استاد قمر جلالوی ۔۔۔ حرم کی راہ کو نقصان بت خانے سے کیا ہوگا

حرم کی راہ کو نقصان بت خانے سے کیا ہوگا خیالاتِ بشر میں انقلاب آنے سے کیا ہوگا کسے سمجھا رہے ہیں آپ سمجھانے سے کیا ہوگا بجز صحرا نوردی اور دیوانے سے کیا ہوگا ارے کافر سمجھ لے انقلاب آنے سے کیا ہوگا بنا کعبہ سے بت خانہ تو بت خانے کو کیا ہوگا نمازی سوئے مسجد جا رہے ہیں شیخ ابھی تھم جا نکلتے کوئی دیکھے گا جو مے خانے سے کیا ہوگا خدا آباد رکھے میکدہ یہ تو سمجھ ساقی ہزاروں بادہ کش ہیں ایک پیمانے سے…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ نہ روکی برق تو نے آشیاں بدلے چمن بدلے

نہ روکی برق تو نے آشیاں بدلے چمن بدلے یہ کب کے لے رہا ہے ہم سے اے چرخِ کہن بدلے محبت ہو تو جوئے شِیر کو اِک ضرب کافی ہے کوئی پوچھے کہ تو نے کتنے تیشے کوہکن بدلے سہولت اس سے بڑھ کر کارواں کو اور کیا ہو گی نئی راہیں نکل آئیں پرانے راہزن بدلے ہوا آخر نہ ہمسر کوئی ان کے روئے روشن کا تراشے گل بھی شمعوں کے چراغِ انجمن بدلے لباس نَو عدم والوں کو یوں احباب دیتے ہیں کہ اب ان کے قیامت…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی

آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی وہ تو وہ ان کے فرشتوں کو خبر ہو جائے گی پوری کیا موسیٰؑ تمنا طور پر ہو جائے گی تم اگر اوپر گئے نیچی نظر ہو جائے گی کیا ان آہوں سے شبِ غم مختصر ہو جائے گی یہ سحر ہونے کی باتیں ہیں سحر ہو جائے گی ؟ آ تو جائیں گے وہ میری آہِ پر تاثیر سے محفلِ دشمن میں رسوائی مگر ہو جائے گی کس سے پوچھیں گے وہ میرے رات کے مرنے کا حال…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی

بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی مگر یہ عدو کی زبانی سنا ہے بڑی مشکلوں سے تمہیں نیند آئی شبِ وعدہ اول تو آتے نہیں تھے جو آئے بھی تو رات ایسی گنوائی کبھی رات کو تم نے گیسو سنوارے کبھی رات کو تم نے مہندی لگائی گلہ بے وفائی کا کس سے کریں ہم ہمارا گلہ کوئی سنتا نہیں ہے خدا تم کو رکھے جوانی کے دن ہیں تمھارا زمانہ تمھاری خدائی ہر اک نے دیے میرے اشکوں پہ طعنے…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی

غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی تمھیں رستے میں رہبر چھوڑ دیں گے قافلے والو اگر ہمت تمھاری دوریٔ منزل سے ٹوٹے گی نگاہِ قیس ٹکراتی رہے گی سارباں کب تک یہ بندش بھی کسی دن پردۂ محمل سے ٹوٹے گی غرورِ نا خدائی سامنے آ جائے گا اک دن یہ کشتی یک بہ یک ٹکرا کے جب ساحل سے ٹوٹے گی قمر اختر شماری کے لئے تیار ہو جاؤ کہ اب رسمِ محبت اس مہِ کامل…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ استاد قمر جلالوی

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے پہلے کوئی شے حق نے نہ اَصلا دیکھیخُوب  جب دیکھ لیا تجھ کو تو دنیا دیکھی تو نے قبل از دو جہاں شانِ تجلیٰ دیکھیعرش سجتا ہوا ،بنتی ہوئی دنیا دیکھی تیرے سجدے سے جھکی سارے رسولوں کی جبیںسب نے اللہ کو مانا  ،تری دیکھا دیکھی میزباں ،خالقِ کو نین بنا خود تیراتیری توقیر سرِ عرشِ معلٰی دیکھی آپ چپ ہو گئے ارمانِ زیارت سن کرمیری حالت پہ نظر کی نہ تمنا دیکھی حق کے دیدار کی بابت  جو کہا فرمایااِک…

Read More

استاد قمر جلالوی

موسیٰ سے ضرور آج کوئی بات ہوئ ہے جاتے میں قدم اور تھے آتے میں قدم اور

Read More