مضافاتی ہوں پھر بھی سوچتا ہوں نہ جانے شہر میں کیا ہو رہا ہے
Read MoreCategory: م
ڈاکٹر یونس خیال
ملے نہ تم تو تہی دامنی کھُلی مجھ پر میں سوچتاتھازمانہ مری گرفت میں ہے
Read Moreنجیب احمد
موت سے زیست کی تکمیل نہیں ہو سکتی روشنی خاک میں تحلیل نہیں ہو سکتی
Read Moreنجیب احمد
مری زمیں مجھے آغوش میں سمیٹ بھی لے نہ آسماں کا رہوں میں نہ آسماں میرا
Read Moreبابو لاڈلی لال فائق
مر گئے ہم اسی تمنا میں دل کی باتیں سنا کرے کوئی
Read Moreمحسن اسرار
مجھے ملال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے مگر یہ حال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے
Read Moreاحمد حسین مائل
میرا سلام عشق علیہ السلام کو خسرو اِدھر خراب، اُدھر کوہکن خراب
Read Moreخالد احمد
مسمار کر چلے ، مرے معمار کیوں مجھے کچھ نقص مجھ میں تھا کہ مرے بانیوں میں تھا
Read Moreراحت اندوری
اجنبیت کی بستی میں بقا کی تمنا لیے، شاعر نے دشمنوں کے درمیان دل تھام کر قدم رکھا ہے۔
جہاں ہمدردوں کی گنتی انگلیوں پر ہو، وہاں ہر سانس بھی گویا جرأتِ اظہار کا استعارہ بن جاتی ہے۔
ادا جعفری
اس شعر میں ادا جعفری نے ہوائے مست و مدہوش کو اس دلآویز انداز سے مصور کیا ہے گویا فطرت خود ساغر و مینا تھامے، کیف و نشاط کا جام لُٹا رہی ہو۔
یہ صرف بادِ نسیم کی خرامی نہیں، بلکہ روحِ کائنات کی نازنیں سرشاری ہے جو اپنے جلو میں وجدانی مسرّت، جمالی لطافت، اور حیات آفرینی لیے بہہ رہی ہے۔
شاعرہ کی نگاہِ حسّاس نے موسم کے معمولی جھونکوں کو عالمِ وجدان کی شرابِ ناب میں بدل کر پیش کیا ہے، جہاں فطرت کی ہر سانس گویا رقصِ لطافت بن گئی ہو۔
یہ شعر محض موسم کی منظرکشی نہیں بلکہ باطنی سرمستی اور نسائی شعورِ جمال کا ایک لطیف اظہاریہ ہے، جو قاری کو کیف و سکوت کے حسین کنارے پر لا کھڑا کرتا ہے۔
ادا جعفری کی شعری حسیّت یہاں نازک خیالی، رمز و کنایہ، اور باطن افروزی کے اعلیٰ نمونے کے طور پر جلوہ گر ہے، جہاں ہر لفظ مچلتی خوشبو کی مانند قاری کی روح پر دستک دیتا ہے۔
