بڑھ کے تنویر سے نکل آیا روح نکلی غبار سے دل کے جِسم زنجیر سے نکل آیا وہ شہادت کہ جس میں خوں کی جگہ نور ہر چیر سے نکل آیا اس کو تلوار نے لیا راحت بچ کے جو تیر سے نکل آیا

Read More

سلام بحضور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ … سعید راجہ

پہلے پہل عجب لگی ہجرت حسین کی پھر مجھ کو یاد آ گئی نسبت حسین کی تھا اذن بھی, چراغ بھی گل کر دیئے گئے چھوڑی نہیں کسی نے رفاقت حسین کی کردار شرطِ خاص ہے انکار کیلئے اس کی کھری مثال ہے سیرت حسین کی کربل کی سرخ ریت پہ سجدہ ادا کیا بے مثل ہو گئی ہے عبادت حسین کی آنکھیں تو ہیں نگاہِ بصیرت کوئی نہیں کھلتی کسی پہ خاک حقیقت حسین کی ہر اک لہو کی بوند پہ لکھا ہے ان کا نام روشن ہے میرے…

Read More