بجا ہے حکم کی تعمیل مانتا ہوں میں اگر حضور نے یہ کہہ دیا خدا ہوں میں پڑے گا اور بھی کیا وقت میری کشتی پر کہ ناخدا نہیں کہتا کہ ناخدا ہوں میں تمھارے تیرِ نظر نے غریب کی نہ سنی ہزار دل نے پکارا کہ بے خطا ہوں میں سمجھ رہا ہوں قمر راہزن بجھا دے گا چراغِ راہ ہوں رستے میں جل رہا ہوں میں
Read MoreTag: استاد قمر جلالوی
استاد قمر جلالوی ۔۔۔ گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ
گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ کافر لگے ہوئے ہیں مسلماں کے ساتھ ساتھ سامان خاک آیا تھا انساں کے ساتھ ساتھ صرف ایک روح تھی تنِ عریاں کے ساتھ ساتھ اے ناخدا وہ حکمِ خدا تھا جو بچ گئی کشتی کو اب تو چھوڑ دےطوفاں کے ساتھ ساتھ اے باغباں گلوں پہ ہی بجلی نہیں گری ہم بھی لٹے ہیں تیرے گلستاں کے ساتھ ساتھ دو چار ٹانکے اور لگے ہاتھ بخیہ گر دامن بھی کچھ پھٹا ہے گریباں کے ساتھ ساتھ تم میرا خوں چھپا…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ باز آگیا شاید اب فلک ستانے سے
باز آگیا شاید اب فلک ستانے سے بجلیاں نکلتی ہیں بچ کے آشیانے سے خاک لے گئی بجلی میرے آشیانے سے صرف چار چھ تنکے وہ بھی کچھ پرانے سے کچھ نظر نہیں آتا ان کے منہ چھپانے سے ہر طرف اندھیرا ہے چاند ڈوب جانے سے حالِ باغ اے گلچیں فائدہ چھپانے سے ہم تو ہاتھ دھو بیٹھے اپنے آشیانے سے باغ ہو کہ صحرا ہو جی کہیں نہیں لگتا آپ سے ملے کیا ہم چھٹ گئے زمانے سے صبح سے یہ وقت آیا وہ ہیں بزمِ دشمن ہے…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ بلا سے ہو شام کی سیا ہی کہیں تو منزل مری ملے گی
بلا سے ہو شام کی سیا ہی کہیں تو منزل مری ملے گی ادھر اندھیرے میں چل پڑوں گا جدھر مجھے روشنی ملے گی ہجومِ محشر میں کیسا ملنا نظر فریبی بڑی ملے گی کسی سے صورت تری ملے گی کسی سے صورت مری ملے گی تمھاری فرقت میں تنگ آ کر یہ مرنے والوں کا فیصلہ ہے قضا سے جو ہم کنار ہو گا اسے نئی زندگی ملے گی قفس سے جب چھٹ کے جائیں گے ہم تو سب ملیں گے بجز نشیمن چمن کا ایک ایک گل ملے…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ عمر بھر خاک ہی کیا چھانتے ویرانوں کی
عمر بھر خاک ہی کیا چھانتے ویرانوں کی بات تھی آئی گئی ہو گئی دیوانوں کی کون کہہ دے گا کہ باتیں ہیں یہ دیوانوں کی دھجیاں جیب میں رکھی ہیں گریبانوں کی جا چکے چھوڑ کر آزادیاں ویرانوں کی اب تو بستی میں خبر جائے گی دیوانوں کی یادگاریں نہیں کچھ اور تو دیوانوں کی دھجیاں ملتی ہیں صحرا میں گریبانوں کی خیر محفل میں نہیں حسن کے دیوانوں کی شمع کے بھیس میں موت آئی ہے پروانوں کی تو بھی کب توڑنے کو پھول چلا ہے گلچیں آنکھ…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ صبر آگیا یہ کہہ کر دل سے غمِ وطن میں
صبر آگیا یہ کہہ کر دل سے غمِ وطن میں سب پھول ہی نہیں کانٹے بھی تھے چمن میں بلبل ہے گلستاں میں پروانہ انجمن میں سب اپنے اپنے گھر ہیں اک ہم نہیں وطن میں صیاد باغباں کی ہم سے کبھی نہ کھٹکی جیسے رہے قفس میں ویسے رہے چمن میں دامانِ آسماں کو تاروں سے کیا تعلق ٹانکے لگے ہوئے ہیں بوسیدہ پیرہن میں سنتے ہیں اب وہاں بھی چھائی ہوئی ہے ظلمت ہم تو چراغ جلتے چھوڑ آئے تھے وطن میں کچھ اتنے مختلف ہیں احباب جب…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ بنتا نہیں ہے حسنِ ستم گر شباب میں
بنتا نہیں ہے حسنِ ستم گر شباب میں ہوتے ہیں ابتدا ہی سے کانٹے گلاب میں جلوے ہوئے نہ جذب رخِ بے نقاب میں کرنیں سمٹ کے آ نہ سکیں آفتاب میں بچپن میں یہ سوال قیامت کب آئے گی بندہ نواز آپ کے عہدِ شباب میں صیاد آج میرے نشیمن کی خیر ہو بجلی قفس پہ ٹوٹتی دیکھی ہے خواب میں آغازِ شوقِ دید میں اتنی خطا ہوئی انجام پر نگاہ نہ کی اضطراب میں اب چھپ رہے ہو سامنے آ کر خبر بھی ہے تصویر کھنچ گئی نگہِ…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ حکم بے سوچے جو سرکار دیے دیتے ہیں
حکم بے سوچے جو سرکار دیے دیتے ہیں کیوں مجھے جرأتِ گفتار دیے دیتے ہیں خانہ بربادوں کو سائے میں بٹھانے کے لیے آپ گرتی ہوئے دیوار دیئے دیتے ہیں عشق اور ابروئے خم دار کا اس دل کے سپرد آپ دیوانے کو تلوار دیے دیتے ہیں آپ اک پھول بھی دیں گے تو اس احسان کے ساتھ جیسے گلزار کا گلزار دیے دیتے ہیں
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ یہ نا ممکن ہے ہو تیرا ستم مجھ سے عیاں کوئی
یہ نا ممکن ہے ہو تیرا ستم مجھ سے عیاں کوئی وہاں فریاد کرتا ہوں نہیں ہوتا جہاں کوئی شکایت وہ نہ کرنے دیں یہ سب کہنے کی باتیں ہیں سرِ محشر کسی کی روک سکتا ہے زباں کوئی عبث ہے حشر کا وعدہ ملے بھی تم تو کیا حاصل یہ سنتے ہیں کہ پہچانا نہیں جاتا وہاں کوئی انھیں دیر و حرم میں جب کبھی آواز دیتا ہوں پکار اٹھتی ہے خاموشی: نہیں رہتا یہاں کوئی لحد میں چین دم بھر کو کسی پہلو نہیں ملتا قمر ہوتا ہے…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہ
ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہ عیاں سورج ہوا وقتِ سحر آہستہ آہستہ چٹک کر دی صدا غنچہ نے شاخِ گل کی جنبش پر یہ گلشن ہے ذرا بادِ سحر آہستہ آہستہ قفس میں دیکھ کر بازو اسیر آپس میں کہتے ہیں بہارِ گل تک آ جائیں گے پر آہستہ آہستہ کوئی چھپ جائے گا بیمارِ شامِ ہجر کا مرنا پہنچ جائے گی ان تک بھی خبر آہستہ آہستہ غمِ تبدیلیٔ گلشن کہاں تک پھر یہ گلشن ہے قفس بھی ہو تو بن جاتا ہے گھر آہستہ…
Read More