ممکن ہے کوئی موج ہو ساحل ادھر نہ ہو اے نا خدا کہیں یہ فریبِ نظر نہ ہو یہ تو نہیں کہ آہ میں کچھ بھی اثر نہ ہو ممکن ہے آج رات کوئی اپنے گھر نہ ہو تاروں کی سیر دیکھ رہے ہیں نقاب سے ڈر بھی رہے ہیں مجھ پہ قمر کی نظر نہ ہو
Read MoreTag: استاد قمر جلالوی
استاد قمر جلالوی ۔۔۔ لحد والے امیدِ فاتحہ اور تجھ کو قاتل سے
لحد والے امیدِ فاتحہ اور تجھ کو قاتل سے کہیں ڈوبی ہوئی کشتی ملا کرتی ہے ساحل سے یہ تم نے کیا کہا مجھ پر زمانہ ہے فدا دل سے ہزاروں میں وفا والا ملا کرتا ہے دل سے نہ تھے جب آپ تو یہ حال تھا بیتابیِ دل سے کبھی جاتا تھا محفل میں کبھی آتا تھا محفل سے نگاہیں ان کی دیکھیں دیکھ کر یہ کہہ دیا دل سے جو تو بیٹھا تو فتنے سینکڑوں اٹھیں گے محفل سے دلوں میں آگئے جب فرق تو جاتے نہیں دل…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی
مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی گریباں پاؤں میں ہوتا گلے میں آستیں ہوتی مشیت اے بتو، اللہ کی خالی نہیں ہوتی خدائی تم نہ کر لیتے اگر دنیا حسیں ہوتی پسِ مردن مجھے تڑپانے والے دل یہ بہتر تھا تری تربت کہیں ہوتی مری تربت کہیں ہوتی اثر ہے کس قدر قاتل تری نیچی نگاہوں کا شکایت تک خدا کے سامنے مجھ سے نہیں ہوتی ہمیشہ کا تعلق اور اس پر غیر کی محفل یہاں تو پردہ پوشِ چشمِ گریاں آستیں ہوتی نہ رو اے بلبلِ…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ کسی کو دل مجھے دینا تو ناگوار نہیں
کسی کو دل مجھے دینا تو ناگوار نہیں مگر حضور زمانے کا اعتبار نہیں وہ آئیں فاتحہ پڑھنے اب اعتبار نہیں کہ رات ہو گئی دیکھا ہوا مزار نہیں کفن ہٹا کے وہ منہ بار بار دیکھتے ہیں ابھی انھیں مرے مرنے کا اعتبار نہیں
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ کریں گے شکوۂ جورو جفا دل کھول کر اپنا
کریں گے شکوۂ جورو جفا دل کھول کر اپنا کہ یہ میدانِ محشر ہے نہ گھر ان کا نہ گھر اپنا مکاں دیکھا کیے مڑ مڑ کے تا حدِ نظر اپنا جو بس چلتا تو لے آتے قفس میں گھر کا گھر اپنا بہے جب آنکھ سے آنسو بڑھا سوزِ جگر اپنا ہمیشہ مینہ پرستے میں جلا کرتا ہے گھر اپنا پسینہ، اشکِ حسرت، بے قراری، آخری ہچکی اکھٹا کر رہا ہوں آج سامانِ سفر اپنا یہ شب کا خواب یا رب فصلِ گل میں سچ نہ ہو جائے قفس…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ قطعہ
یہ مانا برق کے شعلے مرا گھر پھونک کر جاتے مگر کچھ حادثے پھولوں کے اوپر بھی گزر جاتے مرے کہنے سے گر اے ہم قفس خاموش ہو جاتا نہ تیرے بال و پَر جاتے نہ میرے بال و پر جاتے
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ مجھ پر ہے یہ نزع کا عالم اور
مجھ پر ہے یہ نزع کا عالم اور پھر سوچ لو باقی تو نہیں کوئی ستم اور ہے وعدہ خلافی کے علاوہ بھی ستم اور گر تم نہ خفا ہو تو بتا دیں تمھیں ہم اور یہ مئے ہے ذرا سوچ لے اے شیخِ حرم اور تو پہلے پہل پیتا ہے کم اور ارے کم اور وہ پوچھتے ہیں دیکھئے یہ طرفہ ستم اور کس کس نے ستایا ہے تجھے ایک تو ہم اور وہ دیکھ لو احباب لیے جاتے ہیں میت لو کھاؤ مریضِ غم فرقت کی قسم اور…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ ڈھونڈنے پر بھی نہ دل پایا گیا
ڈھونڈنے پر بھی نہ دل پایا گیا سوچتا ہوں کون کون آیا گیا بت کے میں نے مدتوں کھائے فریب بارہا کعبہ میں بہکایا گیا ناصحا میں یہ نا سمجھا آج تک کیا سمجھ کر مجھ کو سمجھایا گیا
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔
داستاں اوراقِ گل پر تھی مجھی ناشاد کی بلبلوں نے عمر بھر میری کہانی یاد کی مجھ سے روٹھا ہے خودی دیکھو بتِ جلاد کی مدعا یہ ہے کہ کیوں اللہ سے فریاد کی قبر ٹھوکر سے مٹا دی عاشقِ ناشاد کی یہ بھی اک تاریخ تھی ظالم تری بیداد کی کیا ملے دیکھیں اسیروں کو سزا فریاد کی آج کچھ بدلی ہوئی سی ہے نظر صیاد کی رات میں بلبل تجھے سوجھی تو ہے فریاد کی آنکھ سوتے سے نہ کھل جائے کہیں صیاد کی آگیا ان کو رحم…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ توبہ کیجے اب فریبِ دوستی کھائیں گے کیا
توبہ کیجے اب فریبِ دوستی کھائیں گے کیا آج تک پچھتا رہے ہیں اور پچھتائیں گے کیا خود نہ سمجھے ذبح ہونے والے سمجھائیں گے کیا بات پہنچے گی کہاں تک آپ کہلائیں گے کیا بزمِ کثرت میں یہ کیوں ہوتا ہے ان کا انتظار پردۂ وحدت سے باہر نکل آئیں گے کیا کل بہار آئے گی یہ سن کر قفس بدلو نہ تم رات بھر میں قیدیوں کے پر نکل آئیں گے کیا اے دلِ مضطر انھیں باتوں سے چھوٹا تھا چمن اب ترے نالے قفس سے بھی نکلوائیں…
Read More