بلا بلائے حسینوں کا آنا جانا تھا قمر خدا کی قسم وہ بھی کیا زمانہ تھا قفس میں رو دیے یہ کہہ کے ذکرِ گلشن پر کبھی چمن میں ہمارا بھی آشیانہ تھا نہ کہتے تھے کہ نہ دے دیکھ دل حسینوں کو قمر یہ اس کی سزا ہے جو تو نہ مانا تھا
Read MoreTag: استاد قمر جلالوی کی شاعری
استاد قمر جلالوی ۔۔۔ اب مجھے دشمن سے کیا جب زیرِ دام آ ہی گیا
اب مجھے دشمن سے کیا جب زیرِ دام آ ہی گیا اک نشیمن تھا سو وہ بجلی کے کام آ ہی گیا سن مآلِ سوزِ الفت جب یہ نام آ ہی گیا شمع آخر جل بجھی پروانہ کام آ ہی گیا طالبِ دیدار کا اصرار کام آ ہی گیا سامنے کوئی بحسنِ انتظام آ ہی گیا ہم نہ کہتے تھے کہ صبح شام کے وعدے نہ کر اک مریضِ غم قریبِ صبح شام آ ہی گیا کوششِ منزل سے تو اچھی رہی دیوانگی چلتے پھرتے ان سے ملنے کا مقام…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔
متفق کیونکر ہوں ایسے مشورے پر دل سے ہم راہبر تو لوٹ لے شکوہ کریں منزل سے ہم راہبر کا ہو بھلا پہلے ہی گھر لٹوا دئیے لوٹ کر جائیں تو جائیں بھی کہاں منزل سے ہم شمع گل کر دینے والے ہو گئی روشن یہ بات ٹھوکریں کھاتے ہوئے نکلیں تری محفل سے ہم ہم کو دریا برد کرنے والے وہ دن یاد کر تجھ کو طوفاں میں بچانے آئے تھے ساحل سے ہم یہ نہیں کہتے کہ دولت رات میں لٹ جائے گی ہم پہ احساں ہے کہ…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ ہم بھی انھی کے ساتھ چلے وہ جہاں چلے
ہم بھی انھی کے ساتھ چلے وہ جہاں چلے جیسے غبارِ راہ پسِ کارواں چلے چاہوں تو میرے ساتھ تصور میں تا قفس گلشن چلے، بہار چلے، آشیاں چلے اے راہبر یقیں جو تری رہبری میں ہو مڑ مڑ کے دیکھتا ہوا کیوں کارواں چلے
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ یہاں تنگیِ قفس ہے وہاں فکرِ آشیانہ
یہاں تنگیِ قفس ہے وہاں فکرِ آشیانہ نہ یہاں مرا ٹھکانہ نہ وہاں مرا ٹھکانہ مجھے یاد ہے ابھی تک ترے جور کا فسانہ جو میں راز فاش کر دوں تجھے کیا کہے زمانہ نہ وہ پھول ہیں چمن میں نہ وہ شاخِ آشیانہ فقط ایک برق چمکی کہ بدل گیا زمانہ یہ رقیب اور تم سے رہ و رسمِ دوستانہ ابھی جس ہوا میں تم ہو وہ بدل گیا زمانہ مرے سامنے چمن کا نہ فسانہ چھیڑ ہمدم مجھے یاد آ نہ جائے کہیں اپنا آشیانہ کسی سر نگوں…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ بجا ہے حکم کی تعمیل مانتا ہوں میں
بجا ہے حکم کی تعمیل مانتا ہوں میں اگر حضور نے کل کہہ دیا خدا ہوں میں پڑے گا اور بھی کیا وقت میری کشتی پر کہ ناخدا نہیں کہتا کہ ناخدا ہوں میں تمھارے تیرِ نظر نے غریب کی نہ سنی ہزار دل نے پکارا کہ بے خطا ہوں میں سمجھ رہا ہوں قمر راہزن بجھا دے گا چراغِ راہ ہوں رستے میں جل رہا ہوں میں
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ سن کے نامِ عشق برہم وہ بتِ خود کام ہے
سن کے نامِ عشق برہم وہ بتِ خود کام ہے میں نہ سمجھا تھا محبت اس قدر بدنام ہے نامہ بر ان سے نہ کہنا نزع کا ہنگام ہے ابتدائے خط نہیں یہ آخری پیغام ہے چارہ گر میرے سکوں پر یہ نہ کہہ آرام ہے اضطرابِ دل نہ ہونا موت کا پیغام ہے ان کے جاتے ہی مری آنکھوں میں دنیا ہے سیاہ اب نہیں معلوم ہوتا صبح ہے یا شام ہے قافلے سے چھوٹنے والے ابھی منزل کہاں دور تک سنسان جنگل ہے پھر آگے شام ہے آپ…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ جواں ہو کر زباں تیری بتِ بے پیر بگڑی ہے
جواں ہو کر زباں تیری بتِ بے پیر بگڑی ہے دعا کتنی حسیں تھی جس کی یہ تاثیر بگڑی ہے وہ میرا نام لکھتے وقت روئے ہوں گے اے قاصد یہاں آنسو گرے ہوں گے جہاں تحریر بگڑی ہے مصور اپنی صورت مجھ سے پہچانی نہیں جاتی میں ایسا ہو گیا ہوں یا مری تصویر بگڑی ہے لٹا ہے کارواں جب آ چکی ہے سامنے منزل کہاں ٹوٹی امیدیں اور کہاں تقدیر بگڑی ہے کیا ہے ہر کڑی کو میں نے ٹیڑھا جوشِ وحشت میں مرے ہاتھوں ہی میرے پاؤں…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ ارماں ہو مجھے نزع میں کیا چارہ گری کا
ارماں ہو مجھے نزع میں کیا چارہ گری کا گل کون تراشے ہے چراغِ سحری کا اِک وہ بھی ہے بیمار تری کم نظری کا مر جائے مگر نام نہ لے چارہ گری کا برہم ہوئے کیوں سن کے مرا حالِ محبت شِکوہ نہ تھا آپ کی بیداد گری کا بیگانۂ احساس یہاں تک ہوں جنوں میں اب گھر کی خبر ہے نہ پتہ دربدری کا اور اس کے سوا پھول کی تعریف ہی کیا ہے احسان فراموش نسیمِ سحری کا دنیا پہ قمر داغِ جگر ہے مرا روشن لیکن…
Read More