استاد قمر جلالوی ۔۔۔ ہم خیالِ قیس ہوں ہم مشربِ فرہاد ہوں

ہم خیالِ قیس ہوں، ہم مشربِ فرہاد ہوں حسن اتنا سوچ لے: دو بیکسوں کی یاد ہوں پاشکستہ، دل حزیں، شوریدہ سر، برباد ہوں سر سے لے کر پاؤں تک فریاد ہی فریاد ہوں حالِ گلشن کیا ہے اے نوواردِ کنجِ قفس میں تو مدت سے اسیرِ خانۂ صیاد ہوں خیریت سن لی گل و غنچے کی لیکن اے صبا یاد ہیں مجھ کو تو سب، میں بھی کسی کو یاد ہوں تم سرِ محفل جو چھیڑو گے، مجھے پچھتاؤ گے جس کو سن سکتا نہیں کوئی میں وہ فریاد…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ سرِ شام تجھ سے ملنے ترے در پہ آ گئے ہیں

سرِ شام تجھ سے ملنے ترے در پہ آ گئے ہیں یہ وہیں ہیں لوگ شاید جو فریب کھا گئے ہیں میں اگر قفس سے چھوٹا تو چلے گی باغباں سے جہاں میرا آشیاں تھا وہاں پھول آ گئے کوئی ان سے جا کہ کہہ دے سرِ بام پھر تجلی جنہیں کر چکے ہو بے خود انھیں ہوش آ گئے ہیں یہ پتہ بتا رہے ہیں رہِ عشق کے بگولے کہ ہزاروں تم سے پہلے یہاں خاک اڑا گئے ہیں شبِ ہجرِ شمع گل ہے مجھے اس سے کیا تعلق…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ دل انھیں کیا دیا قرار نہیں

دل انھیں کیا دیا قرار نہیں عشق کو حسن ساز گار نہیں دل کے اوپر نگاہِ یار نہیں تیر منت کشِ شکار نہیں اب انھیں انتظار ہے میرا جب مجھے ان کا انتظار نہیں شکوۂ بزمِ غیر ان سے عبث اب انھیں اپنا اعتبار نہیں منتظر شام کے رہو نہ قمر ان کے آنے کا اعتبار نہیں

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ کچھ تو کہہ دے کیا کریں اے ساقیِ مے خانہ ہم

کچھ تو کہہ دے کیا کریں اے ساقیِ مے خانہ ہم اپنی توبہ توڑ دیں یا توڑ دیں پیمانہ ہم دل عجب شے ہے یہ پھر کہتے ہیں آزادانہ ہم چاہے جب کعبہ بنا لیں چاہے جب بت خانہ ہم داستانِ غم پہ وہ کہتے ہیں یوں ہے یوں نہیں بھول جاتے ہیں جو دانستہ کہیں افسانہ ہم اپنے در سے آ جائے ساقی ہمیں خالی نہ پھیر مے کدے کی خیر ہو آتے نہیں روزانہ ہم مسکرا دیتا ہے ہر تارا ہماری یاد پر بھول جاتے ہیں قمر اپنا…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔۔ کیونکر رکھو گے ہاتھ دلِ بے قرار پر

کیونکر رکھو گے ہاتھ دلِ بے قرار پر میں تو تہِ مزار ہوں تم ہو مزار پر یہ دیکھنے، قفس میں بنی کیا ہزار پر نکہت چلی ہے دوشِ نسیم بہار پر گر یہ ہی جور و ظلم رہے خاکسار پر منہ ڈھک کے روئے گا تو کسی دن مزار پر ابرو چڑھے ہوئے ہیں دلِ بے قرار پر دو دو کھنچی ہوئی ہیں کمانیں شکار پر رہ رہ گئی ہیں ضعف سے وحشت میں حسرتیں رک رک گیا ہے دستِ جنوں تار تار پر شاید چمن میں فصلِ بہاری…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔

حسن سے رسوا نہ ہو گا اپنے دیوانے کا نام شمع رو دے گی مگر نہ لے گی پروانے کا نام ہو گئی توبہ کو اک مدت کسے اب یاد ہے اصطلاحاً ہم نے کیا رکھا تھا پیمانے کا نام میتِ پروانہ بے گور و کفن دیکھا کئے اہلِ محفل نے لیا لیکن نہ دفنانے کا نام یہ بھی ہے کوئی عیادت دو گھڑی بیٹھے نہ وہ حال پوچھا چل دیے گھر کر گئے آنے کا نام لاکھ دیوانے کھلائیں گل چمن کہہ دے گا کون عارضی پھولوں سے بدلے…

Read More