سلام کوئی چراغ جب انکارِ شام بھی نہ کرے کرے گا کون اگر یہ امام بھی نہ کرے مری کسی سے نہیں دشمنی مگر جو شخص نہیں حسین کا مجھ سے کلام بھی نہ کرے گراں گزرتی ہے جس دل پہ یادگارِ حسین حضورِحق میں سجود و قیام بھی نہ کرے ہو بادشاہ جو دنیا کے در کا سگ ، اس کو علی کا چاہنے والا سلام بھی نہ کرے جو آنکھ بخشی ہے مولا تو التفات مزید بجز عزائے حسین اور کام بھی نہ کرے وہی تو کوفی ہے…
Read Moreثروت حسین ۔۔۔ سلام یا حسینؑ
سلام یا حسینؑ نظر سے شامِ غریباں کا وہ سماں نہ گیا فراخِ دشت سے پھر ایسا کارواں نہ گیا جھلک اٹھا ہے کنارِ افق سے تابہ افق ابد کنار ہوا خون رایگاں نہ گیا وہ شب چراغ کہ تیرے لہو سے روشن تھا شعاعِ مہر ہوا تو کہاں کہاں نہ گیا ہزار شکر کہ وہ ایک لمحۂ امید جہانِ صبر سے بے صوت بے اذاں نہ گیا ہوائیں تیز تھیں لیکن ہمارے ہاتھوں سے وہ اک نشان وہ دامانِ خونچکاں نہ گیا
Read Moreسیماب اکبر آبادی
سجاد اسیرِ جور ہوۓ صد حیف کسی نےیہ نہ کہا یہ پاؤں ستونِ کعبہ ہیں زنجیر کسےپہناتےہو
Read Moreنذرانہء عقیدت بحضور امامِ عالی مقامؑ ۔۔۔ صغیر انور
نذرانۂ عقیدت بحضور امامِ عالی مقامؑ سب سے عالی نسب، حُسینؑ آباد دو جہاں کی طلب، حُسین ؑ آباد آپ ان پر درود پڑھتا ہے آپ کہتا ہے رب، حُسینؑ آباد اِس سے عمریں طویل ہوتی ہیں لوگ کہتے ہیں جب،حُسینؑ آباد دھیان جاتا ہے کربلا کی طرف بول اُٹھتے ہیں لب،حُسینؑ آباد
Read Moreابرار حسین اکبر
کربلا والیاں دی گل کریئے آ خدا والیاں دی گل کریئے جیتھے خالق درود پڑھدا اے "انما” والیاں دی گل کریئے
Read Moreخالد خواجہ ۔۔۔ سلام
سلام لہو لباس پہن، بن سنور نکلتے ہیں جنہیں نکلنا ہو بارِ دگر نکلتے ہیں حسین ابنِ علی غم ہزار ہوتے ہیں پہ تیرے غم ہی غمِ معتبر نکلتے ہیں یزیدیوں کیلئے موت بن کے جانا ہے پلٹ کے آنا نہیں، سوچ کر نکلتے ہیں قسم خدا کی، کہ ان سا حَسین کوئی نہیں نہا کے خون میں جو سر بسر نکلتے ہیں اشارہ پاتے ہی سارے حُسینی دیوانے اٹھا کے کندھوں پہ عزمِ سفر نکلتے ہیں کہیں پہ بند ہے اب بھی فرات کا پانی کہیں پہ اب بھی…
Read Moreدلاور علی آزر ۔۔۔ سبھی تشنہ سبو میں کربَلا ہے
سبھی تشنہ سبو میں کربَلا ہے لہو کی جستجو میں کربَلا ہے مِرے کانوں میں ہیں بچوں کی چیخیں اور اُن کی ہاوہو میں کربَلا ہے وہی ماتم بپا خیمہ بہ خیمہ وہی پنہاں لہو میں کربَلا ہے نہیں وہ پیاس ہونٹوں پر ہمارے اگرچہ گفتگو میں کربَلا ہے نمایاں ہیں اِن آنکھوں میں جو آنسو مِری خاکِ نمو میں کربَلا ہے نمی ہے ہَر طرف منظر بہ منظر فضائے چار سو میں کربَلا ہے ہمارا خون ہے سبزے میں آزَر گلوں میں رنگ و بو میں کربَلا ہے
Read Moreسلام ۔۔۔ افضل خان
سلام ملول ایساہوا منظرِ قضا سے میں کہ روتاپیٹتا نکلا ہوں کربلا سے میں رموزِ جامِ شہادت کا مجھ کو علم نہیں سو آب آب ہوں اے نینوا کے پیاسے میں تو اہلِ بیت کی نصرت کو کیوں نہیں پہنچا ؟ سوال مجھ سے کرے گا خدا ، خدا سے میں میں رو پڑا تو مجھے یاد آیا صبرِ حسینؑ سو اپنے آپ کو دینے لگا دلاسے میں
Read Moreحسنین اکبر ۔۔۔ ماتم کیا گیا کبھی گریہ کیا گیا
ماتم کیا گیا کبھی گریہ کیا گیا گھر اپنا کربلا کا علاقہ کیا گیا فطرت پہ اختیار سے قبضہ کیا گیا یعنی دیا بجھا کے اجالا کیا گیا عادل نے صبر و حرب میں برتا یوں اعتدال کچھ کم کیا گیا نہ زیادہ کیا گیا روزِ ازل سے نوکِ سناں تک اٹل حسین وعدہ کیا گیا تھا سو پورا کیا گیا اہلِ عزا کے گریے سے گھبرا کے ایک دن کعبہ ترا لباس بھی کالا کیا گیا حر کر چکا حسین کی ماں کا جب احترام فہرستِ تشنگاں میں اضافہ…
Read Moreعارف امام … ہے شہادت کہ ہلاکت کہ اجل ، بولتی ہے
ہے شہادت کہ ہلاکت کہ اجل ، بولتی ہے مرضئِ رب سرِ میدانِ جدل بولتی ہے یہ زباں حق کی زباں ہے ، دمِ گفتار تو ہو پھر ہو دربار کہ مقتل کہ محل ، بولتی ہے ایک وعدہ ہے فقط وعدۂِ طفلئِ حسینؑ جس کو قاموسِ تغیئر بھی اٹل بولتی ہے فجر کا وقت ہے، عاشور ہے، سنّاٹا ہے کس خموشی سے یہاں صبحِ ازل بولتی ہے جنگ جُو کہہ کے بلاتا ہے مرا آج مجھے خود کو خوشبو ئے شہادت مرا کل بولتی ہے رن میں ہے صاحبِ…
Read More