مرزا آصف رسول ۔۔۔ شہِ خوباں!

شہِ خوباں! ۔۔۔۔ یہ دل جو عشق کا بھرتا ہے دم ،ہے تجھ پہ فدا ہو اِس پہ اور بھی لطف و کرم ،ہے تجھ پہ فدا وہ دل جو آپ کوئی پل بھی ذمہ دار نہیں وہ کس پہ ڈال کے بارِ ذِمم؟ ہے تجھ پہ فدا تری ثنا نے بھی دی ہے ترے عدوکو شکست وہ مدح جس سے کہ غارت ہو ذم ،ہے تجھ پہ فدا ہے تو وہ سیدِکونین اے شہِ خوباں! عرب نثار ہے تجھ پر، عجم ہے تجھ پہ فدا ہے تو وہ عزتِ…

Read More

وسیم جبران ۔۔۔ اعتراف

اعتراف ۔۔۔۔۔ کیا تمہیں بھی یاد ہے ہم نے بھی تو پکڑی تھیں رنگ رنگ تتلیاں چند لمحوں کے لیے ہاتھ میں جو رہتی تھیں ہم یہی سمجھتے تھے مل گئی ہو جس طرح ہم کو ساری کائنات میری مٹھی میں دبا تھا تمہارا پیار بھی پر نجانے کس طرح تتلیوں سا پیار وہ قید رکھنے کے لیے بند تھی جو آج تک میری مٹھی کھل گئی

Read More

خالد علیم ۔۔۔ میرا جی کے نام

میرا جی کے نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا جی تم میرا جی ہو میراجی ہم جانتے ہیں تم صرف ثنااللہ تھے پہلے آخر اک دن میراسن کے عشق میں میرا جی کہلائے اور جب میرا جی کہلائے تم نے ثنا اللہ کے دل کی دھڑکن کو اپنے اندر مار دیا جانتے ہیں ہم تم اچھی نظمیں لکھتے تھے منٹو کے افسانوں جیسی کرشن کے سچے کرداروں میں ڈوبی نظمیں آدھے دھڑ کے  انسانوں  پر پوری نظمیں حیوانوں پر پوری نظمیں لیکن —سچ ہے منٹو نے اپنے خاکے میں جتنے رنگ بھرے تھے…

Read More

طالب انصاری ۔۔۔ آخری گزارش

آخری گزارش ۔۔۔۔۔۔۔۔ مری گفتگو بھیگے پتّوں پہ لکھی وہ تحریر ہے جو کسی کی سمجھ میں ہی آتی نہیں ہے مرے خواب زرتاب کرنوں سے گوندھے ہوئے خواب تاریکیوں سے بھری کوٹھڑی کی ٹپکتی ہوئی چھت کے نیچے پڑے ہیں کہ یہ سکّۂ رائج الوقت ہرگز نہیں ہیں مری سوچیں مسجد کی الماری میں رکھّی پُرنور رحلیں جو بے کار چیزوں کی صورت ٹرنکوں کے اندر چھپا دی گئی ہیں انھیں جھاڑنے ، پونچھنے کی کسی کو بھی فرصت نہیں ہے مری خواہشیں گوردوارے کے اونچے کلس جیسی تھیں…

Read More

طالب انصاری ۔۔۔ آخری گزارش

آخری گزارش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مری گفتگو بھیگے پتّوں پہ لکھی وہ تحریر ہے جو کسی کی سمجھ میں ہی آتی نہیں ہے مرے خواب زرتاب کرنوں سے گوندھے ہوئے خواب تاریکیوں سے بھری کوٹھڑی کی ٹپکتی ہوئی چھت کے نیچے پڑے ہیں کہ یہ سکّۂ رائج الوقت ہرگز نہیں ہیں مری سوچیں مسجد کی الماری میں رکھّی پُرنور رحلیں جو بے کار چیزوں کی صورت ٹرنکوں کے اندر چھپا دی گئی ہیں انھیں جھاڑنے ، پونچھنے کی کسی کو بھی فرصت نہیں ہے مری خواہشیں گوردوارے کے اونچے کلس جیسی تھیں…

Read More

ممتاز راشد لاہوری ۔۔۔ اقبال راہی کی نذر

دلوں پر کر رہے ہیں بادشاہی ہمارے محترم اقبال راہی سدا سے سوچ ہے ان کی فلاحی بہت سے کام ہیں ان کے رفاہی یہ ذہن و دل کو رکھتے ہیں منور مِٹاتے ہیں یہ سینوں کی سیاہی کھلا ہے آستانہ اِن کے دل کا نہ قدغن ہے نہ ہے کوئی مناہی جواباً بانٹتے ہیں مسکراہٹ کوئی جتنی بکے واہی تباہی قیادت میں اِنہی کی سربکف ہیں سُخن کی فوج کے اکثر سپاہی حقیقت میں یہی ہیں مغلِ اعظم حقیقت میں یہی ظِلِّ الٰہی عطا ان کو ہوئی ہے ایسی…

Read More

دانش عزیز ۔۔۔ مقدمہ

عجب بھگدڑ ہے، شُورش ہے دماغ و قلب اْلجھے ہیں یہ آنکھیں ہاتھ اور بازو سبھی کیوں سہمے سہمے ہیں اِنہیں کیا خوف لاحق ہے زمینِ دل پہ ہر جانب اگرچہ ہْو کا عالم ہے مگر یہ شور کیسا ہے یہ منظر حشر جیسا ہے بگل بجتا ہے اور جیسے بدن کے سارے اعضا کو کڑا اِک حکم ملتا ہے نظر نیچی رہے تیری سِلے ہوں ہونٹ آپس میں کوئی ہچکی، کوئی سسکی، کوئی آواز بھی ابھرے نہ ہونٹوں کو دلاسے کا تیقن ہو فقط خاموشی، چاروں سَمت خاموشی قطار…

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ 16 دسمبر 1971ء(سقوطِ مشرقی پاکستان) کی یاد میں ایک نظم

جو میرے پیارے دُلارے وطن کا حصہ تھا جو میرا بازو تھا، میرے بدن کا حصہ تھا جُدا ہوا ہے تو اُس کا ملال کیوں نہ کروں؟ تباہ کِس نے کِیا، یہ سوال کیوں نہ کروں؟ …………… جُدا ہوا جو مِرے دُشمنوں کی سازش سے اور اِس کے ساتھ کچھ اپنوں کی بھی نوازش سے بھلا بیان مَیں یہ سارا حال کیوں نہ کروں؟ تباہ کس نے کِیا، یہ سوال کیوں نہ کروں؟ …………… اُگیں گی نفرتیں ایسا گماں کہاں تھا کبھی محبتوں کا سمندر رواں دواں تھا کبھی مَیں…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ سفر کی شاخ پر ( جنابِ اختر حسین جعفری کے لیے)

سفر کی شاخ پر ( جنابِ اختر حسین جعفری کے لیے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سفر کی شاخ پر کِھلی تھیں ملگجی بشارتیں کُشادِ حرفِ ذات سے،سوادِ زخمِ خواب تک سفید جھاڑیوں میں تھیں شفق کی خشک بیریاں کہ جگنوؤں نے روشنی کا پیرہن اتار کر قدیم آسماں کے دائروں میں دفن کر دیا نواحِ جاں میں سرمئی سی بادلوں کی ڈھیریاں فرازِ برف زار سے،نشیب ِ ماہتاب تک غروبِ شامِ رفتگاں کی جل بجھی وصیّتیں ہجومِ رنگ میں گھرے، اُڑے اُڑے جواب تک پسِ غبارِ آئنہ کوئی سوال رہ گیا کہِیں بس…

Read More