ماجد صدیقی ۔۔۔ گھُٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے

گھُٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے بدن ، پیہم اُدھڑتا جا رہا ہے نگاہِ نا رسا تک پر کھُلا ہے ہمارا درد ، پیوندِ قبا ہے پہن لے دام ، لقمے کی ہوس میں پرندہ عاقبت کب دیکھتا ہے اثر ناؤ پہ جتلانے کو اپنا سمندر ، ہم پہ موجیں تانتا ہے بھنویں جس کی ، کمانوں سی تنی ہیں قرابت دار وہ ، دربار کا ہے کسی کے ذوق کی تسکین ٹھہرا ہرن کا سر ، کہیں آ کر سجا ہے دیا جھٹکا ذرا سا زلزلے نے…

Read More

نسیم سحر ۔۔۔ مَیں کیا بتاؤں کہاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا

مَیں کیا بتاؤں کہاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا وہاں نہیں ہوں جہاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا سوال مجھ سے ہؤا ہے، مَیں کیوں نہیں ہوں وہاں جواب یہ ہے کہ ہاں ، مُجھ کو ہونا چاہیے تھا یہ میرے عہد کی اَرزانیوں نے ظلم کیا وگرنہ اَور گراں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا چلا تھا شوق سے جب منزلِ یقیںکی طرف وَرائے وہم و گماں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا بڑی شدید تھی خاموشی صحنِ مسجد کی وہاں بوقتِ اذاں مُجھ کو ہونا چاہیے تھا قدم قدم پہ…

Read More

اقبال سروبہ ۔۔۔ میں سوچتا ہوں مگر خواب تک نہیں جاتا

میں سوچتا ہوں مگر خواب تک نہیں جاتا ابھی میں قریۂ مہتاب تک نہیں جاتا میں جانتا ہوں مرا ہم مزاج ہے دریا کسی بھی حال میں سیلاب تک نہیں جاتا وگرنہ وہ تو مجھے چھوڑ کر چلے جاتے مرا جنوں مرے احباب تک نہیں جاتا سفید پوشی میں اپنا بھرم رکھے ہوئے ہوں کبھی میں ریشم و کمخواب تک نہیں جاتا سُخن وری بھی تو اقبال رایگاں ٹھہری یہ راستہ بھی تو اسباب تک نہیں جاتا

Read More

انصر منیر ۔۔۔ چشمِ افلاک کے بے مہر ستارے آئے

چشمِ افلاک کے بے مہر ستارے آئے میرے حصے میں محبت کے خسارے آئے دشتِ ہجراں میں بھلا شوق سے آتا ہے کوئی جو بھی آئے تھے کسی زعم کے مارے آئے دل تو ویسے بھی ہے اک کارِ زیاں پر مائل پر میں کہتا ہوں کہ یہ کام تمھارے آئے مجھ پہ چلتا تو نہیں کارِ مسیحا پھر بھی گردِ احساسِ تمنا کو اتارے، آئے باپ مرتا ہے تو پھر خواب بھی مر جاتے ہیں پھر نہ معصوم سے بچے کے غبارے آئے کوئی تو ایک سہارا بھی کہیں…

Read More

فیض رسول فیضان ۔۔۔۔ نقشِ وفا نکھارنے والا ، نہ تُو نہ میں

نقشِ وفا نکھارنے والا ، نہ تُو نہ میں اپنی انا کو مارنے والا ، نہ تُو نہ میں دونوں بلا کے چرب زباں ہیں ، یقین کر زُلف ِ عمل سنوارنے والا ، نہ تُو نہ میں اوڑھے ہوئے لبادۂ صدق و صفا ، مگر حق ہُو ، بہ دل پُکارنے والا ، نہ تُو نہ میں جس کو ترس رہی ہے اداکاریٔ خرد سچّا وہ رُوپ دھارنے والا ، نہ تُو نہ میں کٹتی ہے جس جگہ پہ زباں ، لب کشائی پر شیخی وہاں بگھارنے والا ،…

Read More

ریاض ندیم نیازی ۔۔۔ اب نہیں مجھ میں چاہتیں باقی

اب نہیں مجھ میں چاہتیں باقی رہ گئیں تیری عادتیں باقی بٹ گیا دل تو کرچیوں میں، پر ہیں سبھی میں شباہتیں باقی دیکھ بے نور ہو گئیں آنکھیں ہیں مگر اِن میں حسرتیں باقی پھول کلیوں میں اِس چمن کے اب رنگتیں ہیں نہ نکہتیں باقی میرے خوابوں میں اور کچھ بھی نہیں یار کی ہیں شباہتیں باقی کر چکا ہوں وضاحتیں ساری پھر بھی ہیں کچھ وضاحتیں باقی لذّتِ عشق کھو گئی لیکن رہ گئی ہیں اذیتیں باقی ایک مدّت سے چل رہا ہوں ندیمؔ ’’اور ہیں کتنی…

Read More

صغیر احمد صغیر ۔۔۔ خواہشِ انجمنِ جام و طرب ہے ہی نہیں

خواہشِ انجمنِ جام و طرب ہے ہی نہیں سچ بتاؤں تو کوئی دل میں طلب ہے ہی نہیں لاکھ بتلاتا ہوں پھر بیچ میں لے آتے ہو مسلکِ عشق میں یہ نام و نسب ہے ہی نہیں حیف صد حیف یہاں کوئی گنہگار نہیں کیسی محفل ہے طلب گار و طلب ہے ہی نہیں نہیں معلوم کہ غمگین ہوں کس کی خاطر مسئلہ یہ ہے کوئی غم کا سبب ہے ہی نہیں عہد و پیمان ، شکایات ، جنوں ، میخانے عقل والوں کے نصیبوں میں یہ سب ہے ہی…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ موج دریا پہ چھا رہا ہے یہ کون

یہ غزل جوش ملیح آبادی کی تخیل انگیز، شہوانی و روحانی، وجدانی اور تمثیلی شاعری کا نادر و نایاب شاہکار ہے، جس میں حس، خواب، بدن، عشق، موسیقی، روشنی، ذہن، اور روح سب بیک وقت متحرک ہیں۔ پوری غزل ایک ہی سوال پر قائم ہے:

"یہ کون؟”

جیسے عشق، وجود، کائنات، فطرت، نسوانی حسن، اور الوہی اسرار — سب مل کر ایک منظرنامۂ تجلیات تشکیل دے رہے ہوں۔

Read More

محمد علی ایاز ۔۔۔ مسلسل نامکمل راستوں سے

مسلسل نامکمل راستوں سے کسی نے رب کو ڈھونڈا مشکلوں سے ابھی بھی دل مرا بنجر نہیں ہے ہرا رکھا ہوا ہے خواہشوں سے کسے معلوم کیوں کر دیکھتا ہوں میں ہاتھوں کی لکیریں کچھ دنوں سے بہت آسان ہوتی جارہی تھیں پھر اک الجھن نکالی الجھنوں سے ابھی منزل دکھائی کیسے دے گی ابھی پالا پڑا ہے رہزنوں سے یہ آگ اور خون کیسے گوندھتے ہیں کبھی پوچھے کوئی کوزہ گروں سے

Read More

رمزی آثم ۔۔۔ دو غزلیں

کوئی تمثیل نہیں ہے یہاں پیارے میری نقل کرتے ہیں فلک پر یہ ستارے میری میں نے اک پیڑ لگایا کہ یہاں چھاؤں رہے جان لینے پہ تلے ہیں یہاں سارے میری مچھلیاں دیکھ کے چپ چاپ پلٹ جاتی ہیں کوئی اوقات نہیں جھیل کنارے میری اس سے کہنا کہ جہاں کوئی نہ ہو میں بھی نہ ہوں اس سے کہنا وہاں تصویر اتارے میری دوستو تم ہی بتاؤ مجھے کیسا ہوں میں کوئی رائے نہیں بنتی مرے بارے میری ۔۔۔ کسی چراغ کسی روشنی کو مت دیکھو ہمارے ساتھ…

Read More