حُسنِ تخلیق کا شہکار ، حسینؓ ابنِ علیؓ عشق کا مطلعِ انوار ، حسینؓ ابنِ علیؓ حق نے باطل کو بہ ہر حال پنَپنے نہ دیا اِس حقیقت کا ہیں اظہار ، حسینؓ ابنِ علیؓ
Read MoreCategory: سلام
سید نصیرالدین نصیر ۔۔۔ جس کی جرأت پر جہانِ رنگ و بو سجدے میں ہے
جس کی جرأت پر جہانِ رنگ و بو سجدے میں ہے آج وہ رَمز آشنائے سِرِّ ھُو سجدے میں ہے کیسا عابد ہے یہ مقتل کے مصلی پر کھڑا کیا نمازی ہے کہ بے خوفِ عدو سجدے میں ہے اے حسین ابن علی تجھ کو مبارک یہ عروج آج تو اپنے خدا کے روبرو سجدے میں ہے جانبِ کعبہ جھکا مولودِ کعبہ کا پسر قبلہ رو ہو کر حسینِ قبلہ رو سجدے میں ہے ابنِ زہرا اس تری شانِ عبادت پر سلام سر پہ قاتل آچکا ہے اور تو سجدے…
Read Moreنذیر قیصر
بس ایک شام سرِدشت کربلا اتریپھر اس کے بعد گھروں سے علم نکلتا رہا
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ یہ فخر ہے اے مجرئی جاگیر ہماری
یہ فخر ہے اے مجرئی جاگیر ہماری سادات کے غم سے ہوئی تعمیر ہماری توقیر سدا کرتا ہے تطہیر ہماری تہذیب میں شامل غمِ شبیر ہماری اک زخم نکھرتاہوا زنجیر زنی سے اک درد ہلاتا ہوا زنجیر ہماری کہتی تھی دمِ نزع سکینہ سے ضعیفی کچھ دیر کو ہے سامنے تصویر ہماری اک زہر میں ڈوبی ہوئی لوگوں کی خموشی اک نوحے سے ہوتی ہوئی تطہیر ہماری اک نعرۂ پر جوش ہوا ڈھال ہمیشہ اک نوحۂ غم ہو گیا شمشیر ہماری یہ کس کی سرِ دشت ہیں پر درد صدائیں…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ عمر چھ ماہ نام اصغر ہے
عمر چھ ماہ نام اصغر ہے عالمِ کم سنی میں حیدر ہے اک تبسم نکھارتا ہے اسے جس جوانی کا نام اکبر ہے حسنِ اکبر پہ ماہتاب نثار اور اکبر نثارِ اصغر ہے پیاس کو تیر مارنے والے ایک بچہ جوان لشکر ہے وار ایسا کیا تبسم کا کند بیعت کا اب بھی خنجر ہے حسن میں ہے وہ اکبر و قاسم اور شجاعت میں رشکِ حیدر ہے وہ بہتر میں اک اکیلا تھا وہ اکیلا بھی اک بہتر ہے کربلا میں تبسمِ اصغر دشت میں موج زن سمندر ہے…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ اک بارگہِ حسن میں پیغامِ سناں ہے
اک بارگہِ حسن میں پیغامِ سناں ہے گل رنگ ابھی سینۂ شبانِ جناں ہے اک لشکرِ عصیاں میں گھرا شاہِ جہاں ہے اک نار مولد جو سدا در پئے جاں ہے اک شخص جو مجموعہِ اوصافِ نبی ہے اک پھول ہے جس پھول میں گلزار نہاں ہے آئے ہیں عجب شان سے میدانِ وغا میں مولا ہیں کہ گلزار میں اک سروِ رواں ہے معصوم سی اک پیاس کا ہنسنا سر میداں کیا تیر ہے جس تیر پہ قرباں کماں ہے دشمن کی قطاروں میں ہیں عباس غضب ناک شمشیر…
Read Moreعماد اظہر
دیا بجھانا، جلانا ، تو ظرف تھا لیکن حسین جانتے تھے کون کارواں میں ہے
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ اس غم کے لیے چاہیے گھر اور مکاں اور
اس غم کے لیے چاہیے گھر اور مکاں اور یہ تیر ہے وہ جس کی ضرورت ہے کماں اور آیا ہے صفِ سیدِ ابرار میں جب سے اب حر کی ادا اور ہے اندازِ بیاں اور عاشورۂ غم ذہنوں پہ طاری ہے ابھی سے مقصودِ بیاں اور ہے ہوتا ہے عیاں اور معصوم تبسم کہ جواں سینۂ شبٌاں مطلوب ہے اس کے لیے اندازِ بیاں اور اس دہر میں جس شخص نے کی بیعتِ باطل اس سود کے سودے میں سراسر ہے زیاں اور ہر ایک رجز سے سرِ میداں…
Read Moreباقی احمد پوری
کربلا تک پہنچ نہیں پایا مدتوں سے فرات چل رہا ہے
Read Moreحسین ابن علی ۔۔۔ قتیل شفائی
حُسین غم کے صحراؤں میں گھنگھور گھٹا سا بھی تھا وہ دلاور، کئی روز کا پیا سا بھی تھا زندگی اُس نے خریدی نہ اصولوں کے عوض کیوں کہ وہ شخص محمدؐ کا نوا سا بھی تھا اپنے زخموں کا ہمیں بخش رہا تھا وہ ثواب اُس کی ہر آہ کا انداز دُعا سا بھی تھا صرف تیروں کی آئی ہوئی بوچھاڑ نہ تھی اُس کو حاصل غمِ زہرہ کا دلا سا بھی تھا جب گیا بن کے سوالی وہ حضورِ یزداں سرِ اقدس لئے ہاتھ میں کاسہ بھی تھا…
Read More